بشیر بدر نے مشاعرے کی مقبولیت کے ساتھ جدید غزل میں بھی منفرد مقام حاصل کیا: پروفیسر احمد محفوظ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 01-10-2026
بشیر بدر نے مشاعرے کی مقبولیت کے ساتھ جدید غزل میں بھی منفرد مقام حاصل کیا: پروفیسر احمد محفوظ
بشیر بدر نے مشاعرے کی مقبولیت کے ساتھ جدید غزل میں بھی منفرد مقام حاصل کیا: پروفیسر احمد محفوظ

 



نئی دہلی: معروف شاعر بشیر بدر نے مشاعروں کی دنیا میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کرنے کے ساتھ جدید غزل میں بھی اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری کو محض مشاعروں کی مقبولیت تک محدود نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ انھوں نے غزل کے فن میں بھی نمایاں ادبی مقام حاصل کیا۔

یہ بات معروف نقاد اور شاعر پروفیسر احمد محفوظ نے اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام بشیر بدر کی یاد میں منعقدہ توسیعی خطبے کے دوران کہی۔

پروفیسر احمد محفوظ نے کہا کہ بشیر بدر تقریباً 75 برس تک مشاعروں اور جدید شاعری کی دنیا میں اپنی نمایاں حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ ان کی مقبولیت کا ایک اہم سبب یہ بھی تھا کہ انھیں نہ صرف شعر کہنے بلکہ اپنے کلام کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کا فن بھی حاصل تھا۔ انھوں نے کہا کہ شعر کہنا اور شعر پڑھنا دو الگ فن ہیں اور ہر شاعر کو ان دونوں پر یکساں قدرت حاصل نہیں ہوتی، لیکن بشیر بدر ان دونوں صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ادبی حلقوں کے ساتھ عوام میں بھی غیر معمولی مقبولیت رکھتے تھے۔

پروفیسر احمد محفوظ نے مزید کہا کہ کسی شعر کی ادبی قدر کا تعین صرف اس کی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ محض عوامی پسندیدگی کسی شعر کو اعلیٰ درجے کی شاعری قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ شاعری اور کلامِ موزوں کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر موزوں کلام اعلیٰ درجے کی شاعری نہیں ہوتا۔ انھوں نے جدید غزل کے معروف شاعر محمد علوی کے ایک نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد علوی نے فراق گورکھپوری اور ناصر کاظمی کے بعد بشیر بدر کو غزل کا اہم شاعر قرار دیا تھا۔ یہ رائے ان کے شعری مقام اور ادبی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

یہ توسیعی خطبہ 29 ستمبر 2026 کو اردو اکادمی، دہلی کے قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک خصوصی ادبی پروگرام کے دوران پیش کیا گیا۔ بشیر بدر کی یاد میں منعقدہ اس پروگرام میں توسیعی خطبے کے ساتھ شعری نشست کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے رکن محمد ہارون مہمانِ خصوصی تھے، جب کہ معروف شاعر طالب رامپوری نے پروگرام کی صدارت کی۔ معروف شاعر ڈاکٹر شفیع ایوب نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

پروگرام کے آغاز میں اردو اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کیے اور بشیر بدر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے چند اشعار بھی سنائے۔ انھوں نے کہا کہ بشیر بدر کی ادبی خدمات ایسی ہیں جنھیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اردو زبان کی وسعت اور معنویت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اردو محبت کی زبان ہے اور اس کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے اس کے ادبی سرمائے کا مطالعہ ضروری ہے۔ انھوں نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اردو اکادمی سے وابستگی کے بعد انھیں اردو زبان و ادب کو قریب سے جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا۔

مہمانِ خصوصی محمد ہارون نے اپنے خطاب میں کہا کہ بشیر بدر اردو شاعری کا ایسا معروف نام ہیں جن سے اردو سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی آشنا ہے۔ انھوں نے اردو اکادمی کی سرگرمیوں اور اس کے عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکادمی اردو زبان کی ترقی اور ترویج کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔

انھوں نے دہلی حکومت کی جانب سے اردو کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اردو زبان کی ترقی کے لیے سنجیدہ ہے اور اردو اساتذہ کی تقرری کے علاوہ اردو اسکولوں سے متعلق مسائل پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ محمد ہارون نے کہا کہ بشیر بدر کی یاد میں منعقدہ یہ نشست ایک اہم ادبی کوشش ہے، تاہم ان کے ادبی مقام اور خدمات کے پیش نظر ان کی یاد میں مزید بڑے پیمانے پر پروگرام منعقد کیے جانے چاہییں، تاکہ انھیں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔

شعری نشست کے آغاز سے قبل روایتی انداز میں شمع روشن کی گئی۔ اس موقع پر طالب رامپوری، محمد ہارون، پروفیسر احمد محفوظ اور دیگر شعرا نے شمع افروزی کی۔ اس کے بعد معروف شاعر شکیل جمالی نے شعری نشست کی نظامت سنبھالی اور مختلف شعرا کو اپنا کلام پیش کرنے کی دعوت دی۔ شعرا نے اپنے منتخب اشعار پیش کیے، جنھیں سامعین نے خوب سراہا۔

شعری نشست میں صدرِ محفل طالب رامپوری نے اپنے صدارتی خطاب میں بشیر بدر کی شاعری اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اچھے شاعر تو بہت سے ہوتے ہیں، لیکن ایک شاعر کے لیے اچھا انسان ہونا بھی ضروری ہے۔ بشیر بدر میں یہ دونوں خوبیاں موجود تھیں۔ انھوں نے اپنے ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بشیر بدر طلبہ اور نوجوانوں میں بھی بے حد مقبول تھے۔ ان کے اشعار جس بڑی تعداد میں لوگوں کو زبانی یاد ہیں، وہ بہت کم شعرا کے حصے میں آنے والی سعادت ہے۔

طالب رامپوری نے بشیر بدر کی زبان و بیان کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے فارسی آمیزش سے گریز کرتے ہوئے عام فہم اور سادہ زبان میں غزلیں کہیں۔ ان کی شاعری کی روانی اور دل نشینی نے اردو غزل کو ایک نئی مقبولیت عطا کی اور انھیں عوام و خواص دونوں میں مقبول بنایا۔

اس موقع پر شعرا نے بشیر بدر کو منظوم خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔ طالب رامپوری نے کہا:

سب کے پیارے بشیر بدر کے نام
یاد برسوں رہے گی ایسی شام

شکیل جمالی نے اپنے اشعار میں عمر کے تجربات اور خوابوں کی دنیا کو بیان کیا:

اب عمر جھلکنے لگی چہرے سے ہمارے
خوابوں سے کہو جائیں علاقے سے ہمارے

شاہد انور نے علم و فن اور گفتگو کی اہمیت کو اپنے شعر میں یوں پیش کیا:

گفتگو ثابت کرے گی علم و فن کی آبرو
آبرو محفوظ رکھتی ہے ہماری گفتگو

خالد اخلاق نے اپنے شعر میں تخیل اور جذبات کی دل کش عکاسی کی:

تیرے خیال سے دلچسپیاں بناتے ہیں
ورق پہ دل کے چلو تتلیاں بناتے ہیں

فرید احمد فرید نے بشیر بدر کی جدائی کے احساس کو ان الفاظ میں بیان کیا:

جسے دیکھا وہی بس رو رہا تھا
جدا جو بدر ہم سے ہو رہا تھا

اقبال فردوسی نے بھی اپنے اشعار کے ذریعے بشیر بدر کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا:

کس قدر سوگوار کرکے ہمیں وہ کلیجہ ہمارا چیر گئے
کیا بتائیں کہ دل پہ کیا گزری، دارِ فانی سے جب بشیر گئے

آلوک یادو نے نئی نسل اور قلم کی بقا کے حوالے سے کہا:

نئی نسلوں کے ہاتھوں میں بھی تابندہ رہے گا
میں مل جاؤں گا مٹی میں، قلم زندہ رہے گا

انا دہلوی نے اردو زبان کے تحفظ اور اس کے مستقبل کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا:

لفظ کاغذ پہ سجائیں گے سجانے والے
سوچنا چھوڑ دے اردو کو مٹانے والے

پروگرام میں ڈاکٹر خالد علوی، پروفیسر شاہ عالم، ڈاکٹر محمد آصف زہری، معین شاداب، سلام الدین خان، عارف دہلوی، شاکر دہلوی، منیر ہمدم، ڈاکٹر نثار احمد، ڈاکٹر خالد رضا خان، سابق کونسلر سید نثار احمد، حبیب سیفی، ڈاکٹر شاہنواز فیاض، ڈاکٹر محمد مقیم، سہیل انجم، ڈاکٹر شمیم اختر اور یامین منظر سمیت متعدد اہلِ علم و ادب اور طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر بی جے پی دہلی اسٹیٹ اقلیتی مورچہ کے کارکنان بھی موجود تھے۔

اردو اکادمی کی جانب سے مہمانوں کو گلدستے پیش کیے گئے، جب کہ شریک شعرا کا گلاب کے پھولوں سے استقبال کیا گیا۔ ڈاکٹر شفیع ایوب نے پروگرام کے تمام مراحل کو خوش اسلوبی سے مربوط رکھا۔

بشیر بدر کی یاد میں منعقدہ اس ادبی نشست میں ان کی شاعری کے فنی محاسن، مشاعروں میں ان کی غیر معمولی مقبولیت، جدید غزل میں ان کے مقام اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مقررین اور شعرا نے اپنے خیالات اور کلام کے ذریعے اس بات کو اجاگر کیا کہ بشیر بدر کی شاعری نے ادبی حلقوں کے ساتھ عام قارئین اور نوجوان نسل میں بھی اپنی جگہ بنائی۔ اس طرح یہ پروگرام ان کی شعری و ادبی خدمات کو یاد کرنے اور اردو غزل میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع ثابت ہوا۔