ترون نندی، کولکاتا
انسانیت کی حقیقی تصویر یہی ہے۔ ایک بزرگ خاتون جو تنہا زندگی گزار رہی تھیں اور روزانہ دو وقت کی روٹی کے انتظام کے لیے جدوجہد کرتی تھیں ان کی زندگی میں بالآخر امید کی ایک کرن روشن ہوئی۔ جب ایک مقامی صحافی نے رقیہ بی بی کی بے بسی اور پریشانی کی دل دہلا دینے والی تصویریں اپنے کیمرے میں قید کیں تو فلاحی تنظیم ’اسہائےر بندھو‘ ان کی مدد کے لیے آگے آئی۔ تنظیم کے ارکان کو جیسے ہی ان کی حالت کا علم ہوا وہ کھانا لے کر فوراً ان کے پاس پہنچ گئے۔ تاہم ان کی مدد صرف ایک دن تک محدود نہیں رہے گی۔ تنظیم کے ارکان نے رقیہ بی بی کو زندگی بھر کھانا فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھا لی ہے۔ بھوک اور غیر یقینی صورت حال کے درمیان زندگی گزارنے والی رقیہ بی بی کو اب نئی امید ملی ہے اور انہیں یہ اطمینان بھی حاصل ہوا ہے کہ وہ آئندہ نسبتاً سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں گی۔
رقیہ بی بی شمالی 24 پرگنہ ضلع کے سروپ نگر علاقے کے سراپول گاؤں کی رہنے والی ہیں۔ اب تک وہ خراب صحت اور تنہائی کے مسائل سے دوچار تھیں۔ روزانہ کھانے کا انتظام کرنے کی فکر اور دیگر مشکلات نے ان کی زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیا تھا۔ انہیں ہر وقت یہ اندیشہ رہتا تھا کہ آیا انہیں دن میں دو وقت پیٹ بھر کھانا بھی نصیب ہو سکے گا یا نہیں۔ ایک صحافی نے ان کی زندگی کی اس تلخ حقیقت کو اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ رقیہ بی بی کی پریشانی کی تصویریں جیسے ہی عام ہوئیں تنظیم ’اسہائےر بندھو‘ کے ارکان نے فوری طور پر ان کی مدد کا فیصلہ کیا۔
.png)
اطلاع ملتے ہی تنظیم کے ارکان ان کے پاس پہنچے اور انہیں کھانا فراہم کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک بڑا یقین بھی دلایا۔ تنظیم کے ارکان نے ذمہ داری لی کہ رقیہ بی بی کو اپنی باقی زندگی کھانے پینے کی فکر میں نہیں گزارنی پڑے گی۔ یہ پہل مصیبت میں گھرے کسی انسان کی مدد کے لیے آگے بڑھنے کی ایک قابل قدر مثال ہے۔ ان کے ساتھ کھڑی ہونے والی تنظیم کا نام ’اسہائےر بندھو‘ ہے۔ اگرچہ اس تنظیم کو قائم ہوئے ابھی صرف پانچ سال ہوئے ہیں لیکن سروپ نگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ضرورت مندوں کی مدد کے لیے اس کی کوششیں انسانیت کی روشن مثال بن چکی ہیں۔
تاہم ’اسہائےر بندھو‘ کا سفر کبھی آسان نہیں رہا۔ تنظیم کو ہر قدم پر رکاوٹوں اور نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ طوفان ہو یا موسلا دھار بارش یا قدرتی آفات تنظیم کے ارکان نے اپنی ذمہ داریوں سے کبھی منہ نہیں موڑا۔ تنظیم کے ہر رکن کے لیے سماجی خدمت کسی خاص موقع پر انجام دیا جانے والا کام نہیں بلکہ روزانہ کی ذمہ داری ہے۔ ان کا مقصد سڑکوں کے کنارے زندگی گزارنے والے بے سہارا اور بھوکے ضرورت مندوں کو سال کے تمام 365 دن پکا ہوا کھانا فراہم کرنا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ضرورت مندوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے بڑے انتظامات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے صرف کسی کی مدد کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔
.png)
وقت کے ساتھ ’اسہائےر بندھو‘ کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا ہے۔ آج جب بھی تنظیم کو سروپ نگر یا آس پاس کے علاقوں میں کسی بے گھر شخص یا ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار کسی پریشان حال فرد کے بارے میں اطلاع ملتی ہے تو اس کے ارکان مدد کے لیے پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تنظیم کے ارکان غریب خاندانوں کے بچوں میں تعلیمی سامان بھی تقسیم کرتے ہیں تاکہ انہیں تعلیم حاصل کرنے کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ فوری سماجی ضروریات سے لے کر عام لوگوں کے علاج معالجے تک تنظیم اپنی استطاعت کے مطابق مدد فراہم کرتی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ متعدد عطیہ دہندگان خیر خواہ اور درد مند افراد تنظیم کی مسلسل کوششوں میں تعاون کرتے ہیں۔ لوگوں کا اعتماد اور محبت ہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اسی تعاون کے سہارے تنظیم کے ارکان مزید ضرورت مندوں تک پہنچنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں شناخت مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کی باتیں جاری ہیں ’اسہائےر بندھو‘ کی یہ پہل ایک مضبوط پیغام دیتی ہے کہ بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بے بسی کی کوئی ذات نہیں ہوتی اور انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔