حوثی کون ہیں؟ یمن کی طویل جنگ کی پوری کہانی

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 23-09-2026
حوثی کون ہیں؟ یمن کی طویل جنگ کی پوری کہانی
حوثی کون ہیں؟ یمن کی طویل جنگ کی پوری کہانی

 



منصور الدین فریدی : آواز دی وائس

 حوثی ایک یمنی سیاسی اور مسلح تحریک ہیں جن کی جڑیں زیدی شیعہ روایت میں ہیں۔ لیکن ان کی موجودہ شناخت صرف مذہبی نہیں ہے۔ وہ ایک سیاسی تحریک بھی ہیں۔ ایک مسلح تنظیم بھی ہیں اور یمن میں ایک اہم طاقت کا مرکز بھی۔ان کی کہانی شمالی یمن کی زیدی برادریوں سے شروع ہوئی۔ یہ مذہبی بیداری۔ سیاسی کشمکش۔ مسلح بغاوت۔ خانہ جنگی اور علاقائی مداخلت کے مختلف مراحل سے گزری۔ سعودی عرب کے ساتھ حوثیوں کے تنازع کو صرف سنی شیعہ کشمکش کے طور پر نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس کی جڑیں یمن کی داخلی سیاسی کشمکش۔ شمالی اور جنوبی یمن کی تاریخی تقسیم۔ علاقائی رقابت اور مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ کے لیے جاری وسیع تر مقابلے میں بھی پیوست ہیں۔

برسوں کی جنگ کے بعد بھی یمن کی اس کہانی کا کوئی آسان اختتام ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔ شمالی یمن میں زیدی مذہبی بیداری کی ایک تحریک سے لے کر ملک کے بڑے حصے پر اثر رکھنے والی طاقتور مسلح تنظیم تک حوثی آج مشرق وسطیٰ کے اہم ترین فریقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن آخر حوثی کون ہیں؟ ان کے مذہبی عقائد کیا ہیں؟ یہ تحریک کیسے وجود میں آئی؟ سعودی عرب کے ساتھ تباہ کن جنگ میں یہ کیوں شامل ہوئی؟ اور یہ تنازع اتنے برسوں سے جاری کیوں ہے؟ اس رپورٹ میں ڈالیں گے نظر

حوثی کون ہیں؟

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ حوثی کسی مذہبی فرقے کا نام نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر یمن کی زیدی شیعہ برادری سے ابھرنے والی ایک سیاسی اور مسلح تحریک ہے۔ اس تحریک کا سرکاری نام انصار اللہ ہے جس کا مطلب ہے اللہ کے مددگار۔ حوثی نام شمالی یمن کے حوثی خاندان سے نکلا ہے۔ اس تحریک کے ابتدائی اہم رہنماؤں میں حسین بدرالدین الحوثی نمایاں تھے۔ حسین الحوثی 2004 میں یمنی حکومت کی فوج کے ساتھ لڑائی کے دوران مارے گئے۔ ان کی ہلاکت ایک اہم موڑ ثابت ہوئی اور اس کے بعد یہ تحریک بتدریج ایک مسلح شورش میں تبدیل ہوتی گئی۔

حوثیوں کی جڑیں شمالی یمن کی ان زیدی برادریوں میں ہیں جو صدیوں سے وہاں آباد ہیں۔ زیدیت شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے۔ تاہم اس کے مذہبی اور فقہی نظریات بارہ امامی شیعہ اسلام سے کئی اہم معاملات میں مختلف ہیں۔ بارہ امامی شیعہ اسلام ایران اور عراق سمیت کئی ممالک میں شیعوں کی اکثریت کے درمیان رائج ہے۔ اس کے ساتھ ہی زیدی مذہبی اور فقہی روایت کے بعض پہلو سنی مسلمانوں کی روایت سے بھی مشابہت رکھتے ہیں۔

زیدی شیعہ روایت کیسے وجود میں آئی؟

حوثیوں کو سمجھنے کے لیے زیدیت کی تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے۔ سنی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان تاریخی تقسیم کا ایک اہم موضوع پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد قیادت کا مسئلہ ہے۔ وقت کے ساتھ شیعہ اسلام کے مختلف مکاتب فکر نے ائمہ کی جانشینی کے بارے میں الگ الگ نظریات اختیار کیے۔زیدی روایت اپنی مذہبی نسبت زید بن علی سے جوڑتی ہے جو امام حسین کے پوتے تھے۔

امام زین العابدین کے بعد ان کے جانشین کے مسئلے پر اختلاف پیدا ہوا۔ ایک گروہ نے ان کے صاحبزادے محمد باقر کو امام تسلیم کیا جبکہ دوسرے گروہ نے ان کے دوسرے صاحبزادے زید بن علی کی پیروی کی۔ زید بن علی کے پیروکار بعد میں زیدی کہلائے۔ زیدی روایت نے بعد میں بارہ امامی شیعہ روایت سے الگ راستہ اختیار کیا۔ ایک اہم فرق یہ ہے کہ زیدی شیعہ بارہ امامی شیعوں کی طرح بارہ ائمہ کی اسی ترتیب اور تصور کو تسلیم نہیں کرتے۔

حوثی بارہ امامی شیعوں سے مختلف کیوں ہیں؟

حوثیوں کو عام طور پر زیدی شیعہ تحریک کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن صرف انہیں شیعہ کہنا اس روایت کے اندر موجود اہم فرق کو واضح نہیں کرتا۔ زیدیت کے اپنے مذہبی اور فقہی نظریات ہیں۔ تاریخی طور پر زیدی فکر کے بعض پہلو سنی فقہی روایات سے بھی بارہ امامی شیعہ طریقوں کے مقابلے میں زیادہ قریب رہے ہیں۔جدید حوثی نظریات روایتی زیدی مذہبی تعلیمات تک محدود نہیں ہیں۔ اس تحریک میں زیدی مذہبی ورثے کے ساتھ سیاسی بیداری اور ان عناصر کی مخالفت بھی شامل ہے جنہیں حوثی حامی غیر ملکی اثر و رسوخ اور سیاسی محرومی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی لیے حوثی تحریک کو ایران کے بارہ امامی شیعہ سیاسی نظام کی محض ایک اور شاخ کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ایران نے حوثیوں کو اہم فوجی اور دیگر نوعیت کی مدد فراہم کی ہے۔ تاہم حوثی اور ایران شیعہ اسلام کے ایک ہی مکتب فکر سے تعلق نہیں رکھتے۔ دونوں کے تعلقات میں سیاسی اور تزویراتی پہلو بھی شامل ہیں۔

یمن میں زیدی اقتدار کب ختم ہوا؟

شمالی یمن میں زیدی سیاسی اقتدار کئی صدیوں تک قائم رہا۔ آخری زیدی امام محمد البدر تھے۔ 1962 میں ایک جمہوری انقلاب کے نتیجے میں زیدی امامت کا خاتمہ ہوگیا اور یمن میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ یہ تنازع جلد ہی خطے میں جاری وسیع سرد جنگ کا بھی حصہ بن گیا۔ مصر نے جمہوری قوتوں کی حمایت کی جبکہ سعودی عرب نے شاہی قوتوں کا ساتھ دیا۔سیاسی تقسیم کے نتیجے میں بالآخر یمن دو الگ ریاستوں میں تقسیم ہوگیا۔ شمالی یمن یمن عرب جمہوریہ بن گیا جبکہ جنوبی یمن نے سوویت یونین کی مضبوط حمایت کے ساتھ ایک سوشلسٹ ریاست کی شکل اختیار کرلی۔

شمالی اور جنوبی یمن متحد کیسے ہوئے؟

کئی دہائیوں تک شمالی اور جنوبی یمن سیاسی طور پر الگ رہے۔ علی عبداللہ صالح 1978 میں شمالی یمن کے صدر بنے۔ سوویت یونین کے کمزور ہونے کے بعد خطے کی سیاسی صورت حال میں بھی تبدیلی آنے لگی۔ 1990 میں شمالی اور جنوبی یمن متحد ہوکر جمہوریہ یمن بن گئے اور علی عبداللہ صالح متحدہ یمن کے پہلے صدر بنے۔لیکن اتحاد کے باوجود یمن کی سیاسی اور علاقائی تقسیم ختم نہیں ہوئی۔ 1994 میں جنوبی یمن میں علیحدگی کی کوشش کے نتیجے میں ایک اور تنازع پیدا ہوا۔ سیاسی کشیدگی کئی برس تک جاری رہی اور یمن کی یہی داخلی تقسیم آگے چل کر حوثی تحریک کے ابھرنے کے لیے حالات پیدا کرنے والی اہم وجوہات میں شامل ہوئی۔

حوثی تحریک کیسے شروع ہوئی؟

جدید حوثی تحریک کی جڑیں شمالی یمن میں زیدی مذہبی اور ثقافتی بیداری کی تحریک میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ علی عبداللہ صالح کے دور میں زیدی برادری کے بعض حلقوں میں یہ احساس بڑھتا گیا کہ انہیں سیاسی اور سماجی طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ حسین بدرالدین الحوثی ایک اہم مذہبی اور سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے۔1990 کی دہائی میں زیدی برادری کے درمیان مذہبی تعلیم۔ ثقافتی بیداری اور سیاسی سرگرمیوں کے گرد ایک تحریک منظم ہونا شروع ہوئی۔ ابتدا میں تحریک کا زور مذہبی شعور اور سیاسی بیداری پر تھا لیکن حکومت صالح کے ساتھ اس کے تعلقات بتدریج خراب ہوتے گئے۔ 2003 کے بعد حسین الحوثی نے صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات پر زیادہ سخت تنقید شروع کردی۔ سیاسی کشیدگی بالآخر مسلح تصادم میں تبدیل ہوگئی۔

پہلی حوثی جنگ

سال 2004 میں یمنی حکومت کی فوج اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی۔ حسین الحوثی اسی تنازع کے دوران مارے گئے لیکن ان کی ہلاکت سے تحریک ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بجائے ان کے پیروکاروں نے مسلح مزاحمت جاری رکھی۔ 2004 سے 2010 کے درمیان یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان کئی مرتبہ لڑائی ہوئی۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق اس عرصے کے دوران حوثیوں نے صالح حکومت کے خلاف 6 مرتبہ جنگ لڑی۔ ان تنازعات نے بتدریج حوثی تحریک کو مذہبی اور ثقافتی بیداری کی تحریک سے ایک طاقتور مسلح تنظیم میں تبدیل کردیا۔

عرب بہار نے یمن کو کیسے بدلا؟

پھر آیا 2011۔ عرب بہار یمن تک پہنچ گئی اور عوامی مظاہروں نے علی عبداللہ صالح کی حکومت کو چیلنج کیا۔ بالآخر صالح نے اقتدار چھوڑ دیا اور ان کے نائب صدر عبدربہ منصور ہادی خلیجی تعاون کونسل اور اقوام متحدہ کی حمایت سے ہونے والی سیاسی منتقلی کے تحت صدر بن گئے۔لیکن یہ سیاسی منتقلی یمن کے بنیادی مسائل حل نہ کرسکی۔ ملک سیاسی جماعتوں۔ قبائلی گروہوں۔ فوجی دھڑوں۔ جنوبی علیحدگی پسندوں۔ القاعدہ اور تیزی سے طاقتور ہوتی حوثی تحریک کے درمیان تقسیم رہا۔ سیاسی منتقلی کا عمل مسلسل کمزور ہوتا گیا۔

حوثیوں نے صنعا پر قبضہ کیسے کیا؟

بحران 2014 میں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا۔ حوثیوں نے اپنے زیر اثر علاقوں میں توسیع کی اور ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعا میں داخل ہوگئے۔ اس دوران سابق صدر علی عبداللہ صالح سے وابستہ فوجی یونٹوں اور سیاسی قوتوں نے بھی حوثیوں کا ساتھ دیا۔اقوام متحدہ نے صنعا پر حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کے قبضے کو یمن کے سیاسی بحران کا ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ اس کے بعد حوثیوں نے سرکاری اداروں پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا اور اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔ صدر ہادی بالآخر صنعا سے فرار ہوکر عدن پہنچ گئے۔ اس کے بعد حوثیوں نے جنوبی یمن کی جانب اپنی فوجی پیش قدمی جاری رکھی۔

سعودی عرب جنگ میں کیوں شامل ہوا؟

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ آخر سعودی عرب حوثیوں کے خلاف جنگ میں کیوں شامل ہوا؟ مارچ 2015 میں صدر ہادی نے علاقائی طاقتوں سے فوجی مدد طلب کی۔ اس کے بعد سعودی عرب نے ایک فوجی اتحاد قائم کیا اور 26 مارچ 2015 کو یمن میں فوجی کارروائیاں شروع کردیں۔ اس کارروائی کا مقصد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرنا تھا۔سعودی عرب کے لیے حوثیوں کا ابھرنا صرف یمن کا داخلی معاملہ نہیں تھا۔ حوثی شمالی یمن میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے تھے اور یہ علاقہ سعودی عرب کی سرحد کے قریب ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی حوثیوں کو ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھ رہے تھے۔ ایران نے حوثیوں کو فوجی اور دیگر نوعیت کی مدد فراہم کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حوثیوں کے اپنے سیاسی۔ قبائلی اور داخلی مفادات بھی ہیں۔ اسی لیے بعض تجزیہ کار حوثیوں کو ایک مقامی یمنی تحریک قرار دیتے ہیں جس نے ایران کے ساتھ قریبی تزویراتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ انہیں محض ایران کی بنائی ہوئی تنظیم قرار دینا اس پیچیدہ تعلق کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔

حوثی اور علی عبداللہ صالح۔ دشمن سے اتحادی تک

اس کہانی میں ایک اور اہم موڑ بھی آیا۔ علی عبداللہ صالح نے صدر رہتے ہوئے حوثیوں کے خلاف کئی مرتبہ جنگ لڑی تھی لیکن اقتدار سے علیحدگی کے بعد سیاسی صورت حال بدل گئی۔ صالح اور ان کے حامیوں نے صدر ہادی کے خلاف حوثیوں کے ساتھ ایک عارضی سیاسی اور فوجی اتحاد قائم کرلیا۔ اس اتحاد نے حوثیوں کو اپنی فوجی طاقت بڑھانے میں مدد دی اور صنعا پر ان کے قبضے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔لیکن یہ اتحاد زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔ 2017 میں صالح نے حوثیوں سے دوری اختیار کرنے اور سعودی قیادت والے اتحاد کے قریب جانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد حوثی جنگجوؤں نے انہیں ہلاک کردیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ یمن کی جنگ میں سیاسی اتحاد کتنی تیزی سے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔

  ایسی جنگ جس نے یمن کو تباہ کردیا

سعودی قیادت میں فوجی مداخلت نے یمن کے سیاسی بحران کو ایک بڑے علاقائی تنازع میں تبدیل کردیا۔ اتحادی طیاروں نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو نشانہ بنایا جبکہ حوثیوں نے جواب میں سعودی عرب کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔وقت کے ساتھ یہ جنگ اپنے ابتدائی فریقوں سے آگے بڑھ گئی اور کئی دیگر مسلح گروہ بھی اس میں شامل ہوگئے۔ ان میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے وابستہ قوتیں۔ جنوبی علیحدگی پسند۔ قبائلی ملیشیائیں اور جزیرہ نما عرب میں القاعدہ شامل تھے۔ اس لیے یمن میں کبھی صرف دو فریقوں کے درمیان جنگ نہیں رہی بلکہ کئی تنازعات اور طاقت کی مختلف کشمکشیں ایک ساتھ چلتی رہیں۔اس تنازع کی سب سے بڑی قیمت عام یمنی شہریوں نے ادا کی ہے۔ برسوں کی جنگ نے اسپتالوں۔ اسکولوں۔ سڑکوں۔ پانی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ لاکھوں یمنی شہریوں کو انسانی امداد کی ضرورت پیش آئی اور لاکھوں افراد بے گھر بھی ہوئے۔اقوام متحدہ یمن کو ایک طویل انسانی۔ سیاسی اور ترقیاتی بحران کا شکار ملک قرار دیتا ہے۔ تنازع کے مختلف فریقوں کی کارروائیوں سے عام شہری متاثر ہوئے ہیں۔ جنگ نے خوراک کی قلت۔ معاشی تباہی اور بنیادی عوامی خدمات کی بربادی میں بھی اضافہ کیا ہے۔ عام یمنی شہریوں کے لیے یہ تنازع صرف سیاسی رہنماؤں کے درمیان اقتدار کی جنگ نہیں رہا بلکہ اس نے ان کی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔

حوثی اب بھی کیوں لڑ رہے ہیں؟

حوثی تحریک نے شمالی یمن میں ایک طاقتور سیاسی اور فوجی ڈھانچہ قائم کرلیا ہے۔ اس کی قیادت یمن کے سیاسی مستقبل میں مرکزی کردار چاہتی ہے اور ایسے سیاسی انتظامات کو مسترد کرتی ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ وہ تحریک کو کمزور یا نظرانداز کرسکتے ہیں۔سعودی عرب اور اس کے اتحادی سعودی یمنی سرحد پر سلامتی اور ایسے سیاسی حل کی کوشش کرتے رہے ہیں جو حوثیوں کی فوجی طاقت سے پیدا ہونے والے خطرے کو محدود کرسکے۔ ایران کی حمایت نے بھی اس تنازع کو ایک اضافی علاقائی پہلو دیا ہے۔ دوسری طرف یمن اب بھی مختلف سیاسی اور فوجی قوتوں میں تقسیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنازع کا حل اتنا مشکل ثابت ہوا ہے۔حوثیوں کی کہانی اب صرف یمن تک محدود نہیں رہی۔ حالیہ برسوں میں اس تحریک نے بحیرہ احمر میں بھی اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور مشرق وسطیٰ کے وسیع تر تنازع سے جڑے حملے کیے ہیں۔ ان حملوں نے بین الاقوامی بحری تجارت کو متاثر کیا ہے اور حوثیوں کو یمن کی سرحدوں سے کہیں آگے اہمیت رکھنے والی طاقتبنا دیا ہے۔بحیرہ احمر ایک ایسا اہم محاذ بن چکا ہے جہاں حوثی تحریک کی فوجی صلاحیتوں نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔

کیا یہ صرف سنی شیعہ جنگ ہے؟

نہیں۔ فرقہ وارانہ شناخت اس تنازع کا ایک پہلو ضرور ہے لیکن اس سے پوری جنگ کی وضاحت نہیں ہوتی۔ اس تنازع میں یمن کی مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان مقابلہ۔ علاقائی کشمکش۔ قبائلی اتحاد۔ شمالی اور جنوبی یمن کی تاریخی تقسیم۔ سیاسی منتقلی کی ناکامی اور علاقائی طاقتوں کی باہمی رقابت سب شامل ہیں۔حوثیوں نے یمن کے اندر سنی سیاسی اور قبائلی گروہوں سے بھی جنگ کی ہے۔ دوسری طرف انہیں ایران کی حمایت حاصل رہی ہے۔ سعودی عرب نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کی اور حوثیوں کے خلاف جنگ لڑی۔ اس لیے یہ تنازع ایک طرف یمن کی داخلی سیاست سے جڑا ہے اور دوسری طرف علاقائی طاقت کی سیاست سے بھی۔ پوری جنگ کو صرف سنی اور شیعہ کشمکش قرار دینا یمن کی پیچیدہ سیاسی تاریخ کے ایک بڑے حصے کو نظرانداز کرنا ہوگا۔