.jpg)
.jpg)
الیکٹرک لائٹس اور سجاوٹی ایل ای ڈی لیمپ سمیت جدید روشنی کے ذرائع کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود عبدالسلام کا ماننا ہے کہ دیوالی کی تقریبات میں روایتی مٹی کے دیوں کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ان کے مطابق ہاتھ سے بنائے گئے دیوں کی کشش ان کی سادگی۔ ثقافتی اہمیت اور قدرتی روشنی کی خوبصورتی میں پوشیدہ ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے مٹی کے دیے جلانا آج بھی دیوالی کی تقریبات کا لازمی حصہ ہے۔ یہ روایت اندھیرے پر روشنی اور برائی پر اچھائی کی فتح کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
.jpg)

تاہم روایتی کمہاروں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں۔ فیکٹریوں میں تیار ہونے والی سجاوٹی اشیا سے مقابلہ اور صارفین کی بدلتی ہوئی پسند شامل ہیں۔عبدالسلام کا کہنا ہے کہ تہوار کے موسم میں ہونے والی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ان کے روزگار کو برقرار رکھنے اور مٹی کے برتن بنانے کے روایتی ہنر کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دیوالی کے موقع پر مانگ بڑھ جاتی ہے لیکن سال کے باقی مہینوں میں کاروبار غیر یقینی رہتا ہے۔
ان کے ورکشاپ میں تازہ تیار کیے گئے سیکڑوں مٹی کے دیے قطاروں میں رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں خشک ہونے کے بعد بازاروں اور دکانوں تک پہنچایا جائے گا۔ ہاتھ سے بنائے گئے ان دیوں کی قطاریں اس محنت اور ہنرمندی کی عکاسی کرتی ہیں جو ملک بھر میں روشنیوں کے ساتھ منائے جانے والے اس تہوار کا اہم حصہ ہے۔عبدالسلام کے لیے ہر دیا محض روشنی کا ایک ذریعہ نہیں بلکہ روایتی ہنرمندی اور آبائی روزگار سے جڑا ایک ورثہ ہے۔


وہ امید کرتے ہیں کہ ان کا یہ فن آنے والی نسلوں تک بھی منتقل ہوتا رہے گا۔دیوالی کی تیاریوں کے دوران عبدالسلام کمار جیسے کمہار اس تہوار کی روایتی رونق برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی محنت سے مٹی کے دیے جلانے کی صدیوں پرانی روایت آج بھی روشن ہے۔