سری نگر: کمہار عبدالسلام کمار کے ہاتھوں بنے دیوں سے روشن ہوگی دیوالی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-11-2026
سری نگر: کمہار عبدالسلام کمار کے ہاتھوں بنے دیوں سے روشن ہوگی دیوالی
سری نگر: کمہار عبدالسلام کمار کے ہاتھوں بنے دیوں سے روشن ہوگی دیوالی

 



باسط زرگر ۔سری نگر
 دیوالی کی آمد کے ساتھ ہی کمہار عبدالسلام کمار روایتی مٹی کے دیے بنانے میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے ورکشاپ میں مٹی سے دیے تیار کر رہے ہیں تاکہ تہوار کے موقع پر بڑھنے والی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔مٹی سے سنے ہاتھوں کے ساتھ عبدالسلام بڑی مہارت سے چھوٹے چھوٹے دیوں کو شکل دیتے ہیں اور انہیں ترتیب سے رکھتے ہیں۔ یہ ہنر نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔ ہر دیا بڑی محنت اور احتیاط سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے خشک کیا جاتا ہے اور پھر بھٹی میں پکایا جاتا ہے تاکہ وہ روشنی کے تہوار میں گھروں کو روشن کرنے کے لیے تیار ہو سکے۔
عبدالسلام کمار کے لیے دیوالی سے پہلے کے دن سال کے سب سے زیادہ مصروف دنوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ طویل وقت تک مٹی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور سیکڑوں دیے تیار کرتے ہیں تاکہ روایتی سجاوٹ پسند کرنے والے گاہکوں کی ضرورت پوری کی جا سکے۔عبدالسلام کمار نے کہا کہ دیوالی ہمارے لیے سال کے اہم ترین مواقع میں سے ایک ہے۔ لوگ مٹی کے دیے خریدنے آتے ہیں اور ہم تہوار کے لیے کافی دیے تیار کرنے کی خاطر دن رات محنت کرتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے ہاتھوں سے بنائے گئے دیے لوگوں کے گھروں کو روشن کرتے ہیں۔

الیکٹرک لائٹس اور سجاوٹی ایل ای ڈی لیمپ سمیت جدید روشنی کے ذرائع کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود عبدالسلام کا ماننا ہے کہ دیوالی کی تقریبات میں روایتی مٹی کے دیوں کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ان کے مطابق ہاتھ سے بنائے گئے دیوں کی کشش ان کی سادگی۔ ثقافتی اہمیت اور قدرتی روشنی کی خوبصورتی میں پوشیدہ ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے مٹی کے دیے جلانا آج بھی دیوالی کی تقریبات کا لازمی حصہ ہے۔ یہ روایت اندھیرے پر روشنی اور برائی پر اچھائی کی فتح کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

تاہم روایتی کمہاروں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں۔ فیکٹریوں میں تیار ہونے والی سجاوٹی اشیا سے مقابلہ اور صارفین کی بدلتی ہوئی پسند شامل ہیں۔عبدالسلام کا کہنا ہے کہ تہوار کے موسم میں ہونے والی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ان کے روزگار کو برقرار رکھنے اور مٹی کے برتن بنانے کے روایتی ہنر کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دیوالی کے موقع پر مانگ بڑھ جاتی ہے لیکن سال کے باقی مہینوں میں کاروبار غیر یقینی رہتا ہے۔

ان کے ورکشاپ میں تازہ تیار کیے گئے سیکڑوں مٹی کے دیے قطاروں میں رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں خشک ہونے کے بعد بازاروں اور دکانوں تک پہنچایا جائے گا۔ ہاتھ سے بنائے گئے ان دیوں کی قطاریں اس محنت اور ہنرمندی کی عکاسی کرتی ہیں جو ملک بھر میں روشنیوں کے ساتھ منائے جانے والے اس تہوار کا اہم حصہ ہے۔عبدالسلام کے لیے ہر دیا محض روشنی کا ایک ذریعہ نہیں بلکہ روایتی ہنرمندی اور آبائی روزگار سے جڑا ایک ورثہ ہے۔

وہ امید کرتے ہیں کہ ان کا یہ فن آنے والی نسلوں تک بھی منتقل ہوتا رہے گا۔دیوالی کی تیاریوں کے دوران عبدالسلام کمار جیسے کمہار اس تہوار کی روایتی رونق برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی محنت سے مٹی کے دیے جلانے کی صدیوں پرانی روایت آج بھی روشن ہے۔