ڈاکٹر فرح شیخ ۔ پونے
جیسے جیسے دیوالی قریب آتی ہے شہر کا پورا ماحول بدل جاتا ہے۔ گھروں کے دروازوں پر مٹی کے دیوں کی قطاریں جگمگانے لگتی ہیں۔ صحن رنگ برنگی رنگولیوں سے سج جاتے ہیں اور ہر گھر سے تہوار کے پکوانوں (فرال) کی خوشبو آنے لگتی ہے۔ ہر طرف خوشی کا ماحول ہوتا ہے۔ لیکن یہ تہوار ہر کسی کے لیے یکساں خوشیاں لے کر نہیں آتا۔آج بھی میں ایسے بہت سے چہرے دیکھتی ہوں جن کے لیے روزانہ کے کھانے کا انتظام کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دیوالی کے موقع پر انہیں اپنے بچوں کو مٹھائی کا ایک نوالہ کھلانے کے لیے بھی بڑی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
جہاں تیل نہیں وہاں دیا کیسے جلے
مٹی کے دیے جلانے کے لیے تیل ہونا تو دور کی بات ہے بہت سے گھروں میں کھانا پکانے کے لیے بھی تیل موجود نہیں ہوتا۔ میں روزانہ اس حقیقت کو دیکھتی اور محسوس کرتی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 7 سے 8 برسوں سے ہماری کوشش ہے کہ غریب اور بے سہارا خاندان بھی خوشی کے ساتھ دیوالی مناسکیں۔لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے باوجود آپ ہندوؤں کا تہوار دیوالی کیوں مناتی ہیں؟ میرا جواب صرف اتنا ہے کہ خوشیاں منانے کے لیے نہ کسی خاص مذہب کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی مبارک وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔ جس طرح ہمارے گھر میں عید کا شاندار اہتمام ہوتا ہے اسی طرح ہماری کوشش ہے کہ ہر ضرورت مند گھر میں بھی تہوار کی مٹھائیاں تیار ہوں اور اس کے دروازے پر بھی ایک دیا روشن ہو۔
70 خاندانوں میں راشن کٹس کی تقسیم
ہر سال اپنے شوہر انور شیخ کے ساتھ مل کر میں ’مس فرح چیریٹیبل فاؤنڈیشن‘ کے ذریعے تقریباً 60 سے 70 ضرورت مند خاندانوں تک دیوالی کی راشن کٹس پہنچاتی ہوں۔ان کٹس میں آٹا تیل میدہ چینی بھڑنگ ہلدی اور موتی صابن سمیت روزمرہ استعمال کی تمام ضروری اشیا شامل ہوتی ہیں۔ ان میں وہ تمام چیزیں فراہم کی جاتی ہیں جن کی مدد سے دیوالی کے روایتی پکوان تیار کیے جاسکتے ہیں۔
.webp)
دکھاوا نہیں۔ عزت نفس کا تحفظ سب سے اہم
کسی کی مدد کرتے وقت اس کی عزت نفس کو کبھی مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے اس اصول کو اپنی زندگی کا بنیادی حصہ بنایا ہے۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن ہم نے کبھی کسی ضرورت مند کو بڑے اسٹیج پر بلاکر یا لوگوں کے ہجوم کے سامنے کھڑا کرکے اس کی غربت کی نمائش نہیں کی۔ مجھے یہ سب بالکل پسند نہیں ہے۔ہم خود ان کے گھروں میں جاتے ہیں اور انہیں راشن کٹس فراہم کرتے ہیں۔ کیونکہ مدد حاصل کرنے والا شخص کسی بھی طرح کم تر نہیں ہوتا۔ ہم سب انسان ہیں اور انسانوں کے درمیان یہ لین دین زندگی کا حصہ ہے۔
تشہیر کی کسی خواہش کے بغیر کسی کی زندگی میں خوشی کا دیا روشن کرنے کا ہمارا یہ سفر اسی طرح جاری رہے گا۔ عید ہو یا دیوالی ہم مستقل طور پر یہ کام کرتے رہیں گے۔اس دیوالی پر اگر آپ بھی اپنے آس پاس کسی کی زندگی سے اندھیرا دور کرسکتے ہیں تو ضرور ایسا کیجیے۔ کسی ضرورت مند کے گھر میں خوشیوں کا ایک دیا روشن کرنا بھی انسانیت کی بڑی خدمت ہے۔