اسرائیل: ایک بدو خاتون کی جدو جہد اور عرب اور یہودی ووٹرز کا اتحاد , کیسے لایا نیتن یاہو کا زوال

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 02-11-2026
اسرائیل کا الیکشن: ایک بدو خاتون ام خالد فتّون  کی جدو جہد اور عرب اور یہودی ووٹرز کا اتحاد , کیسے لایا نیتن یاہو کا زوال
اسرائیل کا الیکشن: ایک بدو خاتون ام خالد فتّون کی جدو جہد اور عرب اور یہودی ووٹرز کا اتحاد , کیسے لایا نیتن یاہو کا زوال

 



نئی دہلی:  اسرائیل کے انتخابات میں اب تک عہدے پر قائم وزیراعظم نیتن  یاہو کے تمام اندازے الٹ گئے اور خدشات درست ثابت ہوئے ,وہ   جنگ کے باوجود اسرائیلی عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے جبکہ اس سیاسی صورتحال کے پیچھے کا سب سے بڑا سبب ملک میں بدو خواتین میں الیکشن حقوق کے لیے بیداری اور عرب یہودی اتحاد ہے _جس نے نیتن یاہو کی راتوں کی نیند اڑا دی -

اسرائیلی الیکشن اور سیاسی الٹ پھیر کے سلسلے میں برطانیہ کے اخبار میل آن لائن نے ایک دلچسپ اسٹوری شائع کی ہے، جس کے مطابق جنگ کے بعد عرب اور یہودی ووٹرز کی سوچ میں تبدیلی نے متن یاہو کے لیے سیاسی کھائی پیدا کر دی ہے،دراصل اسرائیل کے صحرائے نیگیو میں آباد مسلمان بدو خواتین نے گھروں کی مسماری، نسلی امتیاز، جنگ اور عدم تحفظ کے خلاف اپنے ووٹ کو احتجاج کا ہتھیار بنا لیا۔ انتخابات سے قبل چلائی گئی ایک عوامی بیداری مہم کے نتیجے میں بعض بدو دیہات میں ووٹنگ کی شرح تین گنا تک بڑھ گئی، جب کہ خواتین کی شرکت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اس انتخابی سرگرمی نے نہ صرف انتہا پسند وزیر ایتامار بن گویر کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ناراضی کو ظاہر کیا، بلکہ فلسطینی قیادت والی عرب جماعتوں کی پارلیمانی کامیابی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

گزشتہ سال ام خالد فتّون جنگ سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے قائم ایک یہودی-عرب امدادی مرکز میں رضاکارانہ خدمات انجام دے کر واپس لوٹیں تو انہوں نے دیکھا کہ بلڈوزر ان کے بیٹے کے گھر کو مسمار کر رہے ہیں۔ یہ مکان صحرائے نیگیو کے بدو گاؤں عزرنوق میں واقع تھا۔پولیس کی حفاظت میں پہنچنے والے انہدامی دستے نے انہیں گھر کا فرنیچر اور شمسی توانائی کے پینل تک نکالنے کی اجازت نہیں دی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے مکان اور اس کے سامان کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا۔

اس ہفتے انہوں نے بیلٹ باکس کے ذریعے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا ہدف انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر تھے، جنہوں نے فلسطینیوں اور عرب شہریوں کے گھروں کی بڑے پیمانے پر مسماری کے احکامات دیے اور اس پر فخر کا اظہار بھی کیا۔فتّون نے کہا، ’’میرا صرف ایک مقصد تھا، ایتامار بن گویر کو اقتدار سے باہر کرنا۔ بدو برادری میں ایک بھی ایسا خاندان نہیں ہے جو ہمارے خلاف ان کی مہم سے متاثر نہ ہوا ہو۔‘‘

بدو خواتین کو ان کے ووٹ کی طاقت کا احساس دلانے کی مہم

انتخابات سے پہلے کے ہفتوں میں ام خالد فتّون نے ایک عوامی سطح کی مہم میں حصہ لیا، جس کا مقصد بدو خواتین کو ان کے حقوق اور ان کی اجتماعی سیاسی طاقت سے آگاہ کرنا تھا۔اس مہم کے غیر معمولی نتائج سامنے آئے۔ منگل کو ہونے والے انتخابات میں جنوبی نیگیو خطے کے بعض بدو دیہات میں ووٹنگ کی شرح تین گنا تک بڑھ گئی۔ مجموعی طور پر بھی بدو ووٹروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

وکیل حنان السنہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے برسوں تک جاری رہنے والے تشدد اور نسل پرستانہ رویے نے قدامت پسند برادریوں میں تبدیلی کا راستہ ہموار کیا۔ السنہ نے النسیمیات (Alnashmiat) نیٹ ورک قائم کیا تھا، جس نے اس عوامی مہم کی قیادت کی۔

انہوں نے کہا، ’’ہم نے خواتین سے کہا کہ اگر تمام مرد بھی ووٹ ڈالنے چلے جائیں تو وہ برادری کی صرف نصف نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ کو اپنے تمام ووٹوں کی طاقت استعمال کرنی ہوگی، کیونکہ بن گویر کے پاس بہت زیادہ طاقت ہے۔‘‘

السنہ سماجی انصاف کے لیے خواتین وکلا کی تنظیم ’ایتاح معاکی‘ (Itach-Ma’aki) کی شریک ڈائریکٹر بھی ہیں۔

عرب ووٹروں کی تاریخی شرکت، فلسطینی جماعتوں کو کنیسٹ میں 19 نشستیں

بدو ووٹروں کی تعداد میں اضافہ اسرائیل کے عرب شہریوں میں تاریخی طور پر بلند ووٹنگ شرح کے دوران سامنے آیا۔ ان کے ووٹوں نے فلسطینی قیادت والی جماعتوں کو کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں ریکارڈ 19 نشستیں دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان نتائج کے باعث وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے اتحادی اپنی حکومتی اکثریت کھو بیٹھے۔

اس سال کسی بھی بدو برادری میں ووٹنگ کی سب سے کم شرح 62 فیصد رہی، جب کہ سب سے زیادہ شرح 93 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔ اندازے کے مطابق تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار بدو شہری ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ ان کی بڑی تعداد میں شرکت نے اسلام پسند جماعت رعام (Ra’am) کو انتخابی جائزوں کی توقعات سے بہتر کارکردگی دکھانے میں مدد دی۔

نیتن یاہو بارہا اپنے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے متحرک کرنے کی غرض سے نسل پرستانہ خوف پھیلانے کی مہم چلاتے رہے ہیں۔ اس سال ان کی مہم میں مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ایک تصویر بھی شامل تھی، جس میں مبینہ طور پر فلسطینی علاقے کے ایک پولنگ اسٹیشن پر بڑی تعداد میں لوگوں اور بدو خواتین کو دکھایا گیا تھا۔

فلسطینی قیادت والی جماعتوں کے حق میں ووٹوں میں اضافے کو کمزور کرنے کی بظاہر کوشش کرتے ہوئے نیتن یاہو نے ان جماعتوں پر دھاندلی اور بیرونی حمایت حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے۔وزیر اعظم کے قریبی ساتھی اور سیاسی مبصر امیت سیگل نے کہا’’خصوصاً بدو برادری اور عمومی طور پر عرب برادری میں ووٹنگ کی شرح میں اضافہ اسرائیل کی تاریخ میں بے مثال ہے۔‘‘

تاہم اپوزیشن رہنماؤں، انتخابی منتظمین اور نیگیو کے کارکنوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔گاؤں ابو طلول کی ایک منتظم امیرہ حب دوبی نے کہا، ’’مجھے ہماری ووٹنگ کی شرح پر بہت فخر ہے۔ وہ اس اضافے کی وجہ ’بدعنوانی‘ بتا رہے ہیں، جب کہ اس کے لیے صحیح لفظ ’بیداری‘ ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسی برادری کے لیے، جس کے شہری حقوق پر نسل پرستانہ حکام کی نگرانی اور پابندیاں عائد ہیں، انتخابات سیاسی اظہار کا ایک نادر موقع تھے۔ان کے بقول، ’’ہم احتجاج نہیں کر سکتے، کیونکہ ایسا کرنے پر ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ ووٹنگ ہی ہمارے پاس سیاسی احتجاج کرنے کا واحد موقع ہے۔‘‘

غیر تسلیم شدہ دیہات، بنیادی سہولتوں سے محرومی اور ریاستی امتیاز

مسلمان بدو اسرائیل کے اندر ایک محروم اقلیت کا حصہ ہیں۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے وہ صحرائے نیگیو کے وسیع علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت کرتے تھے۔

آج ان کے دیہات خطے کی صرف 2.5 فیصد زمین پر مشتمل ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے دیہات کو ’غیر تسلیم شدہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ ریاست کی جانب سے انہیں مسماری کی کارروائیوں کا سامنا ہے اور وہ بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ نیگیو کے بیشتر حصے کو فوجی تربیت کے میدانوں اور فائرنگ رینج کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔نیگیو کے تقریباً 30 غیر تسلیم شدہ علاقوں میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد رہتے ہیں، جب کہ مزید دو لاکھ افراد سرکاری قصبوں یا جزوی طور پر تسلیم شدہ بستیوں میں آباد ہیں۔

جنگ اور عدم تحفظ نے بھی بدو ووٹروں کو متحرک کیا

نیتن یاہو کی جانب سے خطے میں غیر معینہ مدت تک جنگی تنازعات جاری رکھنے کی پالیسی نے بھی بدو ووٹروں کو انتخابات میں حصہ لینے پر آمادہ کیا۔ غیر تسلیم شدہ دیہات میں جنگ کا خوف خاص طور پر زیادہ ہے، کیونکہ ریاست نے وہاں بم شیلٹرز یا راکٹ، ڈرون اور میزائل حملوں سے پہلے خبردار کرنے والے سائرن فراہم نہیں کیے ہیں۔

پناہ گاہوں سے محروم بدو دیہات میں گرنے والے راکٹوں کے نتیجے میں 7 اکتوبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والے 36 بچوں میں سے چھ بچے جان سے گئے تھے۔ اس روز ان دیہات میں کئی بالغ افراد بھی مارے گئے تھے، جب کہ ایرانی میزائل حملوں میں کم از کم چار افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔منظم جرائم میں اضافہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس پر موجودہ حکومت کے دور میں تقریباً کوئی قابو نہیں پایا جا سکا۔مایادہ ابو خویدہ نے کہا، ’’ہمارے مقاصد واضح تھے: گھروں کی مسماری بند ہو، نفرت ختم ہو اور جنگ روکی جائے۔ بن گویر ہر وقت سلامتی کی بات کرتے ہیں، لیکن ہم خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے اور کسی کو ہماری پروا نہیں ہے۔‘‘

پولنگ اسٹیشنوں تک رسائی بھی خواتین کے لیے ایک بڑا چیلنج

کارکنوں نے خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کے ساتھ ووٹ ڈالنے میں حائل عملی، انتظامی اور ثقافتی رکاوٹوں کو دور کرنے میں بھی مدد کی۔ابو خویدہ نے کہا، ’’غیر تسلیم شدہ دیہات کے رہائشی بلدیاتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکتے، اسی لیے بہت سی خواتین کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ انہیں قومی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ ہم نے انہیں بتایا کہ اپنے غصے کا اظہار کرنے اور اپنی آواز بلند کرنے کا ایک قانونی طریقہ بھی موجود ہے۔‘‘

انتظامی وجوہات کی بنا پر غیر تسلیم شدہ دیہات میں پولنگ اسٹیشن بھی قائم نہیں کیے جاتے، اس لیے ووٹروں کو قریبی قصبوں تک سفر کرنا پڑتا ہے۔ مرد ووٹ ڈالنے کے لیے اونٹ، گھوڑے، گدھے اور سائیکل سمیت مختلف ذرائع استعمال کرتے تھے۔ بعض اوقات ایک طرف کا سفر ایک گھنٹے تک طویل ہوتا تھا۔

یہودی خواتین نے بدو خواتین کو پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچانے کے لیے گاڑیوں کی سہولت فراہم کی۔ تاہم 2019 میں اسرائیل کے انتخابی کمیشن نے رضاکاروں کے ذریعے اجتماعی ٹرانسپورٹ کا انتظام غیر قانونی قرار دیا تھا، اس لیے ووٹروں اور گاڑی چلانے والوں کے درمیان انفرادی طور پر رابطے قائم کیے گئے۔

یہودی-عرب کمیونٹی ایکشن گروپ ’زازیم‘ (Zazim) کی بانی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رالوکا گانیا نے کہا، ’’سینکڑوں خواتین رضاکار بدو خواتین کو پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچانے میں مدد کے لیے میدان میں اتریں، جب کہ تقریباً 150 مرد پولنگ اسٹیشنوں پر حفاظتی موجودگی کے لیے تعینات ہوئے۔‘‘

انہوں نے وضاحت کی کہ یہودی مردوں کو وہاں کھڑا کرنے کا مقصد کسی ممکنہ دائیں بازو کی اشتعال انگیزی کی صورت میں کشیدگی کم کرنا تھا، تاکہ بدو مردوں کو اشتعال دلانے والوں کے سامنے نہ آنا پڑے۔ کیونکہ پولیس کی مداخلت یا تشدد کی صورت میں بدو مردوں کے گرفتار ہونے یا ان کے ساتھ اس سے بھی زیادہ سخت سلوک کیے جانے کا خدشہ تھا۔

انتہا پسندوں کے خوف سے چہرے ڈھانپ کر ووٹ ڈالنے والی خواتین

سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کی نسل پرستانہ انتخابی مہم میں بدو خواتین کی ایسی تصاویر بھی شامل تھیں جن میں ان کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔السنہ کے مطابق، ان میں سے بعض خواتین نے اپنی برادری سے باہر کے اجنبی لوگوں کی نظروں سے بچنے کے لیے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔ تسلیم شدہ قصبوں میں، جہاں خواتین اپنے ہی علاقوں میں ووٹ ڈال سکتی تھیں، زیادہ تر خواتین نے چہرے نہیں ڈھانپے تھے۔

بعض خواتین نے اس لیے بھی اپنا چہرہ چھپایا کہ وہ بن گویر کے انتہا پسند سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تضحیک کا نشانہ نہ بنیں، جہاں عرب شہریوں کی توہین اور تذلیل پر مبنی مواد اکثر شائع کیا جاتا ہے۔ابو خویدہ نے کہا، ’’خواتین کو خدشہ تھا کہ انتہا پسند عناصر پولنگ اسٹیشنوں پر ان کی تصاویر لے کر سوشل میڈیا پر ان کا استحصال کریں گے۔ اس لیے انہوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے چہرے ڈھانپے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ بن گویر کی جانب سے تضحیک کی اس مہم نے پورے بدو معاشرے کو متاثر کیا ہے۔

خواتین کی ووٹنگ میں غیر معمولی اضافہ، بیداری مہم کے مثبت نتائج

بدو ووٹروں کو متحرک کرنے کی اس عوامی مہم کا ایک مقصد بچوں کو ان کے خواب واپس دلانا بھی تھا۔ یہی ایک وجہ تھی کہ خواتین نے اس مہم میں بھرپور حصہ لیا۔السنہ کے مطابق، ’’2022 کے گزشتہ انتخابات میں خواتین کی ووٹنگ کی شرح تقریباً 20 فیصد تھی، جب کہ اب غیر تسلیم شدہ دیہات میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خواتین کی ووٹنگ کی شرح 60 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ اسرائیل میں ووٹنگ کے اعداد و شمار کو مردوں اور خواتین کی بنیاد پر الگ الگ جاری نہیں کیا جاتا۔السنہ کے مطابق، اس منصوبے کی بنیاد النسیمیات کے ساتھ ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر محیط کام پر رکھی گئی تھی، جس میں عرب اور یہودی برادریوں کے درمیان یکجہتی کو فروغ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ نئی حکومت کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم نے اس انتخابی مہم سے ایک اہم سبق سیکھا ہے۔ ہمیں مردوں اور خواتین، عرب اور یہودی شہریوں کو مل کر کام کرنا چاہیے اور اسی طرزِ عمل کو اسرائیلی پارلیمنٹ تک لے جانا چاہیے، تاکہ ریاست کی تعمیرِ نو کی جا سکے۔‘‘