باسط زرگر : سری نگر
سری نگر کے مضافات میں واقع نور باغ کے کھیت ان دنوں روشن سرخ رنگ کے گلِ صد برگ جیسے پھولوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ مقامی طور پر مَوال کے نام سے پہچانے جانے والے یہ پھول کشمیر کے مشہور وازوان میں قدرتی سرخ رنگ پیدا کرنے کے لیے روایتی طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔موسم خزاں میں مَوال کے پھول پکنے کے بعد انہیں احتیاط سے توڑا جاتا ہے اور پھر خشک کیا جاتا ہے۔ کئی نسلوں سے یہ پھول کشمیری کھانوں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ خاص طور پر شادیوں تہواروں اور خاندانی تقریبات میں تیار کیے جانے والے روایتی پکوانوں میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
نور باغ کے کھیتوں میں مَوال کے پھول پوری طرح کھلنے کے بعد دور سے سرخ چادر کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ کسان کھیتوں میں جا کر ہاتھ سے پھول توڑتے ہیں اور انہیں ٹوکریوں میں جمع کرتے ہیں۔نور باغ کے ایک کسان محمد یوسف نے بتایا کہ مَوال کی فصل کی کٹائی موسمی زرعی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے اور کشمیری کھانوں میں اس کی خاص اہمیت رہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ ہمارے گھروں میں نسلوں سے مَوال استعمال ہوتا آیا ہے۔ یہ وازوان کے پکوانوں کو قدرتی سرخ رنگ دیتا ہے اور آج بھی بہت سے خاندان اسے ترجیح دیتے ہیں۔کٹائی کے بعد پھولوں کو پھیلا کر خشک کیا جاتا ہے۔ بعد میں ان کی خشک پتیوں کو کشمیری کھانوں میں روایتی قدرتی رنگ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔مَوال کا تعلق خاص طور پر روگن جوش سے ہے جو وازوان میں پیش کیے جانے والے معروف پکوانوں میں شامل ہے۔ اس پکوان کا قدرتی سرخ رنگ طویل عرصے سے اس کی نمایاں خصوصیت رہا ہے۔ تاہم جدید باورچی خانوں میں تجارتی فوڈ کلرز کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔
نور باغ میں مَوال کی کاشت سے وابستہ ایک اور کسان شبیر احمد نے کہا کہ یہ فصل کشمیر کی غذائی روایات سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پھول دیکھنے میں معمولی لگ سکتا ہے لیکن کشمیری کھانوں میں اس کی اہم جگہ ہے۔ شادیوں اور دیگر تقریبات میں آج بھی لوگ مَوال سے حاصل ہونے والے روایتی رنگ کو پسند کرتے ہیں۔کسانوں کا کہنا ہے کہ مَوال کی کاشت اور کٹائی میں خاصی محنت درکار ہوتی ہے۔ خصوصاً پھول توڑنے اور انہیں خشک کرنے کے مراحل میں احتیاط ضروری ہے۔ پھولوں کو مناسب وقت پر توڑنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ان کا رنگ اور معیار برقرار رہے۔یہ فصل کسانوں اور پھولوں کو خشک کرنے اور ان کی تیاری و فروخت سے وابستہ افراد کے لیے موسمی آمدنی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔


کشمیر کے بہت سے خاندانوں کے لیے مَوال محض ایک زرعی فصل نہیں ہے۔ روایتی کھانوں میں اس کے استعمال نے اسے کشمیر کی ثقافتی اور غذائی شناخت سے جوڑ دیا ہے۔ فصل کی کٹائی کے موسم میں کھیتوں کا گہرا سرخ رنگ کشمیر کی موسمی زراعت کے ایک کم معروف پہلو کی جھلک بھی پیش کرتا ہے۔کسانوں کو امید ہے کہ روایتی کشمیری کھانوں اور قدرتی اجزا میں بڑھتی دلچسپی سے مقامی طور پر پیدا ہونے والے مَوال کی مانگ برقرار رہے گی۔
نور باغ میں کٹائی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ پھول جلد ہی کھیتوں سے نکل کر وادی کے مختلف گھروں اور باورچی خانوں تک پہنچیں گے جہاں خشک مَوال کشمیر کے وازوان سے وابستہ اس قدرتی سرخ رنگ کو برقرار رکھے گا جو طویل عرصے سے اس کی پہچان ہے۔محمد یوسف اور شبیر احمد جیسے کسانوں کے لیے یہ فصل صرف موسمی روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسی روایتی غذائی شے کو زندہ رکھنے کا وسیلہ بھی ہے جو کشمیر کے کھانے اور ثقافتی ورثے کا حصہ بن چکی ہے۔