سالگرہ کے بجائے پارس کی زندگی کے لیے عطیہ ۔ صف خان کی انسانیت نوازی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 26-10-2026
سالگرہ کے بجائے پارس  کی زندگی کے لیے عطیہ ۔ صف خان کی انسانیت نوازی
سالگرہ کے بجائے پارس کی زندگی کے لیے عطیہ ۔ صف خان کی انسانیت نوازی

 



بھکتی چالاک: ستارہ

سالگرہ عموماً دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ خوشیاں منانے کا موقع ہوتی ہے۔ لیکن مہاراشٹر کے ستارہ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن آصف خان نے اپنی سالگرہ کو ایک ضرورت مند بچے کی زندگی بچانے کی کوشش سے جوڑ دیا۔ انہوں نے سالگرہ کی تقریبات پر خرچ ہونے والی رقم 3 سالہ پارس باگل کے علاج کے لیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے اس اقدام نے انسانیت اور سماجی ذمہ داری کی ایک قابل تقلید مثال پیش کی ہے۔

ایس ایم اے جیسی نایاب بیماری سے لڑتا پارس

ستارہ ضلع کے رہنے والے پارس باگل کے والد ایک سرکاری دفتر میں اسٹینوگرافر ہیں۔ ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والا یہ بچہ اس وقت ایک سنگین بیماری سے نبرد آزما ہے۔ پارس کو اسپائنل مسکولر ایٹروفی یعنی ایس ایم اے ٹائپ 2 کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ ایک نایاب جینیاتی بیماری ہے جو پٹھوں کو کمزور کرتی ہے اور جسمانی حرکات کو متاثر کرتی ہے۔پارس کی حالت اس وقت بدلنے لگی جب وہ 2 سال کا ہوا۔ اس کے والدین نے محسوس کیا کہ وہ ٹھیک سے بیٹھ نہیں پا رہا ہے۔ وہ مسلسل تھکا ہوا دکھائی دیتا تھا اور اس کے جسم کی طاقت بھی کم ہوتی جا رہی تھی۔ پونے اور دیگر مقامات پر ڈاکٹروں سے معائنے کے بعد اس بیماری کی تشخیص ہوئی۔پارس کے علاج کے لیے جین تھراپی کا انجکشن درکار ہے جسے بیرون ملک سے منگوانا ہوگا۔ اس علاج پر تقریباً 1.5 سے 2 کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ ایک عام خاندان کے لیے اتنی بڑی رقم جمع کرنا انتہائی مشکل ہے۔تاہم سماجی کارکنوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی کوششوں سے اب تک تقریباً 72 لاکھ روپے جمع کیے جا چکے ہیں۔ پارس کے علاج کے لیے ابھی مزید رقم درکار ہے۔

آصف خان کا قابل تقلید فیصلہ

پارس کی مدد کے لیے خدمت خلق تنظیم کے نائب صدر آصف خان نے اپنی سالگرہ کے موقع پر ایک اہم فیصلہ کیا۔ انہوں نے ذاتی خوشیوں پر رقم خرچ کرنے کے بجائے اسے پارس کے علاج کے لیے عطیہ کردیا۔آصف خان کا کہنا ہے کہ ہم ہر سال اپنی سالگرہ مناتے ہیں لیکن اس مرتبہ انہوں نے جشن منانے کے بجائے اس رقم سے ایک بچے کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ان کے مطابق ہر مذہب انسانیت کی خدمت اور ضرورت مندوں کی مدد کا درس دیتا ہے۔ ہمیں اپنی آمدنی کا ایک حصہ زکوٰۃ اور صدقے کی صورت میں مستحق افراد کی مدد کے لیے خرچ کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہماری زندگی بامقصد بن سکتی ہے۔

ماں کی اپیل۔ ایک چھوٹی سی مدد سے بچے کو مل سکتی ہے نئی زندگی

پارس کی والدہ سیالی باگل اپنے بچے کی زندگی بچانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں۔ وہ مختلف لوگوں اور اداروں سے مدد کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ علاج کے لیے درکار رقم جمع کی جا سکے۔اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے سیالی باگل کہتی ہیں کہ ان کے 3 سالہ بچے کی زندگی بچانے کے لیے تقریباً 1.25 کروڑ روپے کے انجکشن کی ضرورت ہے۔ ایک عام خاندان کے لیے اس اخراجات کو برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے آصف خان کی مدد پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سالگرہ کے موقع پر ملنے والی مالی مدد ان کے لیے خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔سیالی باگل نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق تھوڑی تھوڑی رقم عطیہ کرکے پارس کے علاج میں مدد کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی مدد بھی ان کے بچے کو نئی زندگی دے سکتی ہے۔

خدمت خلق۔ 6 سال سے انسانیت کی خدمت میں مصروف تنظیم

آصف خان صرف پارس کی مدد کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنی سماجی خدمات کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ گزشتہ 6 سال سے ستارہ میں خدمت خلق تنظیم کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کر رہے ہیں۔تنظیم کے صدر صادق شیخ اور نائب صدر آصف خان کی قیادت میں اس ٹیم نے کووڈ 19 وبا کے دوران نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس مشکل وقت میں تنظیم کے کارکنوں نے مریضوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ان لوگوں کی آخری رسومات کی ادائیگی میں بھی مدد کی جن کا کوئی سہارا نہیں تھا۔آصف خان کے مطابق کورونا وبا کے دوران مریضوں کو اسپتالوں میں بستر اور ریمڈیسیویر جیسی ضروری دوائیں حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسے وقت میں تنظیم کے کارکنوں نے دن رات کام کیا۔ سماجی کارکنوں کے تعاون سے ستارہ میں آکسیجن بینک بھی قائم کیا گیا جو آج بھی ضرورت مند مریضوں کے کام آ رہا ہے۔بعد میں تنظیم کو باضابطہ طور پر رجسٹر کرایا گیا۔ اب اس کے ذریعے مختلف لیبارٹریوں کے تعاون سے لوگوں کو کم قیمت پر طبی جانچ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔تنظیم کے رضاکار سڑکوں پر ملنے والے ذہنی مسائل سے دوچار اور بے گھر افراد کو بحالی مراکز تک پہنچانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں یشودھن سنستھا جیسے مراکز کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے۔

’شیو مکت مہاراشٹر ابھیان‘ کے ذریعے سماجی بیداری کی کوشش

طبی امداد کے علاوہ آصف خان سماجی اصلاح اور نوجوانوں میں اخلاقی اقدار کو فروغ دینے کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ انہوں نے یکم جنوری 2024 سے ’شیو مکت مہاراشٹر ابھیان‘ شروع کیا ہے۔اس مہم کے تحت وہ اسکولوں اور کالجوں میں جا کر نوجوانوں کو خواتین کا احترام کرنے اور اپنی زبان و گفتگو میں شائستگی اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔آصف خان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات لوگ غیر ارادی طور پر ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جس میں ماؤں اور بہنوں کے لیے توہین آمیز الفاظ شامل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق چھترپتی شیواجی مہاراج نے ہمیں اچھے اخلاق اور ثقافتی اقدار کی تعلیم دی ہے۔ ہمیں ان اقدار کو محفوظ رکھنا چاہیے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ اس مہم میں صنعتی علاقوں کے کارکنوں سے لے کر گاؤں کے نوجوانوں تک سبھی کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ایک مہذب اور ذمہ دار نسل تیار کی جا سکے۔

انسانیت کی خدمت ہی اصل طاقت

آصف خان کی سرگرمیاں اس بات کی مثال ہیں کہ سماجی خدمت صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ اس میں لوگوں کو بیدار کرنا اور ضرورت مندوں کے لیے عملی اقدامات کرنا بھی شامل ہے۔ایک طرف وہ نوجوانوں میں اخلاقی اقدار کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایک بیمار بچے کی زندگی بچانے کے لیے اپنی خوشیوں کی رقم عطیہ کرکے دوسروں کے لیے مثال قائم کر رہے ہیں۔پارس باگل کے علاج کے لیے ابھی مزید مالی مدد کی ضرورت ہے۔ ایسے میں عوامی تعاون اس خاندان کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے۔ ہر چھوٹا عطیہ اس بچے کے علاج کے لیے درکار رقم جمع کرنے کی کوشش میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔