بیرون ملک کی آسائشیں چھوڑ کر نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے والا فیروز شیخ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
بیرون ملک کی آسائشیں چھوڑ کر نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے والا فیروز شیخ
بیرون ملک کی آسائشیں چھوڑ کر نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے والا فیروز شیخ

 



الفیہ شیخ 

 کیا کوئی شخص لاکھوں کی تنخواہ آرام دہ زندگی اور بیرون ملک محفوظ مستقبل چھوڑ کر اپنے ملک واپس آ سکتا ہے؟ آج کے دور میں شاید بہت کم لوگ ایسا فیصلہ کرنے کا تصور کریں گے۔ لیکن فیروز جان محمد شیخ نے نہ صرف یہ فیصلہ کیا بلکہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا رخ بھی نوجوانوں کی رہنمائی اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے وقف کر دیا۔

دبئی اور سعودی عرب جیسے ممالک میں تقریباً 24 برس تک فیکٹری مینیجر سمیت مختلف اہم عہدوں پر کام کرنے کے بعد فیروز شیخ نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ ان کا مقصد نوجوانوں کو تعلیم ہنر روزگار اور کاروبار کے میدان میں درست رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں حال ہی میں پونے کے پولیس کمشنر امیتیش کمار نے انہیں شہری اعزاز سے نوازا۔

عام پس منظر سے کامیابی کے سفر تک

فیروز شیخ کا تعلق ستارہ ضلع کے پھلٹن تعلقہ کے سونواڑی بڈروک گاؤں سے ہے۔ ایک کاشتکار خاندان میں پیدا ہونے والے فیروز نے محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھی اور اسے کامیابی سے مکمل کیا۔ گزشتہ 22 برس سے وہ پونے کے کٹراج علاقے میں مقیم ہیں۔

انہوں نے سرکاری کالج سے میکینیکل انجینئرنگ میں گریجویشن کیا۔ تعلیم حاصل کرنے کی اپنی خواہش کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے ایم بی اے کے ساتھ آئی ایس او آڈیٹر کی تربیت بھی حاصل کی۔ اس اضافی تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت نے انہیں اپنے کیریئر میں آگے بڑھنے کے نئے مواقع فراہم کیے۔

بیرون ملک کامیاب کیریئر کے باوجود وطن واپسی

ہندستان میں اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کرنے کے بعد فیروز کو بیرون ملک کام کرنے کے مواقع ملے۔ وہ دبئی اور سعودی عرب کی مختلف معروف کمپنیوں سے وابستہ رہے اور اہم انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ فیکٹری مینیجر کے طور پر بھی انہوں نے طویل عرصے تک کام کیا۔

بیرون ملک انہیں اچھی ملازمت آمدنی اور آرام دہ زندگی میسر تھی۔ اس کے باوجود ان کے ذہن میں ایک سوال مسلسل موجود رہا کہ ملک کے نوجوانوں کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ نوجوانوں کو صرف ملازمت کی تلاش تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ہنر سیکھنے کی ترغیب دی جائے اور تعلیم روزگار اور کاروبار کے درست راستے دکھائے جائیں۔

اسی مقصد کے تحت انہوں نے 2019 میں بیرون ملک کی اپنی ملازمت چھوڑنے اور وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ان کے لیے محض پیشہ ورانہ تبدیلی نہیں تھا بلکہ نوجوانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کا آغاز تھا۔

نوجوانوں کے لیے روزگار اور رہنمائی کا پلیٹ فارم

وطن واپسی کے بعد فیروز شیخ نے تربیت روزگار اور پیشہ ورانہ رہنمائی کے شعبے میں کام شروع کیا۔ آج وہ ملٹی جینئس پروفیشنلز پرائیویٹ لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور جینیئس پروفیشنلز کے سربراہ ہیں۔ ان کے ادارے پونے اور لندن میں بھی کام کر رہے ہیں۔

گزشتہ سات برسوں کے دوران ان کی کوششوں سے 900 سے زائد نوجوانوں کو باقاعدہ روزگار حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔ اس کے علاوہ 3000 سے زائد نوجوانوں اور شہریوں نے تعلیم پیشہ ورانہ زندگی نئے کاروبار اور روزگار کے مختلف مواقع کے حوالے سے رہنمائی حاصل کی ہے۔

نوجوانوں کو غلط راستے سے واپس لانے کی کوشش

فیروز شیخ کی سماجی سرگرمیاں صرف روزگار کی فراہمی تک محدود نہیں ہیں۔ انہوں نے ایسے نابالغ بچوں اور نوجوانوں کے لیے بھی کام کیا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر جرائم یا غلط سرگرمیوں کی طرف مائل ہو رہے تھے۔

وہ ایسے نوجوانوں کی ذاتی سطح پر رہنمائی اور مشاورت کرتے ہیں اور انہیں دوبارہ تعلیم اور ہنر کی ترقی کے راستے پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا مقصد نوجوانوں کو صرف وقتی مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں ایسا راستہ دکھانا ہے جس سے وہ اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ نئے کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے رہنمائی اور تربیتی پروگرام بھی منعقد کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنے خیالات کو عملی شکل دینے میں مدد مل سکے۔

سماجی خدمات کا اعتراف

فیروز شیخ کی تعلیمی سماجی اور پیشہ ورانہ خدمات کو مختلف سطحوں پر سراہا گیا ہے۔ ان کے اداروں کی سرگرمیاں پونے کے ساتھ لندن تک پھیلی ہوئی ہیں اور انہیں مختلف قومی بین الاقوامی اور ریاستی اعزازات بھی مل چکے ہیں۔

بیرون ملک ایک کامیاب اور آرام دہ زندگی کو چھوڑ کر اپنے ملک واپس آنے اور نوجوانوں کی رہنمائی کو مقصد زندگی بنانے والے فیروز شیخ کو پونے کے پولیس کمشنر امیتیش کمار کی جانب سے دیا گیا شہری اعزاز ان کی سماجی خدمات کے اعتراف کی ایک اہم مثال ہے۔ ان کی کہانی اس بات کی مثال پیش کرتی ہے کہ پیشہ ورانہ کامیابی کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ بھی انسان کی زندگی کو ایک نیا مقصد دے سکتا ہے۔