کولکاتا : یہ کہانی ہے ایک ٹیکسی ڈرائیور کی جن کا نام جلال الدین تھا جو غربت کے باعث خود تعلیم حاصل نہیں کر سکے، لیکن انہوں نے محروم بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا خواب دیکھا , اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اسکول قائم کیے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے اسرافیل اور اسماعیل مالی مشکلات کے باوجود اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دونوں بھائی نہ صرف تعلیمی اداروں کو سنبھال رہے ہیں بلکہ اس عزم کو بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں کہ غربت کسی بچے کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ یہ کہانی ایک ایسے خاندان کی ہے جس نے تعلیم کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔
جلال الدین کی وفات کے بعد ان کے بیٹے اسرافیل اور اسماعیل غازی شدید مالی مشکلات کے درمیان مفت تعلیم فراہم کرنے والے اسکولوں کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جلال الدین کولکاتا کے مرکزی علاقوں میں ٹیکسی چلاتے تھے۔ غریب اور محروم بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا ان کا خواب ان کے اپنے تلخ تجربات سے جڑا تھا۔ غربت کے باعث وہ خود تعلیم حاصل نہیں کر سکے تھے اور چاہتے تھے کہ مالی مشکلات کسی دوسرے بچے کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔
ان کے بیٹوں نے بھی اس مشن کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
اسرافیل نے بتایا کہ انہوں نے 1999 میں بارہویں جماعت کا امتحان پاس کیا اور 2000 میں اپنے والد کے ساتھ مفت پرائمری اسکول میں کام شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگالی زبان میں ایم اے مکمل کرکے وہ اپنے خاندان کے پہلے فرد بنے جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔اسرافیل کے مطابق خاندان نے سب سے پہلے اپنے آبائی گھر ٹھاکر چک میں ایک اسکول قائم کیا جس کا نام اسماعیل پور آئرن فاؤنڈیشن پرائمری اسکول (آئی آئی ایف پی) رکھا گیا۔2006 میں جلال الدین کی ٹیکسی میں سفر کے دوران ان کی ملاقات دو سماجی کارکنوں اجیت کمار ساہا اور دیپنکر گھوش سے ہوئی۔ اسکول کا دورہ کرنے کے بعد دونوں نے اس پہل کو آگے بڑھانے میں تعاون کیا۔ انہوں نے مرکزی اسکول سے تقریباً دو کلومیٹر دور زمین خرید کر اسکول کے نام عطیہ کر دی اور وہاں ایک عمارت تعمیر کروائی۔ اس عمارت میں 2009 میں تدریسی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔
اسرافیل غازی بنگالی زبان میں ایم اے ہیں اور اسکولوں کے تعلیمی و انتظامی امور کی نگرانی کرتے ہیں۔
اسکول کا نام سندربن شکشایتن رکھا گیا۔ یہاں نرسری سے پانچویں جماعت تک 134 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور آٹھ اساتذہ تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اسرافیل نے بتایا کہ ادارے کے انتظام کے لیے سندربن شکشایتن کے نام سے ایک سوسائٹی رجسٹر کی گئی تھی۔ ان کے والد اس کے سکریٹری تھے جبکہ اجیت کمار ساہا صدر اور دیپنکر گھوش نائب صدر تھے۔ 2019 میں ایک قانونی دستاویز کے ذریعے ادارے کا انتظام باضابطہ طور پر دوبارہ خاندان کے حوالے کر دیا گیا۔ اس دستاویز میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ ادارے میں محروم طبقوں کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔
دونوں اسکول الگ الگ ٹرسٹ کے تحت چلائے جاتے ہیں۔ اسرافیل نے بتایا کہ سابقہ سوسائٹی کی سالانہ تجدید اور حسابات کی جانچ میں پیش آنے والی دشواریوں کے باعث انہوں نے 3 نومبر 2023 کو سندربن شکشایتن ٹرسٹ قائم کیا۔آئی آئی ایف پی خاندان کے آبائی گھر کی پہلی منزل کے تین کمروں میں قائم ہے جبکہ خاندان خود زیریں منزل پر رہتا ہے۔ یہاں چوتھی جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔ اسکول میں 95 طلبہ اور پانچ اساتذہ ہیں۔تاہم اسکول کے پاس بچوں کے کھیلنے کے لیے مناسب کھلی جگہ نہ ہونے کے باعث اسے مکمل طور پر تسلیم شدہ تعلیمی ادارہ بنانے کی سرکاری منظوری نہیں مل سکی ہے۔اس کے برعکس تقریباً پانچ کلومیٹر دور واقع سندربن شکشایتن میں کھلی جگہ موجود ہے جو اسکول کے لیے حکومت کے مقررہ معیار پر پوری اترتی ہے۔


دوپہر کے کھانے کی سہولت بند اور اساتذہ کے لیے معمولی اعزازیہ
اساتذہ کو باقاعدہ تنخواہ کے بجائے معمولی اعزازیہ ملتا ہے اور ادارے کا انحصار مقامی لوگوں کے تعاون پر ہے۔کئی برس تک جلال الدین کی ٹیکسی ان اسکولوں کے اخراجات پورے کرنے کا اہم ذریعہ رہی۔ وہ کولکاتا میں ٹیکسی چلاتے ہوئے مسافروں اور دیگر لوگوں سے عطیات جمع کرتے تھے۔ ان رقوم سے اساتذہ کو اعزازیہ دینے اور بچوں کے لیے دوپہر کے کھانے کا انتظام کرنے جیسے اخراجات پورے کیے جاتے تھے۔ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں نے یہ کام جاری رکھا ہے لیکن عطیات جمع کرنے اور مخیر افراد سے رابطہ برقرار رکھنے میں انہیں دشواریوں کا سامنا ہے۔
اسرافیل نے کہا کہ ان کے والد کولکاتا میں ٹیکسی چلاتے اور مسافروں سے عطیات جمع کرتے تھے۔ اب ان کے بڑے بھائی یہی کام کر رہے ہیں لیکن عطیات باقاعدگی سے نہیں ملتے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کو جاری رکھنے کے لیے حکومت اور عوام دونوں کی مدد درکار ہے۔عطیات کے ذریعے چلنے والے ان اسکولوں میں بچوں کے لیے دوپہر کے کھانے کا انتظام اب بند ہو چکا ہے۔ اساتذہ کو بھی صرف معمولی اعزازیہ دیا جاتا ہے جسے اسرافیل کے مطابق باقاعدہ تنخواہ کہنا مشکل ہے۔اسرافیل نے بتایا کہ ان اسکولوں میں ایسے خاندانوں کے بچے پڑھتے ہیں جن کے والد رکشہ چلاتے ہیں یا درزی کا کام کرتے ہیں اور بعض خاندانوں کا گزارہ چھوٹے موٹے کاموں سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلے کے وقت سالانہ تقریباً 2700 روپے فیس مقرر ہے جسے والدین اپنی سہولت کے مطابق قسطوں میں ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق آس پاس سرکاری اسکول بھی ہیں لیکن وہاں بنیادی سہولتوں اور اساتذہ کی کمی ہے۔
ٹیکسی اب بھی سہارا
جب خبر رساں ایجنسی نے سندربن شکشایتن کا دورہ کیا تو بچے اپنے فنون لطیفہ کے امتحان میں مصروف تھے۔اسکول میں چھ جماعتی کمرے ہیں۔ اساتذہ کے لیے الگ کمرہ بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ سرسبز کھلی جگہ پر جھولے لگے ہوئے ہیں اور یہاں کتب خانہ اور پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی دستیاب ہے۔اس کے مقابلے میں آئی آئی ایف پی میں صرف چار جماعتی کمرے ہیں اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے چھت استعمال کی جاتی ہے۔
اسرافیل کے بڑے بھائی اسماعیل غازی بھی اپنے والد کی طرح کولکاتا میں ٹیکسی چلاتے ہیں اور مسافروں سے تعلیمی اداروں کے لیے عطیات جمع کرتے ہیں۔ وہ نریندر پور میں قائم اسکول کی بھی نگرانی کرتے ہیں جہاں پہلی سے چوتھی جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔اسماعیل نے کہا کہ ان کی ذمہ داری ٹیکسی کے مسافروں سے کچھ رقم جمع کرکے اسکول تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اگر کوئی ادارے کو کتابیں فراہم کرنے اور بچوں کے دوپہر کے کھانے کا انتظام کرنے میں مدد کرے تو اسکول کو بہتر انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔


سرکاری منظوری کا انتظار برقرار
اسکولوں کو باضابطہ منظوری دلانے کے لیے خاندان کی کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔خاندان ان اسکولوں کے لیے سرکاری منظوری حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ اسرافیل کے مطابق عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے 2012 میں درخواست دی گئی تھی لیکن اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔حال ہی میں اسرافیل نے بنگلہ شکشا نامی سرکاری تعلیمی پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست کا عمل مکمل کرنے کی کوشش کی۔ درخواست کے لیے مقررہ 29 نمونہ جاتی فارموں میں سے 27 فارم مکمل کر لیے گئے تھے لیکن پورٹل بند ہو جانے کے باعث یہ عمل ادھورا رہ گیا۔اسرافیل نے کہا کہ اگر پورٹل دوبارہ کھولا جاتا ہے تو وہ تمام شرائط پوری کرکے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
طالبات کے لیے رہائشی اسکول کا خواب ادھورا
جلال الدین کا خواب تھا کہ سندربن میں لڑکیوں کے لیے رہائشی اسکول قائم کیا جائے جہاں پانچویں جماعت سے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کی سہولت ہو۔مرحوم جلال الدین چاہتے تھے کہ علاقے کے بچوں کو مقامی سطح پر بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں مزید پڑھائی کے لیے دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اسی مقصد کے تحت انہوں نے پانچویں جماعت سے بارہویں جماعت تک تعلیم فراہم کرنے والے ایک رہائشی ادارے کا منصوبہ بنایا تھا۔اسرافیل نے بتایا کہ 2012 میں سندربن مشن کے نام سے یہ منصوبہ شروع کیا گیا۔ سندربن آرفنیج مشن کے تحت ایک عمارت بھی تعمیر کی گئی اور وہاں چند برس تک تدریسی سرگرمیاں جاری رہیں۔ تاہم بارش کے موسم میں سڑکوں کی خراب حالت اور آمدورفت میں دشواری کے باعث ادارے تک پہنچنا مشکل ہو جاتا تھا۔ بالآخر اسکول بند کرنا پڑا اور عمارت خالی رہ گئی۔
اسرافیل کے مطابق ان کے والد نے اس مسئلے کے حل کے لیے مقامی ارکان اسمبلی اور پارلیمان سے رابطہ کیا تھا اور اس وقت کی مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے دفتر میں بھی معاملہ اٹھایا تھا۔انہوں نے بتایا کہ بعد میں سڑک کی تعمیر کا منصوبہ منظور ہوا اور کام بھی مکمل کر لیا گیا لیکن اس کے کچھ ہی عرصے بعد ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔
نریندر پور کا اسکول بھی جلال الدین کے تعلیمی منصوبوں کا ایک حصہ تھا۔اسماعیل نے بتایا کہ ان کے والد کو مشہور ٹیلی ویژن پروگرام ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں شرکت کے بعد جو رقم ملی تھی وہ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیے اسکول قائم کرنے پر خرچ کی جانی تھی۔ تاہم مجوزہ عمارت ابھی تک تعمیر نہیں ہو سکی ہے اور فی الحال وہاں پہلی سے چوتھی جماعت تک کی تعلیم دی جا رہی ہے۔


اس وقت سب سے بڑا مسئلہ موجودہ اسکولوں کو جاری رکھنا ہے۔ اسماعیل ٹیکسی چلا کر عطیات جمع کرتے ہیں جبکہ اسرافیل تدریسی اور انتظامی امور سنبھالتے ہیں۔اسکول کے ایک استاد بیجون کمار ہلدار نے لوگوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ مغربی بنگال سمیت ملک اور دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے تمام افراد سے درخواست کرتے ہیں کہ جہاں تک یہ خبر پہنچے وہاں سے اسکول کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا جائے۔ ان کے مطابق ادارے کو اس وقت تعاون کی سخت ضرورت ہے۔اسرافیل غازی کو احساس ہے کہ محض عوامی عطیات سے ان کے والد کا خواب زیادہ عرصے تک زندہ رکھنا مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ایک چیز ان کے والد کے خواب کو بچا سکتی ہے تو وہ اسکولوں کو سرکاری منظوری ملنا ہے۔