مرشد آباد: ہندو نوجوان کی آخری رسومات کے لیے مسلم نوجوانوں نے کیا انتظام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 01-11-2026
مرشد آباد: ہندو نوجوان کی آخری رسومات کے لیے مسلم نوجوانوں نے کیا انتظام
مرشد آباد: ہندو نوجوان کی آخری رسومات کے لیے مسلم نوجوانوں نے کیا انتظام

 



ترون نندی، کولکاتا

مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد کے ایک گاؤں میں ایک نوجوان ہندو کی موت نے اس کے اہل خانہ کو غم میں ڈبو دیا۔ گھر میں پہلے ہی معاشی تنگی تھی اور نوجوان کی آخری رسومات کی ادائیگی بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئی تھی۔ ایسے مشکل وقت میں محلے کے مسلمان نوجوان آگے آئے اور گاؤں والوں سے چندہ جمع کرکے آخری رسومات کا انتظام کیا۔ نبرام کے تحت بیل تلا اور نرکل باغان کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ انسانیت کا رشتہ مذہبی تفریق سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

کسی عزیز کی موت خاندان کے لیے ایسا صدمہ ہوتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ غم کی اس گھڑی میں اگر مالی پریشانیاں بھی سامنے آ جائیں تو مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ تاہم مرشد آباد کے اس علاقے میں لوگوں نے مذہبی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک دکھی خاندان کا سہارا بن کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خوب صورت مثال پیش کی۔

مقامی ذرائع کے مطابق ٹنکو ہزارہ نامی نوجوان کی محض 23 برس کی عمر میں موت ہوگئی۔ کئی سال قبل اس کا موٹر سائیکل سے حادثہ ہوا تھا جس کے بعد سے وہ گھر پر ہی رہ رہا تھا۔ گزشتہ چند روز سے وہ پیٹ کی بیماری میں بھی مبتلا تھا۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر گاؤں کے لوگوں نے اسے مرشد آباد میڈیکل کالج اور اسپتال میں داخل کرایا جہاں علاج کے دوران اس نے دم توڑ دیا۔

کم عمری میں ٹنکو کی موت سے اس کے خاندان اور پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے والد پہلے ہی انتقال کرچکے تھے اور گھر میں صرف اس کی ماں زندہ ہے۔ خاندان کی گزر بسر محدود وسائل میں ہوتی تھی۔ ایسے میں جوان بیٹے کی موت نے ماں کو گہرے صدمے سے دوچار کردیا۔ ایک طرف بیٹے کو کھونے کا ناقابلِ برداشت غم تھا تو دوسری طرف اس کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے درکار رقم کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔

جب خاندان کی مالی پریشانیوں کے باعث آخری رسومات کے انتظامات میں دشواری پیش آنے لگی تو محلے کے مسلمان نوجوان مدد کے لیے آگے آئے۔ انہوں نے گاؤں کے لوگوں سے چندہ جمع کیا اور ٹنکو کی آخری رسومات کی ادائیگی کا انتظام کیا۔ ان کی اس اجتماعی کوشش سے غم زدہ خاندان کو بڑی راحت ملی اور ایک مشکل وقت میں اسے یہ احساس ہوا کہ وہ تنہا نہیں ہے۔

مسلمان نوجوانوں کے اس اقدام نے یہ پیغام دیا کہ مذہب اور عبادت کے طریقے مختلف ہوسکتے ہیں لیکن دکھ اور آنسوؤں کی کوئی مذہبی شناخت نہیں ہوتی۔ کسی عزیز کو کھونے کا درد ہر انسان کے لیے یکساں ہوتا ہے اور ایسے وقت میں کسی ضرورت مند کا ساتھ دینا ہی انسانیت کی حقیقی پہچان ہے۔آج جب معاشرے میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر اختلافات اور دوریوں کی خبریں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں تو بیل تلا کا یہ واقعہ امید کی ایک روشن کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ اس نے واضح کیا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی محض نعروں سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس وقت حقیقت بنتی ہے جب کوئی شخص دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر اس کی مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے۔

ٹنکو ہزارہ اب اس دنیا میں واپس نہیں آسکتا لیکن اس کے پڑوسیوں نے جس طرح مذہبی تفریق سے اوپر اٹھ کر اس کے خاندان کا ساتھ دیا ہے اس نے اس کی غم زدہ ماں کو یہ احساس دلایا کہ بیٹے کو کھونے کے بعد بھی وہ بالکل تنہا نہیں ہے۔ اس مشکل گھڑی میں پورا محلہ اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہی جذبہ انسانیت کی اصل طاقت اور باہمی محبت کی سب سے خوب صورت مثال ہے۔