بھکتی چالک : ممبئی
کونکن میں نہ بڑے بڑے سجاوٹی منڈپ نظر آتے ہیں اور نہ ہی تہوار کی رونق صرف کسی ایک بڑے اجتماع تک محدود رہتی ہے۔ اس کے باوجود یہاں گنیشوتسو کا رنگ بالکل منفرد ہے۔ یہ تہوار کونکن کی ہر بستی ہر گلی اور وہاں رہنے والے ہر شخص کا تہوار محسوس ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں اپنے مخصوص کونکنی انداز کی وجہ سے مقبول مواد تخلیق کار خدیجہ نائک بھی کونکن کے گنیشوتسو کو اپنی یادوں اور تجربات کے ذریعے دیکھتی ہیں۔ آواز دی وائس سے گفتگو میں انہوں نے اپنے بچپن کی کئی خوبصورت یادیں تازہ کیں۔
کونکن سے گہرا تعلق
خدیجہ عادل نائک کا تعلق رائے گڑھ ضلع کے نظام پور سے ہے جبکہ ان کی شادی رتناگیری ضلع کے چپلون میں ہوئی۔ اس طرح انہیں شمالی اور وسطی کونکن کی ثقافت بولی اور طرز زندگی کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔
خدیجہ اس وقت اپنے خاندان کے ساتھ پونے میں رہتی ہیں۔ دو جوان بیٹیوں اور گھر کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ وہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تکنیکی مشیر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ایک مصروف اور دباؤ بھرے پیشہ ورانہ ماحول میں کام کرنے کے باوجود انہوں نے اپنے موروثی فن اور کونکن سے محبت کو اظہار کا راستہ دیا۔
کونکنی ویڈیوز بنانے کا خیال کیسے آیا
پونے میں رہنے کے باوجود کونکن کی بولیاں گفتگو کے انداز اور بچپن کی یادیں خدیجہ کے ذہن میں ہمیشہ تازہ رہیں۔ انہی یادوں نے انہیں ویڈیوز بنانے کا خیال دیا۔ انہوں نے کسی بڑی تیاری کے بغیر روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو کیمرے کے سامنے پیش کرنا شروع کیا۔
اپنے اس سفر کے بارے میں خدیجہ کہتی ہیں کہ روزمرہ زندگی کے بعض واقعات گاؤں کے لوگوں کی عادات ان کے بولنے کا انداز اور گھروں میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی باتیں ہمیشہ انہیں متاثر کرتی رہی ہیں۔ ایک دن انہیں محسوس ہوا کہ ان سب یادوں کو ویڈیو کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا بالکل فطری عمل ہے۔
ان کی ویڈیوز کو توقع سے کہیں زیادہ پذیرائی ملی۔ لوگ تبصرے کرتے ہوئے کہتے کہ ان کے گھروں میں بھی بالکل ایسا ہی ہوتا ہے یا ان کی مائیں بھی اسی انداز میں بات کرتی ہیں۔ خدیجہ کے مطابق تب انہیں احساس ہوا کہ وہ صرف اپنی یادیں لوگوں کے ساتھ شریک نہیں کر رہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کے دلوں میں محفوظ مشترکہ یادوں کو بھی اظہار کا ایک ذریعہ فراہم کر رہی ہیں۔
کونکن میں گنیشوتسو کی اپنی ہی رونق
کونکن میں گنیشوتسو کی اصل خوبصورتی اس کی روایات اور باہمی تعلق میں پوشیدہ ہے۔ خدیجہ کہتی ہیں کہ اگرچہ ان کے گھر میں گنیش کی مورتی نہیں آتی لیکن انہوں نے بچپن سے ہی گاؤں کے گنیشوتسو کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔
وہ یاد کرتی ہیں کہ ان دنوں پورے گاؤں میں چراغاں ہوتا تھا۔ گھروں میں سجاوٹ کی جاتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے تھے اور ہر طرف ایک خاص سی خوشی محسوس ہوتی تھی۔ ان کے پڑوسی بھی ہمیشہ ان کے گھر موڈک بھیجا کرتے تھے۔
خدیجہ کے مطابق گنیشوتسو کی خوشی گاؤں کے لوگوں کے ذریعے براہ راست ان کے گھروں تک پہنچتی تھی۔ جو لوگ روزگار یا تعلیم کے سلسلے میں شہروں یا دوسرے علاقوں میں چلے گئے ہوتے تھے وہ بھی ان دنوں اپنے گاؤں واپس آتے۔ پرانے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات ہوتی اور چند دنوں کے لیے پورا گاؤں ایک الگ ہی خوشی اور جوش میں ڈوب جاتا۔
بچپن کے دن اور بدلتا ہوا زمانہ
آج کے ڈیجیٹل دور میں بچوں کی تفریح بڑی حد تک موبائل فون کمپیوٹر اور آن لائن تفریحی ذرائع تک محدود ہو گئی ہے۔ خدیجہ کا بچپن اس کے بالکل برعکس تھا۔ کونکن میں گاؤں گھر کا صحن پڑوسی اور دوست ہی بچوں کی تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔
وہ اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ شادی بیاہ ہو یا کوئی تہوار ایک دوسرے کی مدد کرنے کی روایت گاؤں کی زندگی کا اہم حصہ تھی۔ گرمیوں کے دنوں میں گھروں میں پاپڑ اور فینی بنانے کا سلسلہ چلتا تھا۔ اگر کسی ایک گھر میں یہ کام ہو رہا ہو تو گلی کی دوسری عورتیں بھی مدد کے لیے جمع ہو جاتیں۔ کام کے ساتھ باتیں ہوتیں چائے چلتی اور قہقہے گونجتے رہتے۔ یوں معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ کام کب ختم ہوگیا۔
کونکنی اور مراٹھی دونوں سے قربت
کونکنی زبان کا اپنا ایک خاص آہنگ اور لہجہ ہے۔ رائے گڑھ کی بولی اور رتناگیری کے چپلون کی کونکنی میں بھی معمولی مگر نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ خدیجہ نے اس لسانی تنوع کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ مراٹھی ان کی روزمرہ زندگی کی زبان ہے جبکہ کونکنی ان کے گھر کی زبان ہے۔ کونکن کے اندر ہی چند کلومیٹر کے فاصلے پر الفاظ تلفظ اور لہجے بدل جاتے ہیں اور یہی اس خطے کی اصل خوبصورتی ہے۔
اپنی ویڈیوز بناتے ہوئے خدیجہ جان بوجھ کر کتابی زبان سے گریز کرتی ہیں۔ وہ وہی سادہ اور فطری زبان استعمال کرتی ہیں جو لوگ اپنے گھروں میں بولتے ہیں۔ ان کے لہجے اور چہرے کے تاثرات ان کی گفتگو کو مزید حقیقی بناتے ہیں۔ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ان کے ذریعے نئی نسل کو کونکن کے پرانے الفاظ رسم و رواج اور بول چال کے انداز دوبارہ سننے کو مل رہے ہیں۔
کونکن صرف سمندر آم مچھلی اور سرسبز مناظر کا نام نہیں ہے۔ کونکن وہاں کے سادہ دل لوگوں ان کے بے ساختہ مزاح ان کے رہن سہن اور ایک دوسرے کے لیے محبت کا نام بھی ہے۔ خدیجہ نائک جیسے تخلیق کاروں کے ذریعے کونکن کی یہی ثقافتی شناخت اور گنیشوتسو جیسے تہواروں کے دوران نظر آنے والی سماجی ہم آہنگی آج کے ڈیجیٹل دور میں نئی نسل تک پہنچ رہی ہے۔
'آواز مراٹھی' پر مکمل کہانی پڑھیں۔