بشیر ہاٹ میں 347 سال پرانی ڈاکٹر باڑی کی درگا پوجا- ہندو مسلم ہم آہنگی کی روایت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 07-10-2026
بشیر ہاٹ  میں 347 سال پرانی ’’ڈاکٹر باڑی کی درگا پوجا‘‘، منفرد مورتی اور ہندو مسلم ہم آہنگی کی روایت
بشیر ہاٹ میں 347 سال پرانی ’’ڈاکٹر باڑی کی درگا پوجا‘‘، منفرد مورتی اور ہندو مسلم ہم آہنگی کی روایت

 



بشیرہاٹ: مغربی بنگال کے بشیرہاٹ کے دندی ہاٹ علاقے میں بوس خاندان کی تقریباً 347 سال پرانی درگا پوجا آج بھی اپنی تاریخی روایت، منفرد مورتی اور ہندو مسلم ہم آہنگی کے لیے مشہور ہے۔ مقامی طور پر اسے ’’ڈاکٹر باڑی کی درگا پوجا‘‘ کہا جاتا ہے۔

دسہرے کے دن دیوی درگا کی مورتی کے وسرجن کے لیے نکالا جانے والا جلوس ایک مخصوص مسلم خاندان کے گھر کے سامنے رک جاتا ہے۔ یہاں مورتی کو کچھ دیر کے لیے نیچے رکھا جاتا ہے اور مسلم خاندان کے افراد گھر سے باہر آ کر دیوی کو آخری سلام پیش کرتے اور الوداع کہتے ہیں۔ ماضی میں وسرجن سے قبل مورتی کے ڈھانچے کو کھولنے کی ذمہ داری بھی ایک مسلم پڑوسی کو سونپی جاتی تھی۔

’’ڈاکٹر باڑی ‘‘ نام کیسے پڑا؟

بوس خاندان کے اس گھر کو ’’ڈاکٹر باڑی ‘‘ یعنی ڈاکٹر کا گھر اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس خاندان میں 19ویں صدی کے معروف طبیب ڈاکٹر جگ بندھو بوس پیدا ہوئے تھے۔ وہ صرف ایک ممتاز ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ ماہرِ تعلیم اور سماجی مصلح بھی تھے۔

انہوں نے کلکتہ میڈیکل کالج سے امتیازی نمبروں کے ساتھ طب کی تعلیم مکمل کی اور 1863 میں کلکتہ یونیورسٹی سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران انہوں نے معروف ڈاکٹر مہندر لال سرکار کے ساتھ بھی تعلیم حاصل کی۔

جگ بندھو بوس کلکتہ میڈیکل اسکول کے شریک بانی اور اس کے پہلے صدر تھے، جو بعد میں آر جی کر میڈیکل کالج میں تبدیل ہوا۔ 1895 میں انہوں نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف بنگال کے پہلے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

اگرچہ اب اس گھر میں ڈاکٹر جگ بندھو بوس جیسی شہرت رکھنے والے طبیب موجود نہیں، لیکن ’’ڈاکٹر باڑی ‘‘ کا نام آج بھی برقرار ہے۔

تھیٹر اور ادب کی شخصیات بھی یہاں آتی تھیں

ڈاکٹر باڑی کے روایتی ٹھاکردالان یعنی رسمی صحن میں درگا پوجا کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بنگال کے ادبی اور تھیٹر سے وابستہ کئی معروف شخصیات اس خاندان کے ٹھاکردالان میں آیا کرتی تھیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ درگا پوجا محض ایک خاندانی مذہبی تقریب تک محدود نہیں رہی بلکہ علاقے کی سماجی اور ثقافتی تاریخ کا بھی اہم حصہ بن گئی۔

درگا کی منفرد مورتی

اس درگا پوجا کی سب سے نمایاں خصوصیت دیوی درگا کی منفرد مورتی ہے، جو عام درگا مورتیوں سے خاصی مختلف نظر آتی ہے۔

دیوی کے دس بازو ہیں، لیکن ان میں سے آٹھ نسبتاً چھوٹے جبکہ سامنے کے دو بازو بڑے اور پھیلے ہوئے ہیں۔ مقامی طور پر مورتی کی اس مخصوص ساخت کو ’’کولار چھوڑا‘‘ یعنی کیلے کے گچھے جیسی مورتی کہا جاتا ہے۔

اس منفرد انداز کے پیچھے ایک قدیم روایت بھی بیان کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پوجا کے ابتدائی دور میں ایک کبوتر نے ٹھاکردالان میں رکھی مورتی کے ایک ہاتھ کو نقصان پہنچا دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد خاندان کی بزرگ خاتون کو ایک الہامی خواب یا بصیرت ہوئی، جس میں انہیں بتایا گیا کہ دیوی کی مورتی کس انداز میں بنائی جائے۔

خاندان نے اس ہدایت پر عمل کیا اور اس کے بعد آنے والی نسلوں نے مورتی کی اس منفرد شکل کو آج تک محفوظ رکھا ہے۔

ساڑھے تین صدیوں بعد بھی روایت برقرار

تین صدیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یہ روایت آج بھی زندہ ہے۔ مورتی اب بھی روایتی ایک چالہ یعنی ایک ہی پس منظر والے فریم کے انداز میں تیار کی جاتی ہے۔

وقت کے ساتھ کاریگر تبدیل ہوئے اور نئی نسل کے فنکاروں نے مورتی بنانا شروع کیا، لیکن دیوی کی منفرد شکل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پوجا کے دنوں میں مقامی لوگ بوس خاندان کے ٹھاکردالان میں صرف درگا کے درشن کے لیے نہیں آتے بلکہ ایک زندہ تاریخی روایت کا مشاہدہ کرنے بھی پہنچتے ہیں۔

خاندان کے رکن پارتھ گھوش نے کہا، ’’ہماری پوجا تین صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ ہم نے معروف طبیب ڈاکٹر جگ بندھو بوس کی میراث اور اس الہامی بصیرت سے سامنے آنے والی مورتی کی مخصوص شکل کو پوری وفاداری کے ساتھ محفوظ رکھا ہے۔ تاہم اس پوجا کی اصل طاقت باہمی ہم آہنگی ہے۔ ٹھاکردالان سے لے کر وسرجن گھاٹ تک گاؤں کے لوگ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ذات یا مذہب سے ہو، اس پوجا کو اپنا تہوار سمجھتے ہیں۔‘‘

مسلم خاندان کے گھر پر رک جاتا ہے وسرجن جلوس

دسہرے کے دن بوس خاندان اور ایک مقامی مسلم خاندان کے درمیان طویل عرصے سے قائم تعلق کی عکاسی کرنے والی ایک خصوصی روایت ادا کی جاتی ہے۔

خاندان کے بزرگوں کے مطابق ماضی میں وسرجن سے پہلے مورتی کے ڈھانچے کو کھولنے کا مخصوص کام ایک مقامی مسلم پڑوسی انجام دیا کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ اس روایت میں تبدیلی آئی، لیکن دونوں خاندانوں کے درمیان قائم تعلق آج بھی برقرار ہے۔

آج بھی دسہرے کی دوپہر جب دیوی درگا کی مورتی کو کندھوں پر اٹھا کر وسرجن کے لیے لے جایا جاتا ہے تو جلوس ایک مخصوص مسلم خاندان کے گھر کے سامنے رک جاتا ہے۔ مورتی کو کچھ دیر کے لیے نیچے رکھا جاتا ہے اور مسلم خاندان کے افراد اپنے گھر کی دہلیز پر کھڑے ہو کر دیوی کو آخری سلام پیش کرتے اور الوداع کہتے ہیں۔

یہ روایت صرف اسی ایک گھر تک محدود نہیں۔ وسرجن گھاٹ پہنچنے سے پہلے مورتی کو گاؤں کے چند دیگر مخصوص مقامات پر بھی روکا جاتا ہے۔ مقامی خواتین وہاں سندور لگاتی ہیں، مٹھائیاں پیش کرتی ہیں اور دیوی کو الوداع کہتی ہیں۔

یوں یہاں وسرجن کا جلوس محض مورتی کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جانے کی رسم نہیں بلکہ پورے گاؤں کے جذبات اور مشترکہ روایت کا سفر بن جاتا ہے۔

نہ سیاسی مداخلت، نہ نمائش کا مقابلہ—’’ڈاکٹر باڑی کی درگا پوجا‘‘ آج بھی ڈاکٹر جگ بندھو بوس کی میراث، الہامی بصیرت سے جڑی منفرد مورتی اور ایسی سماجی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے جہاں لوگ مذہبی حدود سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔