آسام: مسلم فنکار شفیق الاسلام اور ان کے ساتھیوں نے درگا پوجا کے لیے تیار کیے منفرد منڈپ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 20-10-2026
آسام: مسلم فنکار شفیق الاسلام اور ان کے ساتھیوں نے درگا پوجا کے لیے تیار کیے منفرد منڈپ
آسام: مسلم فنکار شفیق الاسلام اور ان کے ساتھیوں نے درگا پوجا کے لیے تیار کیے منفرد منڈپ

 



کھروپیٹیا | نورالحق

مذہبی شناخت لوگوں کو الگ کر سکتی ہے، لیکن فن، ثقافت اور تخلیقی صلاحیتیں مختلف برادریوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کے پل تعمیر کرتی ہیں۔ آسام کے درنگ ضلع کے کھروپیٹیا میں مقیم مسلم فنکار شفیق الاسلام اور ان کے ساتھی اس کی ایک نمایاں مثال پیش کر رہے ہیں۔ شفیق الاسلام نے اپنے 10 مسلم ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہندوؤں کے اہم تہوار درگا پوجا کے لیے دو دلکش پوجا منڈپ تیار کیے ہیں۔ ان منڈپوں میں کیدارناتھ دھام، ماؤنٹ کیلاس، شیولنگ اور وارانسی کے مشہور گھاٹوں کے مناظر کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

شفیق الاسلام اور ان کے ساتھیوں کی یہ کاوش آسام کی مشترکہ ثقافت، مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی روایت کو نمایاں کرتی ہے۔ ان کی تخلیقات اس بات کی مثال ہیں کہ فن اور ہنر مذہبی شناخت کی حدود سے آگے بڑھ کر لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتے ہیں۔شفیق الاسلام کے مطابق وہ 2012 سے درگا پوجا کے لیے منڈپوں کی تعمیر میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہر سال وہ 3 سے 4 منڈپ تیار کرتے ہیں، تاہم اس مرتبہ انہوں نے کھروپیٹیا میں دو بڑے منڈپ بنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان دونوں منڈپوں میں پہاڑوں، آبشاروں، غاروں اور مذہبی فن تعمیر کے دلکش مناظر پیش کیے گئے ہیں۔ ایک منڈپ میں کیدارناتھ دھام کا ماڈل تیار کیا گیا ہے، جس کے پس منظر میں بھگوان شیو کا 40 فٹ بلند مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔

دوسرے منڈپ کو وارانسی کے مشہور گھاٹوں کی طرز پر تیار کیا گیا ہے۔ اس کے اطراف میں چھوٹے بڑے مندروں کے ماڈل بنائے گئے ہیں۔ فنکاروں نے پہاڑوں، غاروں، مندروں اور بہتے پانی کے مناظر کو یکجا کرکے ایسا ماحول تخلیق کرنے کی کوشش کی ہے جو زائرین کو روحانی اور قدرتی مناظر کا احساس دلائے۔اس پورے منصوبے کا ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ شفیق الاسلام اور ان کی ٹیم کے تمام 10 ساتھی مسلمان ہیں۔ انہوں نے کھروپیٹیا کے بیسماری ناگاؤں علاقے کے مقامی کاریگروں کے ساتھ مل کر ہندو مذہبی عقائد سے وابستہ مختلف مجسمے اور مندروں کے ماڈل تیار کیے ہیں۔ اس کام میں فنکاروں نے اپنی فنی مہارت، محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔

شفیق الاسلام کے مطابق منڈپوں کی تعمیر کا کام ستمبر میں شروع کیا گیا تھا۔ دونوں منڈپوں کی تیاری پر بالترتیب 10 لاکھ اور 7 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی وسائل اور دستیاب مواد کے استعمال کو ترجیح دی ہے۔ بانس، بوریاں، پلائی ووڈ اور گاؤں میں دستیاب دیگر اشیا کی مدد سے بڑے پہاڑوں، غاروں اور مندروں کے ماڈل تیار کیے گئے ہیں۔ مصنوعی غاروں کی تعمیر میں بھی بوریوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔

شفیق الاسلام کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش صرف خوبصورت منڈپ تیار کرنا نہیں بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کام میں زیادہ سے زیادہ مقامی مواد استعمال کیا گیا تاکہ گاؤں کے کاریگروں کو کام مل سکے اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔انہوں نے منڈپوں کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کھروپیٹیا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پہاڑوں، قدرتی آبشاروں اور غاروں جیسے مناظر موجود نہیں ہیں۔ ان مقامات کو دیکھنے کے لیے لوگوں کو دور دراز کا سفر کرنا پڑتا ہے، لیکن مالی مشکلات کے باعث بہت سے دیہی باشندے زندگی میں کبھی ایسی جگہوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ ان کا مقصد ہے کہ لوگ پوجا منڈپ میں داخل ہوتے ہی ایک منفرد دنیا کا تجربہ کرسکیں اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوں۔

زائرین کو حقیقت سے قریب تر تجربہ فراہم کرنے کے لیے منڈپوں میں جدید تھری ڈی تکنیک اور روشنیوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ قدیم زمانے کی مشعلوں جیسی روشنیوں اور حقیقی پانی کے استعمال سے مصنوعی ندی اور قدرتی مناظر کو زیادہ دلکش بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ شفیق الاسلام کو امید ہے کہ ان انتظامات سے پہاڑوں، مندروں اور غاروں کے مناظر زیادہ حقیقی محسوس ہوں گے۔شفیق الاسلام پیشے کے اعتبار سے فنکار ہیں اور انہیں موسیقی سے بھی دلچسپی ہے۔ وہ خود گلوکاری بھی کرتے ہیں، تاہم درگا پوجا کے موسم میں ان کا زیادہ تر وقت منڈپوں کی تیاری میں گزرتا ہے۔ دوسری جانب پوجا کمیٹی اور مقامی انتظامیہ نے زائرین کی حفاظت اور سہولت کے لیے ضروری انتظامات کیے ہیں تاکہ لوگ آسانی سے منڈپوں کا دورہ کرسکیں۔

شفیق الاسلام اور ان کے ساتھیوں کی یہ کوشش اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ فن اور تخلیقی صلاحیتیں کسی ایک مذہب تک محدود نہیں ہوتیں۔ مسلمان فنکاروں کے ہاتھوں تیار کیے گئے ہندو دیوی دیوتاؤں کے مجسمے اور مذہبی مقامات کے ماڈل باہمی احترام، بھائی چارے اور بقائے باہمی کا پیغام دیتے ہیں۔کھروپیٹیا کے ان مسلم کاریگروں کی محنت محض درگا پوجا کی رونق بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ یہ آسام کی مشترکہ ثقافت اور ہندو مسلم اتحاد کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے تیار کردہ دونوں منڈپ اس بات کی مثال ہیں کہ مذہبی شناخت مختلف ہونے کے باوجود لوگ اپنے فن، محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے ایک دوسرے کے تہواروں کو خوبصورت بنا سکتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتے ہیں۔