آئی ایم ایف نے ایسے وقت میں ہندوستان کی معاشی ترقی کی شرح بڑھا کر 7 فیصد کر دی ہے جب دنیا میں ٹیرف کی جنگ توانائی کے بحران اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے معاشی حالات کو مشکل بنا رکھا ہے۔یہ خوش آئند خبر ہے لیکن ترقی کا سفر ابھی طویل ہے۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے زیادہ روزگار مضبوط مینوفیکچرنگ بہتر پیداواری صلاحیت اور کروڑوں ہندوستانیوں تک خوشحالی پہنچانا ضروری ہے۔
راجیو نارائن
7 فیصد کی شرح نمو کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مالی سال 2026-27 کے لیے ہندوستان کی معاشی ترقی کی شرح کا تخمینہ پہلے کے 6.4 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کر دیا ہے۔ غیر یقینی عالمی تجارت اور بے چین مالیاتی منڈیوں کے ماحول میں یہ ہندوستانی معیشت کی رفتار پر اعتماد کا ایک خوش آئند اظہار ہے۔اس اضافے کی وجہ مستحکم گھریلو طلب اور خدمات کے شعبے کی مضبوط سرگرمیاں ہیں۔ ہندوستان کے پاس ایسی کئی طاقتیں ہیں جن سے بہت سی معیشتیں رشک کر سکتی ہیں۔ ان میں ایک بڑی گھریلو منڈی کاروباری صلاحیت پھیلتا ہوا بنیادی ڈھانچہ اور عالمی سطح پر رسائی رکھنے والا خدمات کا شعبہ شامل ہیں۔ لیکن معاشی ترقی کا تخمینہ کوئی ٹرافی نہیں ہے اور ایک اچھا سال اگلے سال کی کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔
ماضی میں آئی ایم ایف نے ہندوستان کے معاشی اعداد و شمار کے معیار دستیابی اور بروقت فراہمی کو بہتر بنانے کی گنجائش کی نشاندہی کی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ادارے نے ہندوستان کی ترقی کی کہانی کو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے نظرثانی شدہ طریقہ کار کے بارے میں اس کا حالیہ جائزہ حوصلہ افزا ہے۔ قابل اعتماد اعداد و شمار اس لیے ضروری ہیں کہ سرمایہ کاروں پالیسی سازوں اور شہریوں کو صرف یہ نہیں جاننا چاہیے کہ معیشت کتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس ترقی کے محرکات کیا ہیں۔پیغام واضح ہے۔ تعریف کا خیرمقدم کیجیے۔ اعداد و شمار کو محفوظ رکھیے اور دوبارہ کام میں جٹ جائیے۔
بیرونی دنیا کے چیلنجز
دنیا ہندوستان کے لیے کام کو آسان نہیں بنا رہی ہے۔ تجارت کو تیزی سے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ توانائی جغرافیائی سیاسی سودے بازی کا ذریعہ بن چکی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قواعد اسی وقت بدل جاتے ہیں جب انہیں بنانے والے ممالک کے مفادات بدلتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال لیجیے جنہوں نے روسی تیل خریدنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکی دی ہے یا ایسے اقدامات کیے ہیں۔ ہندوستان بھی واشنگٹن کے نشانے پر آنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔
اس کے باوجود امریکہ خود روسی نژاد جوہری ایندھن اور توانائی کے دیگر روابط پر انحصار کرتا رہا ہے۔ پابندیوں کے معاملے میں استثنیٰ اور تزویراتی انتظامات بھی اس کی پالیسی کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ جاپان نے بھی روس کے ساتھ توانائی کے بعض انتظامات برقرار رکھے ہیں۔ تفصیلات مختلف ہیں لیکن بنیادی سوال وہی ہے کہ جب استثنیٰ کا فیصلہ قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہو تو تمام ممالک کو ایک ہی اصول کا پابند بنانے کی نصیحت کتنی مؤثر رہ جاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندوستان کے فیصلوں کے کوئی نتائج نہیں ہوتے یا تمام ممالک کی توانائی کی خریداری ایک جیسی ہے۔ تاہم یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ضرور ہے کہ عالمی سیاست میں اصولوں کی بات اکثر شرائط اور استثنیٰ کے ساتھ کی جاتی ہے۔ ہندوستان کے لیے اصل تشویش ٹیرف کے اعلانات کے گرد ہونے والی سیاسی بیان بازی سے زیادہ اس کے پیچھے چھپے معاشی خطرات ہیں۔ہندوستان اپنی ضرورت کا بیشتر خام تیل درآمد کرتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ درآمدی بل بڑھا سکتا ہے۔ اس سے روپے پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ مہنگائی پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے اور گھریلو بجٹ متاثر ہو سکتا ہے۔ تجارتی رکاوٹیں ان برآمد کنندگان کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں جو نئی منڈیوں میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہندوستان واشنگٹن کے اگلے اقدام یا کسی نئے تنازعے کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ البتہ وہ توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرکے ملکی پیداواری صلاحیت بڑھا کر تجارتی روابط کو گہرا کرکے اور مقامی کمپنیوں کو معیار لاگت اور قابل اعتماد خدمات کے معاملے میں زیادہ مسابقتی بنا کر اپنی کمزوریوں کو کم کر سکتا ہے۔
روزگار اہم ہے محض اعداد و شمار نہیں
ترقی کا حقیقی امتحان واشنگٹن میں شائع ہونے والا کوئی تخمینہ نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی نوجوان ہندوستانی کو باعزت اور نتیجہ خیز روزگار مل سکتا ہے۔ کیا کوئی چھوٹا کاروبار ترقی کر سکتا ہے اور کیا کسی خاندان کے معیار زندگی میں بہتری آ سکتی ہے۔ ہندوستان کو ایسے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو اس کی آبادی اور عزائم دونوں کے مطابق ہو۔خدمات کا شعبہ ترقی کا ایک طاقتور محرک رہا ہے لیکن مینوفیکچرنگ کو روزگار اور برآمدات میں اپنا حصہ بڑھانا ہوگا۔ چھوٹی کمپنیوں کو قرض تک آسان رسائی قابل اعتماد بنیادی ڈھانچے اور ایسے ضوابط کی ضرورت ہے جو کاروبار کو وسعت دینے کے عمل کو آزمائش نہ بنا دیں۔ ہنر مندی کی تربیت کو حقیقی ملازمتوں کی ضروریات سے زیادہ قریب ہونا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت کے کام کی دنیا کو تبدیل کرنے کے ساتھ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ لوگوں کو نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے قابل بنایا جائے۔ محض ٹیکنالوجی کی تعریف کرتے رہنا کافی نہیں ہے جبکہ کارکنوں کو خود ہی بدلتے حالات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔معاشی ترقی کا انحصار کچھ ایسے بنیادی عوامل پر بھی ہے جو بظاہر زیادہ نمایاں نہیں ہوتے۔ ان میں قابل اعتماد بجلی کی فراہمی مؤثر بندرگاہیں اور ریلوے اچھے اسکول قابل رسائی صحت کی سہولتیں اور تنازعات کے تیز تر حل کا نظام شامل ہیں۔ یہ معاشی پالیسی کے اضافی اجزا نہیں ہیں بلکہ یہ پیداواری صلاحیت بڑھاتے ہیں سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہیں اور زیادہ لوگوں کو معیشت میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
ترقی کی اگلی منزل
وزیر اعظم نریندر مودی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ہندوستان کے عزائم کی تکمیل کا سفر چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ اعتراف اہم ہے کیونکہ معاشی تبدیلی کسی ایک بڑے اصلاحی قدم کے بعد جشن منانے کا نام نہیں ہے۔ یہ فیصلوں ان پر عمل درآمد اور حالات کے مطابق اصلاح کا ایک طویل سلسلہ ہے۔نجی سرمایہ کاری کے لیے پالیسیوں میں استحکام اور پیش گوئی کی صلاحیت ضروری ہے۔ ضابطوں کو مؤثر بنایا جانا چاہیے لیکن جواب دہی کمزور نہیں ہونی چاہیے۔ عدالتوں اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو تیز تر ہونا چاہیے۔ سرکاری اخراجات کو بنیادی ڈھانچے اور انسانی ترقی میں مدد دینی چاہیے جبکہ قرض اور اس پر سود کے بوجھ کو قابل انتظام رکھنا بھی ضروری ہے۔ سب سے بڑھ کر اصلاحات کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جانا چاہیے کہ زمینی سطح پر کیا تبدیلی آئی ہے نہ کہ اس اعلان کی بنیاد پر جس سے ان کا آغاز ہوا تھا۔کچھ رکاوٹیں پالیسی کے ذریعے دور کی جا سکتی ہیں جبکہ بعض کو ختم کرنے کے لیے برسوں کی مسلسل کوشش درکار ہوگی۔ ہندوستان کو صرف کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اچھا روزگار حاصل کرنے مفید ہنر سیکھنے اور ایک قابل عمل کاروبار قائم کرنے کے عمل کو بھی آسان بنانا ہوگا۔ یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہداف ہیں نہ کہ ایک دوسرے کے متضاد نعرے۔
بنیادیں مضبوط بنائیے
ایک ترقی یافتہ معیشت بننے کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی ضمانت صرف اس بات سے نہیں ملتی کہ ہندوستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیز رفتار ترقی کر رہا ہے۔ مسلسل معاشی ترقی کو بہتر پیداواری صلاحیت اچھے روزگار بڑھتی ہوئی آمدنی اور ایسے مواقع میں تبدیل ہونا چاہیے جو کامیاب شعبوں اور شہروں سے آگے بھی پہنچیں۔بیرونی دنیا میں اتار چڑھاؤ برقرار رہے گا۔ تحفظ پسندی توانائی کے بحران عالمی رقابت اور ٹیکنالوجی میں تبدیلیاں اچانک ختم ہونے والی نہیں ہیں۔ ہندوستان کا جواب یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ پرسکون موسم کا انتظار کرتا رہے۔ اسے ان بنیادوں کو مضبوط بنانا ہوگا جو اسے طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں۔آئی ایم ایف کی جانب سے ترقی کی شرح میں اضافہ خوش آئند ہے کیونکہ یہ ہندوستانی معیشت کی حقیقی رفتار کو تسلیم کرتا ہے۔ اب چیلنج یہ ہے کہ اس رفتار کو پائیدار بنایا جائے۔ اس کے لیے لوگوں پر سرمایہ کاری کاروبار کو زیادہ مسابقتی بنانا عوامی اداروں کو بہتر بنانا اور پیش رفت کی دیانت دارانہ پیمائش ضروری ہے۔ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی تک کوئی بھی شخص صرف بیس کیمپ سے نظر آنے والے منظر کا جشن منا کر نہیں پہنچا۔ اس چڑھائی کے لیے تیاری استقامت اور ایک کے بعد ایک مشکل مرحلے سے گزرنے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ ہندوستان کے پاس حوصلہ افزائی کے لیے وجوہات موجود ہیں لیکن منزل ابھی بہت دور ہے۔ترقی کی اگلی چڑھائی اب شروع ہوتی ہے۔
راجیو نارائن ایک تجربہ کار صحافی اور شعبۂ ابلاغ کے ماہر ہیں۔