ممبئی کا انوکھا رکشہ ڈرائیور: مسافروں کو مفت پانی اور بسکٹ، بے زبان جانوروں کی بھی کرتا ہے مدد

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-10-2026
ممبئی کا انوکھا رکشہ ڈرائیور: مسافروں کو مفت پانی اور بسکٹ، بے زبان جانوروں کی بھی کرتا ہے مدد
ممبئی کا انوکھا رکشہ ڈرائیور: مسافروں کو مفت پانی اور بسکٹ، بے زبان جانوروں کی بھی کرتا ہے مدد

 



بھکتی چالک

ممبئی جیسے مصروف شہر میں جہاں ہر شخص کو جلدی ہوتی ہے اور لوگ اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں، وہاں ایک رکشہ ڈرائیور ایسا بھی ہے جو مسافروں کو مفت ٹھنڈا پانی اور بسکٹ پیش کرتا ہے۔ وہ نہ صرف مسافروں کی مدد کرتا ہے بلکہ زخمی جانوروں کو اسپتال پہنچانے اور ان کے علاج کا انتظام بھی کرتا ہے۔ اس رکشہ ڈرائیور کا نام حبیب شیخ ہے، جس نے اپنی محنت اور انسان دوستی سے ممبئی میں ایک الگ پہچان بنائی ہے۔

حبیب شیخ کی زندگی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ کبھی وہ نقلی زیورات فروخت کرتے تھے، لیکن کورونا لاک ڈاؤن کے دوران ان کا کاروبار ختم ہوگیا۔ اس مشکل وقت میں انہوں نے پانی کی بوتلیں فروخت کرنا شروع کیا۔ آج ان کا رکشہ صرف روزی کمانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسانوں اور بے زبان جانوروں کی مدد کا ایک وسیلہ بن چکا ہے۔

حبیب نے ’آواز دی وائس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی زندگی کے کئی واقعات بیان کیے اور بتایا کہ کس طرح ایک بلی کے بچے کی مدد کرنے کے بعد ان کی زندگی میں تبدیلی آئی۔

ایک بلی کے بچے نے زندگی کا راستہ بدل دیا

حبیب شیخ نے اپنے کاروبار کا آغاز نقلی زیورات فروخت کرکے کیا تھا۔ لیکن کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کا کاروبار بند ہوگیا۔ حالات اتنے خراب ہوگئے کہ ان کے پاس ایک روپیہ بھی نہیں بچا۔

ایسے مشکل وقت میں انہوں نے پانی کی بوتلیں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں امید تھی کہ اس چھوٹے سے کاروبار سے ان کی آمدنی شروع ہوجائے گی، لیکن مسلسل چار دن تک سڑکوں پر گھومنے کے باوجود کوئی دکاندار ان سے پانی کی بوتل خریدنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ آخرکار وہ مایوس ہوگئے اور کاروبار چھوڑنے کے بارے میں سوچنے لگے۔

اسی دوران ایک شام تقریباً سات بجے یش راج اسٹوڈیو کے قریب ایک گاڑی کے نیچے سے بلی کے بچے کے رونے کی آواز آئی۔ اس کی ماں وہاں موجود نہیں تھی۔ حبیب کو ڈر تھا کہ کہیں کوئی گاڑی اسے کچل نہ دے۔ انہوں نے فوراً بلی کے بچے کو اٹھایا، ایک تھیلے میں رکھا اور اپنے گھر لے آئے۔گھر پہنچ کر انہوں نے اسے کھانا کھلایا۔ بھوک مٹنے کے بعد بلی کا بچہ آرام سے سو گیا۔اگلی صبح جب حبیب پانی کی بوتلیں فروخت کرنے نکلے تو ان کے ساتھ ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ دوپہر تک ان کی 20 بوتلیں فروخت ہوچکی تھیں۔

حبیب کہتے ہیں کہ چار دن تک کوئی گاہک نہیں ملا تھا، لیکن بلی کے بچے کی مدد کرنے کے اگلے ہی دن 20 بوتلیں فروخت ہوگئیں۔ انہیں محسوس ہوا کہ یہ اس نیک کام کی برکت ہے۔ اس واقعے کے بعد ان کی سوچ بدل گئی اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ضرورت مند انسانوں اور جانوروں کی مدد کریں گے۔

سائیکل سے رکشے تک کا سفر

پانی کی بوتلیں فروخت کرنے کا کاروبار آہستہ آہستہ چل نکلا۔ ابتدا میں حبیب سائیکل پر پانی فروخت کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے ایکٹیوا خرید لی، جس سے ان کے لیے کام کرنا آسان ہوگیا۔کاروبار بڑھنے لگا تو انہوں نے چار پہیوں والی گاڑی خریدنے کا ارادہ کیا۔ لیکن جب وہ شوروم پہنچے تو انہیں ٹیمپو کی قیمت آٹھ لاکھ روپے بتائی گئی۔ اتنی بڑی رقم کا انتظام کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا، اس لیے انہوں نے اپنا ارادہ بدل دیا۔

اس وقت ان کے پاس دو لاکھ روپے جمع تھے۔ انہوں نے سوچا کہ ان پیسوں سے رکشہ خرید لیا جائے۔ وہ ایک آٹو رکشہ شوروم پہنچے، جہاں رکشے کی قیمت چار لاکھ روپے بتائی گئی۔ حبیب کے پاس صرف دو لاکھ روپے تھے، اس لیے وہ مایوس ہوکر واپس جانے لگے۔

لیکن شوروم کے مالک نے انہیں واپس بلایا اور دو لاکھ روپے نقد لے کر باقی دو لاکھ روپے ادھار پر رکشہ دینے پر رضامندی ظاہر کردی۔اس طرح حبیب کو اپنا رکشہ مل گیا۔ یہی رکشہ آگے چل کر ان کی پہچان بن گیا۔

پہلے ہی دن ایک خاتون نے دیا اہم سبق

رکشہ خریدنے کے بعد حبیب نے اسے پانی کی بوتلیں پہنچانے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ لیکن اس کام میں صرف دو گھنٹے لگتے تھے۔ باقی وقت میں وہ کیا کریں، یہ ان کے لیے ایک سوال تھا۔

ایک دن وہ لوکھنڈ والا میں انفینٹی مال کے قریب کھڑے تھے کہ ایک خاتون نے ان سے درخواست کی کہ وہ انہیں ڈی این نگر چھوڑ دیں۔ حبیب کے لیے رکشہ چلانے کا یہ پہلا دن تھا اور انہیں راستوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ اس لیے انہوں نے پہلے خاتون کو لے جانے سے انکار کردیا، لیکن بعد میں ان کی درخواست پر راضی ہوگئے۔

خاتون نے انہیں رکشے کا میٹر دیکھنے اور نقشے کی مدد سے راستہ معلوم کرنے کا طریقہ سمجھایا۔ سفر ختم ہونے پر میٹر کے مطابق کرایہ 40 روپے بنا، لیکن خاتون نے حبیب کو 100 روپے دیے۔ یہ ان کے لیے پہلے دن کی خوشی اور حوصلہ افزائی کا تحفہ تھا۔

حبیب بتاتے ہیں کہ وہ ابھی خاتون کے دیے ہوئے 100 روپے جیب میں رکھنے بھی نہیں پائے تھے کہ ایک اور مسافر آگیا۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سڑک پر کسی ضرورت مند انسان، جانور یا پرندے کو دیکھیں گے تو اس کی مدد ضرور کریں گے۔

مسافروں کے لیے مفت پانی اور بسکٹ

حبیب شیخ کے رکشے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں سفر کرنے والے مسافروں کو مفت ٹھنڈا پانی اور بسکٹ دیے جاتے ہیں۔ رکشے کے پیچھے ایک بڑا ترنگا بھی بنا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ رکشے میں چھوٹے چھوٹے گملے رکھے گئے ہیں، جو اسے خوب صورت بناتے ہیں۔

حبیب ان مسافروں کو بھی اپنے رکشے میں بٹھاتے ہیں جنہیں دوسرے رکشہ ڈرائیور لے جانے سے انکار کردیتے ہیں۔ وہ 25 یا 30 روپے کے معمولی کرایے پر بھی مسافروں کو لے جانے سے منع نہیں کرتے۔

وہ خاص طور پر اسپتال جانے والے نابینا افراد، حاملہ خواتین، چھوٹے بچوں والی ماؤں اور بزرگوں کی مدد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

کئی مسافر ان کے اس کام سے خوش ہوکر انہیں اضافی پیسے بھی دیتے ہیں۔ حبیب ان پیسوں سے رکشے کے اخراجات پورے کرتے ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے ہیں۔

زخمی جانوروں کے لیے رکشے میں کھانے اور دواؤں کا انتظام

حبیب شیخ کی محبت صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے۔ ان کے رکشے میں بلیوں اور کتوں کے لیے کھانا اور دوائیں بھی موجود رہتی ہیں۔ وہ سڑک پر زخمی یا بیمار جانوروں کو دیکھتے ہیں تو انہیں اپنے رکشے میں بٹھا کر اسپتال لے جاتے ہیں۔

کئی مرتبہ وہ رات کے وقت بھی زخمی جانوروں کو علاج کے لیے اسپتال پہنچاتے ہیں اور ان کے علاج کا خرچ خود برداشت کرتے ہیں۔

حبیب کے اس جذبے سے متاثر ہوکر ایک خاتون ڈاکٹر نے ان کے ذریعے اسپتال لائے جانے والے جانوروں کا مفت علاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح حبیب کو زخمی جانوروں کی مدد میں مزید سہولت مل گئی۔

جانوروں سے اپنی محبت کے بارے میں بات کرتے ہوئے حبیب جذباتی ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی انسان مشکل میں ہو تو وہ رات کے ایک بجے بھی اسپتال پہنچ سکتا ہے، لیکن بے زبان جانور اپنی تکلیف بیان نہیں کرسکتے۔ وہ صرف اس امید میں انسانوں کی طرف دیکھتے ہیں کہ کوئی ان کی مدد کرے گا اور انہیں کھانا یا دودھ دے گا۔

حبیب کے مطابق، ان بے زبان جانوروں کی مدد کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بالی ووڈ کی شخصیات بھی حبیب کے رکشے کی سیر کرچکی ہیں حبیب شیخ کے انوکھے رکشے اور ان کے سماجی کام کی شہرت اب بالی ووڈ تک بھی پہنچ چکی ہے۔ اداکارہ ادا شرما اور مشہور ٹی وی سیریل ’تارک مہتا کا الٹا چشمہ‘ میں ریٹا رپورٹر کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ پریا آہوجا سمیت کئی فنکار ان کے رکشے میں سفر کرچکے ہیں۔

ان فنکاروں نے رکشے میں مسافروں کے لیے مفت پانی اور بسکٹ کے انتظام کے ساتھ جانوروں کی مدد کرنے کے حبیب کے جذبے کو بھی سراہا ہے۔ کئی فنکاروں نے ان کے رکشے میں سفر کی ویڈیوز بھی بنائی ہیں۔اس کے علاوہ عام مسافر بھی حبیب کے رکشے کی ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ اس طرح ان کا کام ممبئی کے لوگوں کے درمیان مقبول ہوگیا ہے۔

یتیم بچے ناصر کو بھی دیا سہارا

حبیب شیخ صرف جانوروں کی ہی نہیں بلکہ ضرورت مند انسانوں کی بھی مدد کرتے ہیں۔ ان کی مدد سے فائدہ اٹھانے والوں میں ناصر نام کا ایک بچہ بھی شامل ہے، جو اپنے گاؤں سے ممبئی آیا تھا اور اپنے والد کی سرپرستی سے محروم ہوگیا تھا۔

حبیب نے ناصر کو بری صحبت سے بچانے کے لیے اپنے پاس رکھا۔ وہ اسے روزانہ ناشتہ اور دوپہر کا کھانا دیتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ناصر کو کام بھی سکھایا اور اسے خود کفیل بنانے کی کوشش کی۔ اس کام کے بدلے وہ اسے روزانہ 200 روپے دیتے تھے۔

ناصر کے بارے میں بات کرتے ہوئے حبیب کہتے ہیں کہ وہ کوئی بڑے آدمی نہیں ہیں جو دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ اللہ انہیں یہ سب کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ وہ تو صرف ایک ذریعہ ہیں۔ ان کے نزدیک کسی یتیم بچے کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا بہت بڑی نیکی ہے۔

زخمی جانوروں کے لیے 24 گھنٹے کھلا کلینک بنانے کا خواب

حبیب شیخ مستقبل میں اپنا کاروبار بہت بڑا بنانے کے بجائے زخمی اور بیمار جانوروں کی مدد کے لیے ایک چھوٹا سا مرکز قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ ایسی جگہ بنائی جائے جہاں رات کے وقت بھی زخمی جانوروں کو لایا جاسکے اور انہیں فوری طبی مدد مل سکے۔

اس مقصد کے لیے وہ تقریباً 15 ہزار روپے ماہانہ کرایے پر ایک جگہ لینا چاہتے ہیں۔ وہاں ڈاکٹر کی خدمات بھی حاصل کرنے کا ان کا منصوبہ ہے، تاکہ جانوروں کا 24 گھنٹے علاج کیا جاسکے۔

حبیب کا ماننا ہے کہ رات کے وقت سڑکوں پر زخمی ہونے والے جانوروں کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اکثر ان کی مدد کے لیے کوئی موجود نہیں ہوتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایسے جانوروں کو وقت پر علاج مل سکے اور ان کی جان بچائی جاسکے۔

 

دوسروں کی مدد ہی اصل کمائی ہے

ممبئی جیسے مصروف شہر میں جہاں اکثر لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے، حبیب شیخ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کی مدد میں صرف کررہے ہیں۔ وہ اپنے رکشے کے ذریعے روزی بھی کماتے ہیں اور ضرورت مندوں کے لیے آسانیاں بھی پیدا کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک اصل خوشی زیادہ پیسے کمانے میں نہیں، بلکہ کسی ضرورت مند کے کام آنے میں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دوسروں کی مدد کرنے سے انہیں جو برکت اور سکون ملتا ہے، وہی ان کی حقیقی کمائی ہے۔

حبیب شیخ کی کہانی بتاتی ہے کہ دوسروں کی مدد کرنے کے لیے بہت زیادہ دولت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک چھوٹی سی کوشش بھی کسی انسان یا بے زبان جانور کی زندگی بدل سکتی ہے۔ ان کا رکشہ اس بات کی مثال ہے کہ اگر انسان کے kiدل میں دوسروں کے لیے ہمدردی ہو تو وہ اپنے روزمرہ کے کام کے دوران بھی کئی لوگوں کی مدد کرسکتا ہے۔