علی گڑھ، :سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج جسٹس آگسٹین جارج مسیح نے کہا ہے کہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ناکامیوں کا سامنا کرنا بھی سیکھنا چاہیے۔ حوصلہ اور صبر انسان کو مشکلات سے نکلنے اور رکاوٹوں کو مواقع میں تبدیل کرنے کی طاقت دیتے ہیں۔ انہوں نے مطالعے اور غور و فکر کو ترقی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو معاشرہ پڑھنے اور سوچنے کی عادت چھوڑ دیتا ہے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ جسٹس مسیح نے یہ بات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے بانی سر سید احمد خان کے 209ویں یوم پیدائش کے موقع پر گلستانِ سید میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انہوں نے سر سید کے تعلیمی وژن اور ان کے افکار کی موجودہ دور میں معنویت پر روشنی ڈالی۔
تقریب میں عدلیہ اور دفاع کے شعبوں سے وابستہ ممتاز شخصیات کے علاوہ ماہرین تعلیم اور کاروباری دنیا کے نمائندوں، سابق طلبہ، اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کی۔ جسٹس آگسٹین جارج مسیح مہمان خصوصی تھے جبکہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ستیہ ویر سنگھ اور انڈین نیول اکیڈمی ایزھی مالا کیرالا کے پرنسپل ریئر ایڈمرل ایس ایم عروج اطہر مہمانان اعزازی تھے۔ گجرات کے کے پی گروپ کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر فاروق جی پٹیل نے مہمان خاص کی حیثیت سے شرکت کی۔

ناکامیوں سے سیکھنا اور مطالعے کی عادت اپنانا ضروری
جسٹس آگسٹین جارج مسیح نے کہا کہ سر سید احمد خان نے جدید تعلیمی تحریک کی بنیاد رکھتے وقت مخالفتوں اور مشکلات کا سامنا کیا لیکن انہوں نے حوصلے اور عزم کے ساتھ اپنے مشن کو آگے بڑھایا۔ ان کی زندگی نوجوانوں کے لیے سبق ہے کہ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ان کا سامنا کیا جائے اور ناکامیوں کو سیکھنے کا ذریعہ بنایا جائے۔انہوں نے مطالعے اور سائنسی تحقیق کے ساتھ استدلال اور کشادہ ذہنی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کتابیں نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ انسان کی اظہار کی صلاحیت بہتر بناتی ہیں اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ ڈیجیٹل مواد سے سطحی استفادے تک محدود نہ رہیں بلکہ گہرے مطالعے اور سنجیدہ غور و فکر کی عادت اپنائیں۔جسٹس مسیح نے سر سید کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مشترکہ مستقبل پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے مطابق اے ایم یو کا متنوع تعلیمی ماحول اس بات کی زندہ مثال ہے کہ مختلف علاقوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ساتھ تعلیم حاصل کرکے ترقی کرسکتے ہیں۔یونیورسٹی سے اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے ایم یو نے انہیں درس گاہ سے باہر بھی احترام اور مکالمے کے ساتھ دوستی اور ذمہ داری کے اہم اسباق سکھائے۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی جانب سے سر سید کے وژن کو اعتماد اور مقصدیت کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنی ذاتی کامیابیوں سے آگے بڑھ کر آنے والی نسلوں کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ ان کے مطابق سر سید کو حقیقی خراج عقیدت یہی ہوگا کہ نئی نسلوں کے لیے تعلیم اور ترقی کے مواقع پیدا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
تعلیم اور انصاف کو عام لوگوں تک پہنچانے پر زور
الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ستیہ ویر سنگھ نے علی گڑھ اور مولانا آزاد لائبریری سے اپنی وابستگی کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی ایس کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود وہ پیشہ ورانہ مستقبل کی تیاری کے لیے مولانا آزاد لائبریری میں طویل وقت گزارتے تھے۔ لائبریری کا ماحول اور عملے کا تعاون نیز طلبہ کے درمیان بھائی چارے نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔انہوں نے اے ایم یو کو ایسا ادارہ قرار دیا جہاں علم ذات اور مذہب کے ساتھ معاشی پس منظر کی رکاوٹوں سے بالاتر ہے۔ ان کے مطابق سر سید کی جانب سے ترجمے کے ذریعے سائنسی اور تاریخی علم کو عام لوگوں تک پہنچانے کی کوششوں اور موجودہ دور میں عدالتی فیصلوں کو ہندوستانی زبانوں میں دستیاب کرانے کے اقدامات میں گہری مماثلت ہے۔جسٹس سنگھ نے کہا کہ علم اور انصاف اسی وقت اپنی مکمل معنویت حاصل کرتے ہیں جب وہ ان لوگوں تک پہنچیں جن کے لیے انہیں حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے غریب اور محروم طبقات کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں تعلیم کے اہم کردار پر زور دیا۔ ان کے مطابق تعلیم لوگوں کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے اور اعتماد کے ساتھ معاشرے میں حصہ لینے کے قابل بناتی ہے۔انہوں نے خواتین کی تعلیم اور حقیقی مساوات کے ساتھ آئینی انصاف کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور اے ایم یو سے اپیل کی کہ وہ محروم طبقات کے طلبہ کے لیے ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے۔

علی گڑھ کو علم اور سماجی ترقی کا مرکز بنانے کی اپیل
انڈین نیول اکیڈمی ایزھی مالا کے پرنسپل ریئر ایڈمرل ایس ایم عروج اطہر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک مشن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سر سید نے تعلیم کے ذریعے لوگوں کا اعتماد بحال کرنے اور ان کی فکری صلاحیتوں اور کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔1857 کے بعد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سر سید نے مایوسی اور مشکلات کے دور میں الزام تراشی کے بجائے معاشرے کی تعمیر نو کے لیے تعلیم کو ذریعہ بنایا۔ ان کا مقصد لوگوں کو اپنے مستقبل کی تشکیل کے قابل بنانا تھا۔ریئر ایڈمرل ایس ایم عروج اطہر نے علی گڑھ کو ایک حقیقی یونیورسٹی شہر کے طور پر ترقی دینے کی ضرورت پر زور دیا جہاں اے ایم یو کی علمی اور تحقیقی صلاحیتیں خطے کی سماجی اور معاشی ترقی میں براہ راست کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ زرعی سائنس داں کسانوں کو پائیدار طریقے اپنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ انتظامی امور کے ماہرین روایتی صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں کو تقویت پہنچا سکتے ہیں۔ طبی ماہرین پڑوسی علاقوں میں صحت کی سہولتیں بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں جبکہ انجینئر قابل تجدید توانائی اور آبی انتظام کے ساتھ تکنیکی اختراع میں تعاون کرسکتے ہیں۔انہوں نے تحقیق کے معیار کو صرف تحقیقی مقالوں اور اشاعتوں کی تعداد سے جانچنے کے بجائے اس بنیاد پر پرکھنے کی اپیل کی کہ اس سے معاشرے کے مسائل کس حد تک حل ہوتے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں میں کیا بہتری آتی ہے۔اساتذہ سے تحقیقی اشتراک اور صنعتی اداروں کے ساتھ شراکت داری مضبوط بنانے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے طلبہ کو تجسس برقرار رکھنے اور مفروضوں پر سوال اٹھانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ سر سید کو بہترین خراج عقیدت یہی ہوگا کہ علم کو خدمت اور تعلیم کو کردار میں تبدیل کیا جائے۔
اے ایم یو میں 5 کروڑ روپے سے سنٹر آف ایکسیلینس قائم ہوگا
کے پی گروپ کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر فاروق جی پٹیل نے اپنے خطاب میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 5 کروڑ روپے کی لاگت سے کے پی سنٹر آف ایکسیلینس قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً دو دہائیوں سے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں سرگرم ان کا گروپ یونیورسٹی کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے۔ڈاکٹر پٹیل نے شمسی اور ہوائی توانائی کے علاوہ سبز ہائیڈروجن اور بیٹریوں میں توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام جیسے شعبوں میں اے ایم یو کے ساتھ اشتراک کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کی ترقی میں تعاون کرنے اور 2047 تک ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے قومی خواب کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔اپنی ذاتی زندگی کے تجربات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2020 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اے ایم یو کو منی انڈیا قرار دیے جانے کے بعد ان کے اندر یونیورسٹی کا دورہ کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ انہوں نے سر سید کے غیر معمولی تعلیمی وژن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قائم کردہ تعلیمی میراث آج بھی نسلوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ڈاکٹر پٹیل نے اپنے عام پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1994 میں کاروبار شروع کیا۔ ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ ثابت قدمی اور مسلسل محنت کے ذریعے ایک عام شخص بھی اپنے حالات تبدیل کرسکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ دستیاب تعلیمی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور عزم و استقلال کے ساتھ اپنی منزل حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
سر سید کا وژن آج بھی رہنمائی کرتا ہے: پروفیسر نعیمہ خاتون
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے سر سید احمد خان کو انقلابی مفکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو محض ایک یونیورسٹی کے بانی کے کردار تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا اصل کارنامہ ایک پوری کمیونٹی کو تاریخ کا خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے اس کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانا تھا۔انہوں نے کہا کہ سر سید کی میراث کو آگے بڑھانے کے لیے فکری کشادگی اور سائنسی استدلال کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔ تعلیم کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل میں آزادانہ سوچ اور درست فیصلہ سازی کی صلاحیت کا تحفظ بھی ضروری ہے۔پروفیسر خاتون نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگریاں حاصل کرنا اور معلومات جمع کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ طلبہ میں تنقیدی سوچ اور عملی مہارتوں کے ساتھ کردار اور معاشرے کے لیے بامعنی خدمات انجام دینے کی صلاحیت بھی پیدا ہونی چاہیے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو شواہد کا جائزہ لینے اور مفروضوں پر سوال اٹھانے کی ترغیب دیں۔
عالمی درجہ بندی میں اے ایم یو کی کامیابیوں کا ذکر
وائس چانسلر نے اے ایم یو کی تعلیمی اور تحقیقی کامیابیوں پر فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی عالمی درجہ بندی میں دنیا کی 800 سرفہرست یونیورسٹیوں میں اے ایم یو کی شمولیت اور یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کی درجہ بندی میں ہندوستانی یونیورسٹیوں کے درمیان پانچویں مقام کا ذکر کیا۔ انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک یعنی این آئی آر ایف میں یونیورسٹی کی پوزیشن اور اسے حاصل اے پلس درجہ کا بھی حوالہ دیا۔پروفیسر خاتون نے بتایا کہ یونیورسٹی کے 46سائنس داں دنیا کے 2 فیصد سرفہرست محققین میں شامل ہیں۔ انہوں نے صحت عامہ اور طبی خدمات کے ساتھ اختراع اور آن لائن تعلیم کے شعبوں میں بھی یونیورسٹی کی خدمات کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں اساتذہ اور محققین کے علاوہ طلبہ اور ملازمین کے ساتھ سابق طلبہ کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ ان کامیابیوں کو مزید آگے بڑھانے کے لیے سب کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے نظم و ضبط اور فکری خودمختاری کے ساتھ انکساری برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے طلبہ یونین کے آئندہ انتخابات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا اور جسمانی و ذہنی صحت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے طلبہ کو سوشل میڈیا سے آگے بڑھ کر بامقصد زندگی تعمیر کرنے اور ضرورت پڑنے پر مدد حاصل کرنے کی ترغیب دی۔سابق طلبہ سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی مادر علمی کے فعال سفیر بنیں اور موجودہ طلبہ کو وسیع تر مواقع سے جوڑنے کے ساتھ یونیورسٹی کی ترقی میں تعاون کریں۔محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کے قیام کی 150ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر خاتون نے کہا کہ یونیورسٹی کا مستقبل صرف اس کی تاریخ سے نہیں بلکہ طلبہ کے سوالات اور ان کے تخلیق کردہ علم کے ساتھ ان کے کردار اور معاشرے کے لیے انجام دی جانے والی خدمات سے بھی تشکیل پائے گا۔

طلبہ اور اساتذہ نے بھی اظہار خیال کیا
تقریب سے اے ایم یو کے طلبہ عائشہ جمال اور ابو داؤد کے علاوہ اساتذہ پروفیسر عذرہ موسوی اور پروفیسر محمد علی جوہر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے سر سید کی تعلیمی میراث اور ان کے مشن کی موجودہ دور میں اہمیت پر روشنی ڈالی۔سر سید ایکسیلنس ایوارڈ انٹرنیشنل حاصل کرنے والے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے علوم اسلامی کے نامور اسکالر پروفیسر حسین نصر نے بھی حاضرین سے خطاب کیا۔ سر سید ایکسیلنس ایوارڈ نیشنل حاصل کرنے والی خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی گلبرگہ کرناٹک کی نمائندگی کرتے ہوئے پروفیسر ایم اے خان نے بھی اپنے خیالات پیش کیے۔
آل انڈیا سر سید مضمون نویسی مقابلے کے نتائج
تقریب کے دوران آل انڈیا سر سید مضمون نویسی مقابلے کے انعامات انگریزی اردو اور ہندی زبانوں کے کامیاب امیدواروں میں تقسیم کیے گئے۔ مقابلے کا موضوع ’’اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی اور اخلاقیات: سر سید کا نقطہ نظر‘‘ تھا۔انگریزی زبان کے زمرے میں اے ایم یو کی طالبہ ملیحہ اقبال نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ لیڈی شری رام کالج دہلی یونیورسٹی کی اپوروا دتہ دوسرے اور الہ آباد یونیورسٹی کی راج شری مشرا تیسرے مقام پر رہیں۔ہندی زبان میں ویمنس کالج اے ایم یو کی سلویٰ فاطمہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے مشرف پرویز دوسرے اور ویمنس پولی ٹیکنک اے ایم یو کی سبحانہ ریحان تیسرے مقام پر رہیں۔اردو زبان کے زمرے میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے محمد فیض الرضا نے پہلا انعام حاصل کیا۔ اے ایم یو کے اردو شعبے کے ریسرچ اسکالر منور علی دوسرے اور اسی شعبے کی ریسرچ اسکالر سبی جی تیسرے مقام پر رہیں۔اس سے قبل اے ایم یو کے رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے استقبالیہ کلمات پیش کیے جبکہ ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر ایم اطہر انصاری نے اظہار تشکر کیا۔ ڈاکٹر شارق عقیل اور ڈاکٹر فائزہ عباسی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
10 کتابوں اور خصوصی شماروں کا اجرا
یوم سر سید کی تقریبات کا آغاز صبح 6 بجے یونیورسٹی مسجد میں قرآن خوانی سے ہوا۔ اس کے بعد سر سید احمد خان کے مزار پر چادر پوشی کی گئی۔ صبح 9:30 بجے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے سر سید ہاؤس میں سر سید کی تحریروں اور کتابوں پر مشتمل نمائش کا افتتاح کیا اور سر سید اکیڈمی کی جانب سے شائع کردہ کتابوں کی رونمائی کی۔پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان اور رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر کے علاوہ سر سید اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر شافع قدوائی اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر مشتاق احمد کی موجودگی میں 10 کتابوں اور رسائل تہذیب الاخلاق اور فکر و نظر کے خصوصی شماروں کا اجرا کیا گیا۔
جاری کی جانے والی مطبوعات میں سر سید کی تفسیر القرآن کی 2 جلدیں اور اچاریہ پرمانند شاستری کی سنسکرت تصنیف ’’سر سید احمد خان چریتم‘‘ کا پروفیسر ساریکا ورشنے کی جانب سے کیا گیا ہندی ترجمہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی کی کتاب ’’سر سید کی مطالعاتی سوانح‘‘ اور پروفیسر ارشد مسعود ہاشمی کی مرتبہ کتاب ’’علی گڑھ کالج اور شیراز (مکمل سفرنامہ)‘‘ بھی جاری کی گئی۔دیگر مطبوعات میں عاطف سید کی کتاب ’’علی گڑھ: دی سٹی دیٹ لاسٹیڈ ایمپائرس‘‘ اور ڈاکٹر شمس بدایونی کی مرتبہ کتاب ’’مطالعہ حیات جاوید کے 521 سال‘‘ شامل ہیں۔ مظہر سعید کی تصنیف ’’سر سید کی کہانی اشعار کی زبانی‘‘ اور ڈاکٹر ایم فیروز خان و ڈاکٹر شگفتہ نیاز کی مرتبہ کتاب ’’بھارتیہ نوجاگرن کے نایک: سر سید احمد خان‘‘ بھی ان میں شامل ہیں۔ڈاکٹر راحت ابرار کی مرتبہ کتاب ’’سر سید: رواداری اور امن کے علمبردار‘‘ بھی اس موقع پر جاری کی گئی۔ یہ مطبوعات سر سید احمد خان کی زندگی اور فکر کے علاوہ ان کے ادبی ورثے اور تعلیم و معاشرے کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔تقریب کا اختتام یونیورسٹی ترانے اور قومی ترانے پر ہوا۔ اس موقع پر یونیورسٹی برادری نے تعلیم اور استدلال کے فروغ کے ساتھ سماجی ترقی اور انسانیت کی خدمت کے سر سید کے اصولوں سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔