امینہ کا کہنا ہے کہ مرد امیدوار اکثر طالبات سے رابطہ کرکے انہیں ’بہن‘ کہہ کر پکارتے ہیں اور اپنے کسی ’بھائی‘ کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہیں۔ لیکن جب کسی خاتون کو قیادت کا موقع دینے یا طلبہ یونین میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی بات آتی ہے تو یہی جذبہ نظر نہیں آتا۔ وہ اس سوچ کو بدلنا چاہتی ہیں۔ ان کے بقول وہ مرد اور خواتین دونوں طلبہ سے یکساں طور پر رابطہ کر رہی ہیں اور انہیں اپنے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جس طرح وہ دوسرے امیدواروں کی بہنوں سے حمایت چاہتے ہیں اسی طرح انہیں بھی اپنی بہن کی حمایت کرنی چاہیے۔
لکھنؤ سے تعلق رکھنے والی امینہ نے ابتدائی تعلیم بریلی کے ایئر فورس اسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے آنرز کے ساتھ گریجویشن کیا۔ 2018 میں ان کا داخلہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوا جہاں انہوں نے 2020 میں معاشیات میں ایم اے مکمل کیا۔ بعد ازاں وہ دوبارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہو گئیں۔ اب وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تحقیقی طالبہ کی حیثیت سے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امینہ کے مطابق طلبہ یونین کے صدر کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ محض ایک عہدہ حاصل کرنے کی خواہش کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے یونیورسٹی کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ کارفرما ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں بہت کچھ دیا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ اس ادارے اور یہاں زیر تعلیم طالبات کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں۔
قابل ذکر ہے کہ 1920 میں یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے اب تک طلبہ یونین کی صدارت کسی خاتون کو نہیں ملی۔ چودہ سال قبل ایک خاتون نے اس عہدے کے لیے انتخاب لڑا تھا لیکن کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی۔ امینہ کی کوشش ہے کہ اس طویل روایت کو بدل کر خواتین کے لیے قیادت کے نئے راستے کھولے جائیں۔
امینہ ارشاد کی انتخابی مہم صرف خواتین کی نمائندگی تک محدود نہیں بلکہ وہ یونیورسٹی میں طلبہ کے بنیادی مسائل حل کرنے اور طلبہ یونین کو مضبوط بنانے کی بھی حامی ہیں۔ وہ کیمپس میں پولیس کی غیر ضروری مداخلت کی مخالفت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کی مضبوط نمائندہ تنظیم نہ ہونے کے باعث یونیورسٹی کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس ضمن میں وہ علی گڑھ نگر نگم کے ہاتھوں یونیورسٹی کی زمین ضائع ہونے کا معاملہ بھی اٹھاتی ہیں۔
ان کے انتخابی منشور میں تعلیمی معیار کی بہتری اور قومی اہلیتی امتحان (نیٹ) کی مفت کوچنگ کا انتظام شامل ہے۔ وہ ہاسٹلوں کی منصفانہ تقسیم اور زیر التوا پرچوں والے طلبہ کے امتحانات جلد کرانے کے ساتھ طبی معاونت کے ڈگری کورسز کی رجسٹریشن بھی چاہتی ہیں۔ خواتین کے ہاسٹلوں میں خاتون عملے کی تعیناتی اور کھانے کے معیار میں بہتری کے علاوہ مزید ہاسٹلوں کی تعمیر بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔امینہ کا کہنا ہے کہ وہ گروہ بندی اور علاقائی تعصب کے بجائے طلبہ کے مسائل پر مبنی قیادت چاہتی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ طلبہ ذاتی تعلقات اور گروہی سیاست سے بالاتر ہوکر تبدیلی کی حمایت کریں گے۔ ان کے مطابق انہیں طالبات کے ساتھ طلبہ کی جانب سے بھی حوصلہ افزا حمایت مل رہی ہے۔
طلبہ یونین میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین میں گزشتہ برسوں کے دوران خواتین کی شرکت میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن صدارت کا عہدہ اب تک ان کی پہنچ سے باہر رہا ہے۔ 2012 میں ارم خان نے صدر کے عہدے کے لیے نامزدگی داخل کی تھی تاہم وہ انتخاب جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔2016 میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہوئی جب غزالہ احمد اور لبیبہ شیروانی سمیت تین خواتین نے یونین کی دس رکنی کابینہ میں جگہ بنائی۔اس سال کے انتخابات میں بھی خواتین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نمایاں ہے۔ صدر کے عہدے کے لیے امینہ ارشاد میدان میں ہیں جبکہ نائب صدر کے عہدے پر دو خواتین امیدوار قسمت آزما رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دس رکنی کابینہ کے لیے بھی خواتین کی قابل ذکر تعداد نے نامزدگیاں داخل کی ہیں۔
تقریباً 22 ہزار طلبہ ووٹر
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تقریباً 22 ہزار طلبہ ووٹر ہیں جبکہ ویمنز کالج میں ووٹروں کی تعداد 4500 ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے 2026-27 کے تعلیمی سیشن کے لیے طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کی ذمہ داری شعبۂ قانون کے پروفیسر جاوید طالب کو بطور چیف الیکشن آفیسر سونپی ہے۔وہیں ویمنز کالج کی انڈر گریجویٹ طلبہ یونین کے انتخابات کی نگرانی کے لیے شعبۂ انگریزی کی پروفیسر نازیہ حسن کو چیف الیکشن آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔پروفیسر جاوید طالب کے دفتر سے جاری پریس نوٹ کے مطابق طلبہ یونین کی روایت کے تحت تمام امیدواروں کی آخری انتخابی تقاریر 3 نومبر بروز منگل منعقد ہوں گی۔ اس موقع پر تقریروں کا موضوع ’قومی تعمیر میں طلبہ قیادت کا کردار‘ رکھا گیا ہے۔