خون کا رشتہ نہیں تھا، مگر 14 سال کی رفاقت نے مالک مکان کو زبیر کا سرپرست بنا دیا؛ دوستوں نے بھی بھائیوں کی طرح آخری سفر میں ساتھ دیا
احمد نگر: مہاراشٹر کے اہلیہ نگر میں انسانیت، ہندو مسلم بھائی چارے اور باہمی محبت کی ایک ایسی مثال سامنے آئی ہے جو آج کے دور میں امید کی کرن دکھاتی ہے۔ یہاں ایک ہندو مالک مکان نے اپنے 14 سالہ کرایہ دار اور یتیم مسلمان نوجوان زبیر شیخ کی نہ صرف آخری رسومات کا انتظام کیا بلکہ اسے اس کے مذہب کے مطابق پورے احترام کے ساتھ سپرد خاک بھی کروایا۔
سویدی کے گنیش چوک علاقے میں رہنے والے زبیر موسیٰ شیخ گزشتہ 14 برس سے چچا شیلکے کے گھر کرائے پر رہ رہے تھے۔ زبیر کو اپنے حیاتیاتی والدین کے چہرے بھی یاد نہیں تھے۔ ان کا بیشتر بچپن جنر کے ایک یتیم خانے میں گزرا۔ 18 برس کی عمر مکمل کرنے کے بعد وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے گھر سے باہر نکلا اور شیلکے کے گھر میں رہنے لگا۔
ابتدا میں وہ محض ایک کرایہ دار تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ شیلکے خاندان کا حصہ بن گیا۔ چچا شیلکے نے اس کی زندگی کی جدوجہد، تنہائی اور چہرے کی مسکراہٹ کو قریب سے دیکھا تھا۔
چند روز قبل زبیر کو سینے میں اچانک شدید درد کے باعث میکس کیئر اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں دل کا شدید دورہ پڑنے سے اس کا انتقال ہوگیا۔
سب سے بڑا سوال: زبیر کی لاش کون لے گا؟
پوسٹ مارٹم کے بعد ایک انتہائی تکلیف دہ سوال سامنے آیا کہ زبیر کی لاش وصول کون کرے گا؟ اس کا کوئی قریبی رشتہ دار موجود نہیں تھا۔ چنانچہ میونسپل کارپوریشن نے اسے لاوارث سمجھتے ہوئے تدفین کی کارروائی شروع کردی۔
جب یہ خبر چچا شیلکے تک پہنچی تو انہوں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر زبیر کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔
انہوں نے کہا کہ زبیر پیدائش کے وقت ہی یتیم ہوگیا تھا اور اس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ یتیم خانے میں گزارا، لیکن مرنے کے بعد اسے یتیم نہیں کہا جائے گا۔ خون کا رشتہ نہ ہونے کے باوجود وہ 14 برس تک ان کی آنکھوں کے سامنے زندگی کا حصہ رہا تھا، اس لیے اس کی آخری رسومات اس کے مذہب کے مطابق پورے احترام کے ساتھ ہونی چاہئیں۔
مذہب کا احترام، انسانیت کی جیت
چچا شیلکے نے فیصلہ کیا کہ زبیر کی آخری رسومات امردھام میں اس کی مذہبی روایات کے مطابق نہیں ہوسکتیں۔ چنانچہ صبح ساڑھے چھ بجے انہوں نے شاکر شیخ سے رابطہ کیا اور زبیر کی اسلامی طریقے سے تدفین کا انتظام کرنے کی درخواست کی۔
شاکر شیخ نے فوری طور پر بیلدار گلی کے راجو بھائی جاگیردار پڈوالے سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بھی اس یتیم نوجوان کو اس کے مذہب کے مطابق آخری الوداع دینے میں تعاون کیا۔
بعد ازاں احمد نگر یتیم خانہ و بورڈنگ کی جانب سے زبیر کی تدفین کے لیے کفن فراہم کیا گیا۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاش مسلمانوں کے قبرستان لے جائی گئی، جہاں کفن، نماز جنازہ اور تدفین اسلامی طریقے سے پورے احترام کے ساتھ عمل میں آئی۔
بچپن کے دوست بھی آخری سفر میں ساتھ
زبیر کے بچپن کے دوست بھی اس مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے رہے۔ جنر یتیم خانے میں اس کے ساتھ رہنے والے سنتوش گوپی ناتھ گھٹویسوی، سندیپ پرکاش واسکر، ستیش رام راؤ چوہان اور جناردن ستیش رائے بھی تدفین میں شریک ہوئے۔
یہ وہ دوست تھے جو زبیر کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر کھاتے، ایک ہی چھت کے نیچے بڑے ہوئے اور زندگی کے مشکل دنوں میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے رہے۔ زبیر کی قبر پر مٹی ڈالتے وقت ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ یہ آنسو زبیر کی زندگی بھر کی جدوجہد، تنہائی اور اپنے پن کی اس کمی کا اظہار تھے جسے اس کے دوستوں نے اپنے رشتے سے بھرنے کی کوشش کی۔
چچا شیلکے نے زبیر کے لیے والد کا کردار ادا کیا، جبکہ اس کے بچپن کے دوستوں نے بھائیوں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔
نفرت کے ماحول میں انسانیت کی روشن مثال
آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے فیروز شیخ نے بھی اس واقعے کو فیس بک پر شیئر کیا اور اسے موجودہ دور کے نفرت بھرے ماحول میں انسانیت کا چراغ روشن رکھنے والی مثال قرار دیا۔
چچا شیلکے، شاکر شیخ، راجو بھائی جاگیردار، یتیم خانے کے عہدیداروں اور زبیر کے دوستوں نے جس حساسیت اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی رشتے مذہب اور خون کے رشتوں سے بھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
زبیر اس دنیا سے رخصت ہوگیا، لیکن اس کے آخری سفر میں ایک ہندو سرپرست، مسلمان ساتھی اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے دوست جس طرح ایک خاندان بن کر کھڑے ہوئے، وہ سماج کے لیے محبت، باہمی احترام اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ایک روشن پیغام چھوڑ گیا۔