عاطف احمد، کارنجہ لاڈ (واشم)
انسان کی رگوں میں دوڑنے والے خون کا رنگ ایک ہی ہوتا ہے، اس کا کوئی ذات یا مذہب نہیں ہوتا۔ یہ بات ہم نے کتابوں اور تقریروں میں ہزاروں مرتبہ سنی ہوگی، لیکن ضلع واشم کے شہر کارنجہ لاڈ میں اس خیال کی ایک عملی مثال سامنے آئی، جس نے پورے مہاراشٹر کی توجہ حاصل کی۔
گنیش اتسو کے موقع پر کارنجہ کے باجرنگ پیٹھ گنیش منڈل نے ایک منفرد مثال قائم کرتے ہوئے مسلم عوامی نمائندے عمران پاریکھ کو اپنے احاطے میں منعقدہ خون عطیہ کیمپ کا افتتاح کرنے کے لیے مدعو کیا۔ ایک مسلم سماجی کارکن نے ہندو گنیش منڈل کے اسٹیج پر فیتہ کاٹ کر خون عطیہ کیمپ کا افتتاح کیا۔ یہی نہیں، انہوں نے خود بھی خون عطیہ کیا۔ اس واقعے نے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے ایک واضح پیغام پیش کیا۔
.webp)
لوک مانیہ تلک کے نظریے کی روایت
k
لوک مانیہ تلک نے عوامی گنیش اتسو کا آغاز اس مقصد سے کیا تھا کہ معاشرے کے ہر طبقے اور تمام ذاتوں و مذاہب کے لوگ ایک ساتھ جمع ہوں اور گنیش اتسو منائیں۔ کارنجہ لاڈ کے باجرنگ پیٹھ گنیش منڈل نے آج بھی لوک مانیہ تلک کے اسی سماجی اتحاد کے تصور کو برقرار رکھا ہے۔ اس منڈل کی تاریخ بھی قابل ذکر ہے۔
منڈل کے 100 سالہ تاریخی سفر کے بارے میں کارکن گورو پاتھے نے بتایا، ’’ہمارے بزرگوں نے 1924 میں باجرنگ پیٹھ میں اس منڈل کی بنیاد رکھی تھی۔ آج 101 سال بعد وہ چھوٹا سا پودا ایک بڑے برگد کے درخت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ کارپوریٹر عمران پاریکھ صاحب کو افتتاح کے لیے مدعو کرنے میں ہمارے ذہن میں کوئی تردد نہیں تھا، کیونکہ خون کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔‘‘
ذات اور مذہب سے بالاتر ایک سماجی کارکن
عمران پاریکھ صرف کارپوریٹر یا عوامی نمائندے نہیں ہیں۔ کارنجہ شہر کے کسی بھی شہری کو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، کوئی مسئلہ درپیش ہو تو پاریکھ مدد کے لیے آگے آنے والوں میں شامل رہتے ہیں۔ باجرنگ پیٹھ گنیش منڈل نے ان کی اسی بے لوث سماجی خدمت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنے پروگرام میں مدعو کیا۔
گنیش اتسو کے اسٹیج پر خصوصی طور پر ان کی پذیرائی کرکے منڈل نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مثال پیش کی۔ اس اعزاز اور محبت سے متاثر ہوکر کارپوریٹر عمران پاریکھ نے کہا، ’’باجَرنگ پیٹھ منڈل کے اسٹیج پر تمام دوستوں نے جس محبت کے ساتھ میرا استقبال کیا، اس سے میں بہت متاثر ہوا۔ میری خواہش ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کو اپنی روایت بنائیں، کیونکہ یہی ہماری ’وحدت میں کثرت‘ کو زندہ رکھے گا۔‘‘

خون عطیہ کے ذریعے انسانیت کا پیغام
کارنجہ کے نوجوانوں اور شہریوں نے خون عطیہ کیمپ میں بھرپور شرکت کی۔ سینکڑوں نوجوان خون عطیہ کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہوئے۔ اس کیمپ میں جمع کیا گیا خون آنے والے دنوں میں متعدد شدید بیمار مریضوں کے لیے زندگی بچانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اس اقدام نے کارنجہ شہر میں ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط کیا۔
آج کے پُرتناؤ دور میں سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے والی ایسی کوششوں کی ضرورت ہے۔ باجرنگ پیٹھ گنیش منڈل اور عمران پاریکھ کی جانب سے پیش کی گئی یہ مشترکہ مثال اہمیت رکھتی ہے۔ مذہبی حدود سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کے احترام اور تعاون کا یہ اقدام پورے مہاراشٹر کے لیے ایک مثبت مثال پیش کرتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا کہ انسانیت اور خدمت کا جذبہ مذہبی تفریق سے بالاتر ہوکر لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتا ہے۔