دیب کشور چکرورتی
یہ نوجوان ذیشان مجید تھا۔ اس نے زخمی شخص کو ہسپتال پہنچایا۔ بظاہر یہ ایک معمولی انسانی عمل تھا لیکن اسی واقعے نے ذیشان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ہسپتال پہنچنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ وہاں صرف ایک زخمی شخص ہی مدد کا محتاج نہیں تھا۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے بے شمار مریض اور ان کے اہل خانہ علاج کے ساتھ ساتھ بنیادی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کر رہے تھے۔
ہسپتال کے باہر بھوک کا منظر
سرکاری ہسپتال میں علاج کے اخراجات پورے کرتے کرتے بہت سے خاندانوں کی جمع پونجی ختم ہو جاتی ہے۔ جب دواؤں کے لیے رقم جمع کرنا مشکل ہو جائے تو کھانے کا انتظام بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہسپتال کے باہر انتظار کرتے مریضوں کے اہل خانہ کے چہروں پر تھکن بے بسی اور بھوک صاف دکھائی دیتی ہے۔
ذیشان کے مطابق این آر ایس ہسپتال میں یہی منظر دیکھ کر ان کے ذہن میں ضرورت مند مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا انتظام کرنے کا خیال آیا۔ یوں مئی 2018 میں ایک چھوٹی سی کوشش کا آغاز ہوا۔
ابتدا میں صرف 40 کھانے کے پیکٹ تیار کیے گئے۔ گھر میں کھانا پکایا گیا اور اپنی مدد آپ کے تحت اسے ضرورت مندوں تک پہنچایا گیا۔ کسی بڑے منصوبے یا وسیع وسائل کے بغیر شروع ہونے والی یہ کوشش وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی اور بعد میں اینٹی ہنگر اسکواڈ فاؤنڈیشن کی صورت اختیار کر گئی۔
تنظیم کی موجودہ معلومات کے مطابق خوراک کی تقسیم کے ساتھ تعلیم صحت خوراک کے تحفظ اور سماجی امداد کے شعبوں میں بھی کام کیا جا رہا ہے۔

ایک گرم کھانا صرف کھانا نہیں
ذیشان کی کہانی کو صرف کھانے کی تقسیم کے اعداد و شمار سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کام کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو ہسپتالوں کے باہر اپنے پیاروں کے علاج کے لیے دن رات انتظار کرتے ہیں۔
ایک ماں اپنے بیمار بچے کے پاس بیٹھی ہے۔ ایک باپ ہسپتال کی راہداری میں رات گزار رہا ہے۔ کسی خاندان کا فرد دور دراز گاؤں سے علاج کے لیے شہر پہنچا ہے اور کسی کے پاس دواؤں کے بعد کھانے کے لیے بھی رقم نہیں بچی۔
ایسے لوگوں کے لیے ایک گرم کھانا صرف خوراک نہیں ہوتا۔ یہ چند لمحوں کی راحت ہوتا ہے۔ یہ احساس ہوتا ہے کہ مشکل وقت میں کوئی ان کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
ذیشان نے اسی احساس کو اپنے کام کی بنیاد بنایا۔ میڈیا رپورٹس میں بھی ان کی اس کوشش کا ذکر سامنے آیا ہے۔ ہفتے کے اختتام پر وہ سرکاری ہسپتالوں کے باہر اپنی گاڑی میں گھر کا پکا ہوا کھانا لے کر پہنچتے اور مریضوں کے اہل خانہ میں مفت تقسیم کرتے رہے۔

وبا کے دنوں میں خدمت کا دائرہ وسیع ہوا
2020 میں وبا کے دوران جب ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ ہوا تو سڑکوں پر بے گھر اور بھوکے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ذیشان نے اس وقت بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ حفاظتی لباس پہن کر وہ ضرورت مندوں تک کھانا پہنچانے کے لیے باہر نکلتے رہے۔
ایک نوجوان کاروباری شخص کی حیثیت سے وہ اپنے مصروف معمول سے وقت نکال کر لوگوں کی مدد میں لگے رہے۔ ان کے لیے یہ محض ایک وقتی سرگرمی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی ذمہ داری بن چکی تھی جسے وہ مسلسل آگے بڑھانا چاہتے تھے۔
کھانے سے تعلیم اور صحت تک
وقت کے ساتھ اینٹی ہنگر اسکواڈ فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ تنظیم کی معلومات کے مطابق خوراک کی تقسیم کے علاوہ طبی امداد تعلیم بچوں کے لیے مختلف پروگرام خواتین اور بچیوں کی خودکفالت معذور افراد کی مدد اور قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیاں بھی اس کے کام کا حصہ ہیں۔
اس سفر کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ مدد حاصل کرنے والے افراد کی شناخت کے بجائے ان کی ضرورت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بھوک کسی مذہب کی محتاج نہیں اور بیماری بھی کسی مذہب کی پابند نہیں۔ ہسپتال کے باہر مدد کا منتظر شخص سب سے پہلے ایک ضرورت مند انسان ہے۔یہی سوچ ذیشان کے کام میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ تنظیم کا بنیادی پیغام بھی پوری انسانیت کو ایک اکائی کے طور پر دیکھنے پر زور دیتا ہے۔
آج بھی جاری ہے خدمت کا سفر
2026 میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق این آر ایس ہسپتال کے باہر کھانے اور پھلوں کی تقسیم کے ساتھ طبی امداد اور بچوں کے لیے خوراک کی فراہمی جیسے پروگرام بھی جاری ہیں۔
جون 2026 میں ذیشان نے سینٹ جوزف کالج کولکتہ کے طلبہ کے ساتھ ایک پروگرام میں مریضوں کے اہل خانہ اور دیگر ضرورت مند افراد میں کھانا اور پھل تقسیم کیے۔ اس کے علاوہ انسانیت کلینک کے ذریعے کم خرچ علاج اور ادویات کی فراہمی کے اقدامات کا بھی ذکر سامنے آیا ہے۔
ذیشان کے کام کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے بھوک کو صرف کھانے کی کمی کے طور پر نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق ایک خاندان جب علاج کے لیے آتا ہے تو اس کے پاس کھانے کے لیے رقم کیوں نہیں بچتی؟ کوئی بچہ تعلیم کیوں چھوڑنے پر مجبور ہوتا ہے؟ کسی خاندان کے لیے صحت اور روزگار ایک دوسرے سے کیسے جڑے ہوئے ہیں؟

بھوک کے پیچھے چھپی کہانی کو سمجھنے کی کوشش
اسی سوچ نے ذیشان کے کام کو کھانے کی تقسیم سے آگے بڑھایا۔ اینٹی ہنگر اسکواڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے شیئر کی گئی ایک مثال میں کولکتہ کی بارہویں جماعت کی ایک طالبہ کی تعلیمی مدد کا ذکر ہے۔ تنظیم کے مطابق طالبہ کا تعلق ایک واحد والدہ والے خاندان سے تھا اور معاشی مشکلات کے باعث اس کی تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ غربت کے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ خوراک کی کمی کے ساتھ تعلیم صحت آمدنی اور تحفظ کے مسائل بھی جڑے ہوتے ہیں۔ کسی ضرورت مند کو ایک وقت کا کھانا فراہم کرنا فوری مدد ہے لیکن اس کے حالات کو سمجھنا اور اسے مستقل بنیادوں پر آگے بڑھنے کا موقع دینا اس سے کہیں بڑا چیلنج ہے۔
کولکتہ کی سڑک پر رکنے والا نوجوان
کولکتہ کی سڑکوں پر ہر روز ہزاروں لوگ ایک دوسرے کے قریب سے گزرتے ہیں۔ کچھ کسی ضرورت مند کو دیکھ کر رک جاتے ہیں اور کچھ اپنی منزل کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ ذیشان مجید بھی ایک دن ایک زخمی شخص کو دیکھ کر رک گئے تھے۔ لیکن ان کا سفر وہیں ختم نہیں ہوا۔
ایک زخمی شخص کو ہسپتال پہنچانے سے شروع ہونے والی یہ کوشش آج بہت سے لوگوں تک خوراک طبی امداد تعلیم اور سماجی مدد پہنچانے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اینٹی ہنگر اسکواڈ فاؤنڈیشن کی بنیاد 2018 میں رکھی گئی تھی اور تنظیم کی موجودہ معلومات کے مطابق اس کی سرگرمیاں خوراک صحت تعلیم اور سماجی خودکفالت سمیت کئی شعبوں تک پھیل چکی ہیں۔
سماجی تبدیلی ہمیشہ بڑے پلیٹ فارم سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی یہ ہسپتال کے دروازے پر کسی بھوکے شخص کو کھانا دینے سے شروع ہوتی ہے۔ کبھی کسی مریض کے اہل خانہ کے ساتھ چند لمحے کھڑے ہونے سے اور کبھی کسی بچے کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد دینے سے۔
ذیشان مجید کی کہانی بھی ایسے ہی ایک لمحے سے شروع ہوئی تھی۔ شاید اس وقت انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایک زخمی شخص کو ہسپتال پہنچانے کا فیصلہ ان کی زندگی کا ایک طویل باب بن جائے گا۔لیکن بعض اوقات ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے۔ ایسا لمحہ جو انسان کو دوسروں کے دکھ کو دیکھنے اور پھر اس کے سامنے رکنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
ذیشان رک گئے۔ پھر انہوں نے صرف ایک شخص کی مدد تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ اس احساس کو ایک مسلسل سماجی خدمت میں تبدیل کر دیا۔ آج جب کسی ہسپتال کے باہر کسی بے سہارا شخص تک کھانا پہنچتا ہے تو اس کے ساتھ یہ پیغام بھی پہنچتا ہے کہ مشکل وقت میں انسان انسان کے کام آ سکتا ہے۔یہ صرف ایک نوجوان کی کہانی نہیں بلکہ کولکتہ کے اس انسانی چہرے کی کہانی بھی ہے جہاں مصروف سڑکوں کے درمیان کوئی کسی کے لیے رک جاتا ہے اور ایک چھوٹی سی مدد ایک طویل سفر کا آغاز بن جاتی ہے۔