سری نگر : آواز دی وائس
کشمیر کی دلکش وادیوں میں جھیلیں محض پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک انداز بھی ہیں۔ ڈل جھیل اور دریائے جہلم کے کناروں اور پانیوں سے جڑی ایک ایسی برادری آباد ہے جس کی زندگی صدیوں سے پانی کے ساتھ بہتی آئی ہے۔ یہ ہانجی برادری ہے۔ ایک ایسی برادری جس کی شناخت کشتیوں۔ ڈونگوں۔ شکاروں۔ گھروں اور جھیلوں سے وابستہ زندگی سے بنی ہے۔ کشمیر کی سیاحت اور معیشت میں بھی اس برادری کا ایک نمایاں کردار رہا ہے۔ہانجی کسے کہتے ہیں اور ان کا رشتہ پانی سے کب اور کیسے قائم ہوا۔ یہ سوال کشمیر کی تاریخ اور ثقافت کے گہرے صفحات سے جڑا ہوا ہے۔
عام طور پر جھیلوں۔ دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں یا ان کے آس پاس رہنے والے اور پانی سے وابستہ مختلف پیشوں سے زندگی گزارنے والے افراد کو ہانجی کہا جاتا ہے۔ نگین جھیل ہو۔ ڈل جھیل ہو یا کشمیر کا کوئی دوسرا آبی علاقہ۔ کشتی رانی اور پانی سے وابستہ زندگی گزارنے والوں کی اپنی ایک الگ شناخت رہی ہے۔
ہانجی برادری کے اندر بھی مختلف پیشوں کے اعتبار سے الگ الگ نام رائج رہے ہیں۔ جو لوگ گھروں جیسی کشتیوں اور سیاحوں سے وابستہ کام کرتے رہے انہیں الگ شناخت حاصل رہی۔ ڈونگوں میں رہنے والوں کی زندگی کا انداز جدا تھا۔ سامان اور راشن ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے والے کشتی بان بھی اس برادری کا حصہ تھے۔ ریت نکالنے والوں اور مچھلی پکڑنے والوں کی بھی اپنی الگ پہچان تھی۔ یوں ہانجی محض ایک نام نہیں بلکہ پانی سے وابستہ مختلف پیشوں اور زندگیوں کا ایک وسیع سماجی دائرہ ہے۔اس برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پیدائش ہی ایک ڈونگے میں ہوئی تھی۔ ڈونگا ایک ایسی کشتی ہوتی تھی جس میں خاندان آباد رہتے تھے اور ان کی پوری زندگی پانی پر گزرتی تھی۔ ان کے مطابق ہانجی ہونے کا سب سے بنیادی مطلب ہی پانی کے اوپر یا پانی سے جڑی زندگی گزارنا ہے۔


پانی پر آباد ایک تہذیب
ماضی میں کشمیر میں سڑکوں اور زمینی ذرائع آمدورفت کا وہ نظام موجود نہیں تھا جو آج نظر آتا ہے۔ اس وقت جھیلیں اور دریا آمدورفت اور تجارت کے اہم راستے تھے۔ بڑی کشتیاں ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک راشن۔ سبزیاں۔ چاول اور دوسری ضروری اشیا پہنچاتی تھیں۔ پانی کے راستوں نے کشمیر کے دیہات اور شہروں کو آپس میں جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔یہی وجہ تھی کہ ہانجی برادری کشمیر کی روزمرہ زندگی اور مقامی معیشت کا ایک اہم حصہ بن گئی۔ پانی ان کے لیے صرف رہنے کی جگہ نہیں تھا بلکہ ان کی روزی۔ سفر۔ تجارت اور تہذیبی شناخت کا بنیادی ذریعہ تھا۔
وقت کے ساتھ کشتیوں کی شکلیں اور ان کے استعمال بدلتے گئے۔ بعض کشتیاں خاندانوں کی رہائش کے لیے استعمال ہوتی تھیں اور بعض کو سیاحوں کی میزبانی کے لیے تیار کیا گیا۔ ایک رہائشی کشتی خاندان کے استعمال کے لیے ہوتی تھی جبکہ اس سے جڑی دوسری کشتی باورچی خانے اور روزمرہ ضروریات کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ سیاحوں کے لیے مخصوص کشتی الگ ہوتی تھی جہاں مہمان قیام کرتے تھے۔
کشتیوں سے کشمیر کی سیاحت تک
کشمیر میں سیاحت کے باقاعدہ فروغ سے بہت پہلے ہانجی سیاحوں کے لیے رہنما۔ میزبان۔ محافظ اور کشمیر کی کہانیاں سنانے والے بن چکے تھے۔ بیرون ملک سے آنے والے سیاح اکثر کشمیر کو ایک ہانجی کی آنکھ سے دیکھتے تھے۔ وہ گھروں جیسی کشتیوں میں قیام کرتے۔ کشمیری طرز زندگی کو قریب سے دیکھتے اور جھیلوں اور پانی سے وابستہ زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔
ہانجی برادری سے تعلق رکھنے والوں کے مطابق ماضی میں بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے ساتھ ان کا رشتہ محض میزبان اور مہمان کا نہیں ہوتا تھا۔ یہ تعلق برسوں تک قائم رہتا تھا۔ سیاح واپس اپنے ملکوں کو جانے کے بعد بھی رابطے میں رہتے۔ تہواروں کے موقع پر مبارک باد کے پیغامات اور کارڈ بھیجے جاتے اور کئی لوگ برسوں بعد دوبارہ کشمیر آتے تو اپنے پرانے میزبانوں کے پاس ہی قیام کرتے۔اس دور میں بیرون ملک سے آنے والے مہمان کشمیر سے شال۔ اخروٹ اور دوسری اشیا خریدتے اور بعض اوقات اپنے ملکوں سے تحفے بھی لاتے تھے۔ دونوں کے درمیان خط و کتابت اور اشیا کی ترسیل کے ذریعے ایک طویل تعلق قائم رہتا تھا۔
ہانجی برادری کے بزرگوں کو یاد ہے کہ ماضی کے سیاح صرف گھروں جیسی کشتیوں میں ٹھہرنے کے لیے نہیں آتے تھے۔ وہ کشمیری زندگی کو قریب سے دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے کہ پانی پر رہنے والے لوگ کیسے زندگی گزارتے ہیں۔ بچے کشتیوں کے ذریعے اسکول کیسے جاتے ہیں۔ خواتین کھانا کیسے بناتی ہیں اور ایسی جگہوں پر روزمرہ ضرورت کی اشیا کیسے پہنچتی ہیں جہاں بازار تک براہ راست رسائی نہیں ہوتی۔ایک وقت میں سیاحوں کی دلچسپی نے ہانجیوں کو رہنمائی اور پہاڑی سفر کے شعبے سے بھی جوڑ دیا۔ بیرون ملک سے آنے والے مہمان کشمیر کی وادیوں۔ پہاڑوں اور مقامی زندگی کو قریب سے دیکھنا چاہتے تھے۔ ہانجیوں نے ان کی رہنمائی کرتے ہوئے سیاحت کے نئے راستے تلاش کیے۔


کشتیوں میں بدلتی زندگی
ہانجی برادری کے مطابق ماضی میں بڑی بڑی کشتیوں کی تعمیر کے لیے جنگلات سے بڑے اور لمبے درخت لائے جاتے تھے۔ کشتیوں کی تعمیر ایک خاص فن تھا اور ان کے ڈھانچے میں استعمال ہونے والی لکڑی کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ پہلے جو مواد آسانی سے دستیاب تھا وہ اب مشکل سے ملتا ہے اور اسی وجہ سے کشتیوں کی تعمیر پر آنے والی لاگت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ایک ہانجی خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص نے بتایا کہ ان کے بزرگوں کے زمانے میں ایک بڑی رہائشی کشتی بہت کم رقم میں تیار ہو جاتی تھی لیکن آج اسی معیار کی کشتی کی تعمیر پر کئی کروڑ روپے خرچ ہو سکتے ہیں۔ان کے مطابق پہلے رہائشی کشتیوں اور سیاحوں کی کشتیوں کے درمیان واضح فرق ہوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہانجی برادری نے اپنے تجربے اور فنی مہارت سے کشتیوں کو سیاحوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالا۔ آہستہ آہستہ یہی کشتیاں کشمیر کی سیاحتی شناخت کا ایک اہم حصہ بن گئیں۔ماضی میں بعض گھروں جیسی کشتیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل بھی کیا جاتا تھا۔ بزرگوں کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے مہمان کئی ہفتوں یا مہینوں کے لیے قیام کرتے اور بعض اوقات اپنی پسند کی جگہ پر جانے کی خواہش ظاہر کرتے تھے۔ اس وقت کشتیوں کو پانی کے راستے ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جایا جاتا تھا۔ایک بزرگ کی یادوں میں بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کی میزبانی کا نقش آج بھی زندہ ہے۔ ان کے مطابق کھانے کی میز پر مختلف پکوان پیش کیے جاتے تھے۔ کشمیری قہوہ مہمانوں کی تواضع کا ایک اہم حصہ ہوتا تھا۔ میزبان اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ مہمانوں کو مکمل سکون ملے اور ان کے آرام میں کوئی خلل پیدا نہ ہو۔
نئی نسل اور بدلتی سوچ
ہانجی برادری سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ آمنہ نے کہا کہ کشمیر میں کاروبار اور سیاحت کے شعبے میں ہانجی برادری کا کردار اہم رہا ہے۔ ان کے مطابق گھروں جیسی کشتیوں کے مالکان طویل عرصے سے کشمیر کی سیاحت سے وابستہ رہے ہیں اور اب ہوٹلوں کا شعبہ بھی تیزی سے بڑھا ہے۔آمنہ کے مطابق ماضی میں اس برادری کی خواتین کو تعلیم اور کاروبار کے زیادہ مواقع حاصل نہیں تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ پانی کے اندر یا جھیلوں کے دور دراز حصوں میں بنیادی سہولیات کی کمی تھی۔ اسکول۔ اسپتال اور عام بازاروں تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ بہت سے خاندان اپنے بچوں کی تعلیم کی خاطر پانی سے نکل کر شہر کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہوئے۔ جس طرح دور دراز دیہاتوں کے لوگ بہتر تعلیم اور مستقبل کی خاطر شہروں کا رخ کرتے ہیں اسی طرح ہانجی خاندانوں کو بھی اپنی نئی نسل کے لیے زندگی کے انداز میں تبدیلی لانی پڑی۔ڈل جھیل میں رہنے والی ایک نوجوان لڑکی جنت نے کہا کہ انہیں ہانجی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے مطابق پانی میں یا اس کے آس پاس رہنے والوں کی ایک مشترکہ شناخت ہے اور ڈل جھیل کا تیرتا ہوا بازار بھی ان کی زندگی اور ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ گھروں جیسی کشتی میں رہنا پسند کرتی ہیں کیونکہ پانی پر زندگی کا اپنا ایک منفرد حسن اور لطف ہے۔
ہانجی ہونے پر فخر اور سماجی امتیاز کا دکھ
رپورٹ میں سامنے آنے والی سب سے اہم بات ہانجی برادری کو درپیش سماجی امتیاز کا مسئلہ ہے۔ برادری سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے کہا کہ ہانجی ہونے کو بعض اوقات طنز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی عقیدے۔ ایک ہی معاشرے اور ایک ہی خطے سے تعلق رکھنے کے باوجود انہیں سماجی برابری کا وہ احساس ہمیشہ نہیں ملا جس کے وہ حق دار ہیں۔ایک بزرگ نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہانجی بھی انسان ہیں اور انہیں بھی اسی طرح عزت اور احترام ملنا چاہیے جس طرح معاشرے کے دوسرے افراد کو ملتا ہے۔ ان کے مطابق ہانجی برادری کی تہذیب۔ مہمان نوازی اور دنیا کے مختلف لوگوں سے رابطے نے ان کی زندگی میں ایک خاص وسعت پیدا کی ہے۔آمنہ نے بھی کہا کہ اگرچہ انہیں ذاتی طور پر اس امتیاز کا زیادہ سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن ان کے بعض دوست اپنی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کرتے رہے۔ ان کے مطابق کچھ نوجوان یہ بتانے سے بھی ہچکچاتے تھے کہ ان کا تعلق ہانجی برادری سے ہے۔تاہم انہوں نے پورے اعتماد سے کہا کہ انہیں اپنی شناخت پر فخر ہے۔ ان کے بقول ہانجی برادری کا ایک مضبوط کاروباری پس منظر ہے اور وہ خود کو ایک کشمیری کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے طور پر دیکھتی ہیں۔ان کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں سے طویل عرصے کے رابطے نے ہانجی خاندانوں کو مختلف معاشروں اور طرز زندگی سے واقف کرایا۔ ان کے بزرگ کئی ایسی چیزوں سے واقف تھے جو اس زمانے میں عام کشمیری گھروں میں کم جانی جاتی تھیں۔


مہمان نوازی ایک شناخت
ہانجی برادری کے افراد کے مطابق کشمیری مہمان نوازی ان کی زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔ ان کے نزدیک مہمان کو صرف رہنے کی جگہ دینا کافی نہیں بلکہ اسے ایسی یادوں کے ساتھ رخصت کرنا بھی ضروری ہے جو اسے دوبارہ کشمیر آنے پر مجبور کریں۔ایک نوجوان نے کہا کہ گھروں جیسی کشتی ہو۔ ہوٹل ہو یا کوئی دوسری رہائش گاہ۔ مقصد صرف مہمان کو جگہ فراہم کرنا نہیں بلکہ اسے محبت۔ عزت اور یادگار تجربے کے ساتھ واپس بھیجنا ہے۔کشمیر کے مشکل حالات کے طویل دور کا ذکر کرتے ہوئے برادری کے بعض افراد نے کہا کہ انہوں نے اپنے طور پر سیاحت کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق جب حالات خراب تھے اور کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد کم ہو گئی تھی تب بھی ہانجی برادری کے لوگوں نے باہر سے آنے والوں کو کشمیر آنے کے لیے آمادہ کیا۔ان کا کہنا ہے کہ اس سب کے باوجود انہیں شکایت ہے کہ ان کی برادری کو مناسب سرکاری نمائندگی اور ملازمتوں میں وہ مقام نہیں ملا جس کی وہ امید کرتے رہے ہیں۔
جھیل کی آلودگی اور ہانجیوں پر الزام
ڈل جھیل کی آلودگی اور غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ بھی ہانجی برادری کے لیے ایک اہم سوال ہے۔ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ جھیل کی گندگی کا بڑا الزام اکثر ان پر ڈال دیا جاتا ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ڈل جھیل میں رہنے والے ہانجیوں کی طرف سے زیادہ تر قدرتی طور پر ختم ہونے والا فضلہ پیدا ہوتا ہے اور وہ سخت کیمیائی اشیا کے استعمال کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے۔ ان کے مطابق سبزیوں کے چھلکے اور روزمرہ زندگی کا محدود قدرتی فضلہ ہی زیادہ تر پانی سے جڑا ہوتا ہے۔ان کا سوال ہے کہ اگر جھیل میں آلودگی بڑھ رہی ہے تو اس کے دوسرے ذرائع کا بھی غیر جانبداری سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاحت اور جھیل کے اطراف سے آنے والا فضلہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔برادری کے افراد کہتے ہیں کہ شکاروں میں کچرے کے ڈبے رکھنے اور سیاحوں میں صفائی کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول ڈل جھیل ان کی روزی روٹی ہے اور وہ خود اپنی زندگی کے بنیادی ذریعے کو نقصان کیوں پہنچائیں گے۔ایک نوجوان لڑکی نے کہا کہ ہر معاشرے کی طرح ان کی برادری میں بھی مثبت اور منفی پہلو موجود ہیں لیکن وہ اپنی برادری کی شناخت سے کوئی چیز تبدیل نہیں کرنا چاہتیں۔ ان کے مطابق یہ ان کا معاشرہ ہے اور وہ اس سے محبت کرتی ہیں۔
سہولیات کی کمی اور اپنی مدد آپ
پانی میں رہنے والے خاندانوں کو بنیادی سہولیات تک رسائی کے لیے آج بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ برادری کے افراد نے کہا کہ اسکول۔ طبی سہولتوں اور دوسری بنیادی ضرورتوں کے لیے انہیں پانی سے نکل کر دوسرے علاقوں تک جانا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بعض سرکاری کارروائیوں اور اجازت ناموں کے حصول میں انہیں متعدد مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بجلی۔ پانی۔ نکاسی اور دوسری سہولتوں کے لیے مختلف اداروں سے منظوری حاصل کرنا ان کے لیے ایک طویل عمل بن جاتا ہے۔ایک خاندان نے بتایا کہ مشکل حالات میں انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کشتی کو طبی امداد کے لیے استعمال کے قابل بنایا۔ ان کے مطابق جب ان کے خاندان کے ایک فرد کو وبا کے دوران فوری طبی مدد کی ضرورت پیش آئی تو پانی کے اندر رہنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں انہوں نے دوسروں کی مدد کے لیے اپنی سطح پر انتظام کیا۔ان کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی سہولتیں باقاعدگی سے فراہم کی جائیں تو انہیں اس طرح اپنی مدد آپ کے ذریعے متبادل انتظامات کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔


بے دخلی اور پانی سے بچھڑنے کا خوف
ہانجی برادری کا سب سے بڑا خوف اپنی زمین سے نہیں بلکہ اپنے پانی سے بچھڑنے کا ہے۔ ان کے لیے ڈل جھیل صرف ایک جغرافیائی جگہ نہیں بلکہ ماضی۔ حال اور مستقبل ہے۔برادری کے افراد کہتے ہیں کہ صفائی۔ بحالی اور دوسرے انتظامی اقدامات کے نام پر بہت سے خاندانوں کو اپنے پرانے ٹھکانوں سے ہٹایا گیا۔ کچھ لوگ خود منتقل ہوئے اور کچھ کو دوسرے علاقوں میں جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ان کا کہنا ہے کہ بعض خاندانوں کو ایسے علاقوں میں منتقل کیا گیا جہاں ان کے صدیوں پرانے طرز زندگی کا کوئی متبادل موجود نہیں تھا۔ ان کے لیے پانی سے دور زندگی صرف رہائش کی تبدیلی نہیں بلکہ اپنی شناخت سے جدائی ہے۔ایک بزرگ نے اس کیفیت کو ماں سے بچے کی جدائی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک بچے کو ماں سے الگ کر دیا جائے تو اس کے لیے زندگی بدل جاتی ہے اسی طرح ہانجی کو اس کے پانی سے جدا کرنا اس کی پوری دنیا بدل دینے کے مترادف ہے۔
ڈل اور ہانجی ایک دوسرے کے بغیر ادھورے
برادری کے افراد کا کہنا ہے کہ ڈل جھیل اور ہانجیوں کا رشتہ ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جھیل نے انہیں زندگی دی اور انہوں نے جھیل کو اپنی تہذیب۔ اپنی محنت اور اپنی مہمان نوازی سے ایک منفرد شناخت دی۔کشمیر آنے والا سیاح جب ڈل جھیل کی خوب صورتی دیکھتا ہے تو اس منظر میں شکارا۔ گھروں جیسی کشتیاں۔ پانی پر چلتی زندگی اور ہانجیوں کی صدیوں پرانی تہذیب بھی شامل ہوتی ہے۔اس برادری کے نوجوانوں اور بزرگوں کے پاس اپنی زندگی کی تلخ یادیں بھی ہیں اور اپنی شناخت پر فخر بھی۔ وہ بہتر تعلیم چاہتے ہیں۔ بہتر طبی سہولتیں چاہتے ہیں۔ سماجی برابری چاہتے ہیں اور سرکاری سطح پر اپنی برادری کی آواز سنی جانا چاہتے ہیں۔لیکن ایک سوال کے جواب میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے ہانجیوں کا جواب تقریباً ایک جیسا تھا۔
مجھے فخر ہے کہ میں ہانجی ہوں۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ پانی پر صدیوں سے آباد ایک برادری کی شناخت کا اعلان ہے۔ ایک ایسی شناخت جو وقت کے بدلتے دھاروں کے باوجود ڈل کی لہروں کے ساتھ آج بھی زندہ ہے۔