ترون نندی، کولکاتا
مغربی بنگال کے ضلع ہوگلی کے علاقے خاناکُل کی محض 5 ماہ اور 21 دن کی ننھی عنایہ افروز نے 12 سیاہ و سفید تصویری کارڈز کی شناخت کرکے عالمی ریکارڈ میں اپنا نام درج کرا لیا ہے۔ عنایہ کی اس کامیابی سے نہ صرف اس کا خاندان بلکہ پورا علاقہ خوشی سے جھوم اٹھا ہے۔ ابھی اس ننھی پری نے ٹھیک سے بولنا بھی نہیں سیکھا اور نہ ہی اپنے ننھے قدموں پر چل سکتی ہے لیکن تصویروں کو پہچاننے کی صلاحیت نے سب کو حیران کردیا ہے۔ عالمی ریکارڈ میں نام درج ہونے کے بعد گھر سے لے کر محلے تک جشن کا ماحول ہے۔ لوگ اس کامیابی کو بچپن میں سیکھنے اور نئی چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت کی ایک دلچسپ مثال قرار دے رہے ہیں۔
عنایہ افروز ضلع ہوگلی کے خاناکُل علاقے میں واقع پولے نمبر 2 گرام پنچایت کے تحت سائ بونا اُتر پاڑا میں رہتی ہے۔ خاندان کے مطابق اس نے صرف 5 ماہ اور 21 دن کی عمر میں 12 سیاہ و سفید تصویری کارڈز کی شناخت کرکے یہ اعزاز حاصل کیا۔ اس کامیابی کو بک آف ورلڈ ریکارڈز نے ’12 سیاہ و سفید تصویری کارڈز کی شناخت کرنے والی سب سے کم عمر بچی‘ کے زمرے میں تسلیم کیا ہے۔ اس اعزاز کا سرٹیفکیٹ اور تمغہ بھی ڈاک کے ذریعے عنایہ کے گھر پہنچ چکا ہے۔

خاندان کے افراد کے مطابق اس کامیابی میں عنایہ کی والدہ صابنور سلطانہ کی مسلسل محنت اور توجہ کا اہم کردار رہا ہے۔ جب عنایہ صرف 3 ماہ کی تھی تو اس کی والدہ نے اسے مختلف تصویریں دکھانا شروع کیں۔ کبھی جانوروں اور پرندوں کی تصاویر دکھائی جاتیں تو کبھی چھتری اور گھوڑے کی تصویروں سے اسے روشناس کرایا جاتا۔ سیاہ و سفید تصویری کارڈز کے ذریعے اسے رفتہ رفتہ مختلف چیزوں کی پہچان کرائی گئی۔ اس مشق کے دوران جب عنایہ نے تصویروں میں دلچسپی دکھائی تو اس کی والدہ نے اس سرگرمی کو مزید باقاعدگی سے جاری رکھا۔ سیکھنے کے ان لمحات کو کیمرے میں محفوظ کیا گیا اور عالمی ریکارڈ کے لیے متعلقہ ادارے کو بھیجا گیا۔
بالآخر خاندان کو اس محنت کا خوشگوار نتیجہ ملا اور چند ماہ کی بچی کی صلاحیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی خبر گھر تک پہنچ گئی۔ عنایہ کے والد شیخ ناجس افروز روزگار کے سلسلے میں کیرالا میں رہتے ہیں۔ بیٹی سے دور ہونے کے باوجود اس کی کامیابی کی خبر نے انہیں خوشی سے سرشار کردیا۔ خاندان کے مطابق عنایہ میں بہت کم عمری سے ہی نئی چیزوں کو پہچاننے اور سیکھنے میں دلچسپی دکھائی دینے لگی تھی۔ اس کی والدہ کی باقاعدہ مشق اور حوصلہ افزائی کو اس کامیابی کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ شیخ ناجس افروز بھی جلد گھر واپس آکر اپنی ننھی بیٹی کے ساتھ وقت گزارنے کے منتظر ہیں۔

بچوں کی نشوونما کے ماہرین کے مطابق ابتدائی عمر میں بچوں کے سیکھنے کے عمل کو سمجھنے کے لیے والدین کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے اور ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ بچے اپنی نشوونما کے ابتدائی مراحل ہی سے نئی چیزوں کو جاننے اور پہچاننے میں دلچسپی دکھانے لگتے ہیں۔ خاندان کی محبت اور عمر کے مطابق نئی چیزوں سے روشناس کرانے کا عمل ان کی سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر ماحول فراہم کرتا ہے۔
خاناکُل کی ننھی عنایہ افروز نے اپنی اس کامیابی سے یہ پیغام دیا ہے کہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کا سفر کم عمری میں بھی شروع ہوسکتا ہے۔ جب بچوں کی فطری دلچسپی کو والدین کی توجہ اور محبت کا ساتھ ملتا ہے تو ان کی صلاحیتوں کو نکھرنے کے بہتر مواقع میسر آتے ہیں۔ عنایہ کا یہ اعزاز اس کے خاندان کے لیے خوشی کا باعث ہونے کے ساتھ علاقے کے لوگوں کے لیے بھی فخر اور مسرت کا لمحہ بن گیا ہے۔