باسط زرگر : پامپور
کشمیر کے زعفران کی کاشت کے لیے مشہور علاقے پامپور میں کسانوں نے قیمتی جامنی پھولوں کی چنائی شروع کردی ہے۔ گزشتہ سیزن میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد اس سال کسانوں کو بہتر فصل کی امید ہے۔
جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں واقع پامپور اور اس کے آس پاس کے دیہات میں زعفران کے پھول کھلنے کا سالانہ موسم شروع ہوگیا ہے۔ کسان صبح سویرے کھیتوں میں پہنچ کر نازک زعفرانی پھول چنتے ہیں اور پھر ان سے قیمتی سرخ ریشے الگ کرتے ہیں۔ ان ریشوں کو خشک کرکے دنیا کا مہنگا ترین مصالحہ زعفران تیار کیا جاتا ہے۔
مقامی زبان میں ’کونگ‘ کہلانے والا زعفران ’لال سونا‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ کشمیر کی قیمتی زرعی پیداوار میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی کاشت ہزاروں کسان خاندانوں کے لیے روایتی ذریعہ معاش رہی ہے۔ خاص طور پر پامپور کو کشمیر کا زعفران دارالحکومت کہا جاتا ہے۔تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران زعفران کی فصل کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ موسم میں تبدیلی بارش کی کمی برف باری میں گراوٹ اور آبپاشی کے ناکافی انتظامات نے اس کی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔
پامپور کے پٹی باغ علاقے سے تعلق رکھنے والے زعفران کے کاشت کار ارشاد احمد نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس مرتبہ فصل کی صورت حال بہتر ہے۔ گزشتہ سیزن میں کسانوں کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ارشاد احمد نے کہا کہ اس سال فصل نسبتاً بہتر ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سیزن میں زعفران کی پیداوار میں تقریباً 80 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کھیتوں میں نمی کی کمی نے پھولوں کی نشوونما کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں محنت اور سرمایہ لگانے کے باوجود بہت سے کسانوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔حالیہ بارشوں سے کاشت کاروں کو کچھ راحت ملی ہے۔ تاہم زعفران کے علاقے میں پھول کھلنے کا سلسلہ جاری ہونے کے باعث کسان حتمی پیداوار کے بارے میں ابھی محتاط ہیں۔
بہت سے کسان خاندانوں کے لیے زعفران کی کٹائی کا موسم کئی گھنٹوں کی سخت محنت کا تقاضا کرتا ہے۔ خاندان کے افراد مل کر پھول چنتے ہیں اور انہیں گھروں میں لے جاکر جامنی پنکھڑیوں سے سرخ ریشے الگ کرتے ہیں۔ بعد ازاں ان ریشوں کو خشک کرکے محفوظ کیا جاتا ہے اور مقامی و بیرونی بازاروں میں فروخت کیا جاتا ہے۔
پامپور کے من پورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے زعفران کے کاشت کار غلام محی الدین بٹ نے بتایا کہ بروقت آبپاشی سے ان کے کھیتوں میں پیداوار بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے اس سیزن میں 100 کلوگرام سے زیادہ زعفرانی پھولوں کی کٹائی کی ہے۔
غلام محی الدین بٹ نے کہا کہ انہیں اس سال زعفران کی اتنی شاندار فصل کی توقع نہیں تھی اور حوصلہ افزا پیداوار سے وہ بے حد خوش ہیں۔ انہوں نے بہتر فصل کا سہرا بروقت آبپاشی کو دیا۔پامپور کے ایگریکلچر ایکسٹینشن افسر میر عاشق حسین نے بتایا کہ پامپور من پورہ کونہ بل دسو لادھو چندھارا اور لیتھ پورہ سمیت زعفران کی کاشت والے کئی دیہات میں پھول کھلنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بروقت بارش نے اس سیزن میں فصل کو فائدہ پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر مسابقتی بہتری پروجیکٹ کے تحت دوبارہ شجرکاری اور پودے لگانے کی سرگرمیوں کے بھی حوصلہ افزا نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔میر عاشق حسین نے کہا کہ انہیں اس سال اچھی فصل کی امید ہے۔ کسانوں کی محنت اور مختلف منصوبوں کے تحت کی جانے والی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔
بعض کھیتوں میں بہتر فصل کے آثار کے باوجود کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ زعفران کی کاشت کا مستقبل قابل اعتماد آبپاشی کے نظام روایتی زعفرانی زمینوں کے تحفظ اور کسانوں کی مدد سے وابستہ ہے۔پامپور کے کسانوں کے لیے زعفران کی سالانہ فصل محض ایک زرعی سرگرمی نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی روایت ہے۔ یہ روایت ان خاندانوں کو اپنی زمین اور علاقے کے ثقافتی ورثے سے جوڑے رکھتی ہے۔