اگنی ویر صفی شیخ کو سلام۔ نوجوان کی موت پر پورا گاؤں اشکبار

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-11-2026
اگنی ویر صفی شیخ کو سلام۔ نوجوان کی موت پر پورا گاؤں اشکبار
اگنی ویر صفی شیخ کو سلام۔ نوجوان کی موت پر پورا گاؤں اشکبار

 



ترون نندی۔ کولکتہ

مغربی بنگال کے نادیہ ضلع کے کالی گنج علاقے میں اگنی ویر صفی شیخ کی سڑک حادثے میں موت سے پورے گاؤں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ملک کی خدمت کا خواب لے کر جنوری 2026 میں فوج میں شامل ہونے والے صفی شیخ چھٹی پر گھر آئے تھے لیکن ڈیوٹی پر واپسی سے پہلے ہی ایک المناک حادثے نے ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا۔ ان کی اچانک موت سے اہل خانہ رشتہ داروں اور گاؤں والوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ فوج کی جانب سے بھی انہیں آخری خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

صفی شیخ نادیہ ضلع کے کالی گنج علاقے میں پالشی-1 گرام پنچایت کے تحت واقع بھرولیا گاؤں کے رہنے والے تھے۔ وہ جنوری 2026 میں فوج میں اگنی ویر کے طور پر شامل ہوئے تھے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں فٹ بال کا بھی شوق تھا اور وہ اپنی کھیل کی صلاحیتوں کے باعث علاقے میں خاصے مقبول تھے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق فوج میں شمولیت کے بعد چھٹی پر گھر آنا ان کا دوسرا موقع تھا۔ اہل خانہ اور دوستوں کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ ان کی زندگی کی آخری چھٹی ثابت ہوگی۔

مقامی ذرائع کے مطابق پیر کی شام صفی دھوبلیا میں قومی شاہراہ نمبر 12 کے قریب موٹر سائیکل پر سوار تھے کہ ایک دوسری گاڑی نے انہیں ٹکر مار دی۔ حادثے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر دھوبلیا اسپتال لے جایا گیا جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔صفی کی موت کی خبر پھیلتے ہی اہل خانہ رشتہ داروں اور مقامی باشندوں کی بڑی تعداد انہیں آخری بار دیکھنے کے لیے پہنچنے لگی۔ گاؤں کے ہر شخص کی زبان پر یہی سوال تھا کہ اتنی کم عمر میں ملک کی خدمت کا خواب دیکھنے والا نوجوان اس طرح سب کو چھوڑ کر کیسے چلا گیا۔ چند ماہ قبل ہی صفی نے فوج میں شامل ہوکر اپنے مستقبل کے لیے نئی امیدیں وابستہ کی تھیں۔ ان کی اچانک موت نے ان تمام خوابوں کو ادھورا چھوڑ دیا۔

غربت اور مشکلات سے لڑ کر فوج میں شمولیت اختیار کی

مقامی ذرائع کے مطابق صفی کی زندگی جدوجہد سے عبارت تھی۔ تقریباً 5 سال قبل ان کے والد کا گھر کے سامنے ایک سڑک حادثے میں انتقال ہوگیا تھا۔ والد کی موت کے بعد صفی نے اپنی والدہ کے ساتھ غربت اور زندگی کی مشکلات کا سامنا کیا۔صفی کو بچپن ہی سے فٹ بال کھیلنے کا شوق تھا۔ وہ اپنی مہارت اور کھیل کے جذبے کے باعث علاقے میں پہچانے جاتے تھے۔ تاہم ان کا خواب صرف کھیل تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے محنت اور مسلسل کوشش کے ذریعے فوج میں شامل ہونے کا ہدف حاصل کیا اور جنوری 2026 میں اگنی ویر کے طور پر اپنی خدمات کا آغاز کیا۔فوج میں شمولیت ان کے لیے محض ملازمت نہیں بلکہ اپنے خاندان کی مشکلات کم کرنے اور ملک کی خدمت کرنے کا ذریعہ بھی تھی۔ ان کی خوش اخلاقی اور اچھے برتاؤ نے ساتھیوں کے درمیان بھی انہیں مقبول بنایا تھا۔

ملی نغمے کے ساتھ آخری الوداع

صفی شیخ جس فوج میں شامل ہوکر ملک کی خدمت کرنا چاہتے تھے اسی فوج نے انہیں آخری خراج عقیدت پیش کیا۔ ان کی آخری رسومات کے موقع پر ملی نغمے کے ذریعے انہیں الوداع کہا گیا۔ اس موقع پر موجود لوگوں کی آنکھیں نم تھیں اور پورا گاؤں اپنے نوجوان سپوت کو کھونے کے غم میں ڈوبا ہوا تھا۔صفی کی والدہ کے لیے یہ صدمہ ناقابل بیان ہے۔ شوہر کو پہلے ہی کھو دینے کے بعد بیٹا ان کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا تھا۔ اب بیٹے کی اچانک موت نے انہیں تنہا کردیا ہے۔بھرولیا گاؤں کے لوگوں نے صفی سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ وہ ایک ایسا نوجوان تھا جس نے مشکلات کے باوجود اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی اور ملک کی خدمت کے لیے فوج میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چند ماہ کی فوجی خدمات کے بعد اس کی زندگی کا سفر ختم ہوگیا۔صفی شیخ کی موت نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کو غمزدہ کردیا ہے۔ ان کی جدوجہد ان کے خواب اور ملک کی خدمت کے لیے ان کا جذبہ گاؤں والوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔