الفیہ شیخ | ممبئی
سلیم درانی صرف ایک بہترین کرکٹر ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک خوش مزاج، حاضر جواب اور ملنسار انسان بھی تھے جن کا کرکٹ شائقین کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ مہاراشٹر اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے ان کی شخصیت اور کرکٹ سے وابستہ یادوں کو تازہ کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔یہ موقع انجمن اسلام اور ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن (ایم سی اے) کے مشترکہ تعاون سے شروع کی جانے والی ’سلیم درانی بین الجامعاتی چیلنج ٹرافی‘ کی افتتاحی تقریب کا تھا۔ یہ تقریب انجمن اسلام کے تاریخی سی ایس ایم ٹی کیمپس میں منعقد ہوئی۔
اس موقع پر انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی، ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دلیپ وینگسرکر، ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر اجنکیا نائک، رکن اسمبلی ڈاکٹر جتیندر اوہاڑ اور ابو عاصم اعظمی سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔اس نئی ٹرافی کے تحت ممبئی کے جونیئر کالجوں کے درمیان ٹی 20 کرکٹ مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کالجوں میں کھیلوں کو فروغ دینا اور نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مناسب پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

شائقین کی فرمائش پر چھکے لگانے والے سلیم درانی
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرد پوار نے سلیم درانی کو یاد کیا اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ سلیم درانی افغانستان میں پیدا ہوئے تھے اور بعد میں ممبئی آئے جہاں انہوں نے اپنی شناخت ایک سچے ممبیکر کے طور پر قائم کی۔شرد پوار کے مطابق کرکٹ کے میدان میں سلیم درانی کا انداز بالکل منفرد تھا۔ شائقین بے صبری سے ان کی بلے بازی کا انتظار کرتے تھے۔ اسٹیڈیم میں موجود تماشائی باؤنڈری اور چھکے لگانے کی فرمائش کرتے تو درانی اگلی ہی گیند پر ان کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا اپنے مداحوں کے ساتھ ایک خاص اور بے مثال تعلق قائم تھا۔انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ حکومتِ ہند نے سلیم درانی کو ارجن ایوارڈ اور سی کے نائیڈو ایوارڈ جیسے اہم اعزازات سے نوازا تھا۔
انجمن اسلام کی تاریخی عمارت اور خدمات کی تعریف
شرد پوار نے کہا کہ ممبئی کرکٹ کا ایک بڑا مرکز ہے اور ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ ممبئی کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ اس شہر نے ملک کو ہزاروں نامور کرکٹر دیے ہیں۔ انہوں نے تعلیم اور کھیل کے میدان میں انجمن اسلام کی خدمات کو بھی سراہا۔انہوں نے بتایا کہ وہ پہلی مرتبہ اپنے پرانے دوست بیرسٹر انتولے کے ساتھ انجمن اسلام کے احاطے میں آئے تھے۔ یہاں کی لائبریری اور وسیع و عریض ہال کی خوب صورتی قابل ذکر ہے۔ ان کے مطابق ممبئی میں فن تعمیر کے اعتبار سے صرف تین ہال اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ ان میں ایک انجمن اسلام کا ہال ہے جبکہ دیگر دو ہال برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن اور ممبئی یونیورسٹی کے ہیں۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ اس اہم تقریب کا انعقاد انجمن کی اس خوب صورت تاریخی عمارت میں ہورہا ہے۔

دلیپ وینگسرکر کو یاد آئی حارث شیلڈ کی پرانی رقابت
تقریب میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دلیپ وینگسرکر نے بھی اپنے پرانے دنوں کی یادیں تازہ کیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ سینٹ زیویئرز کالج کی جانب سے کھیلتے تھے تو انجمن اسلام کی ٹیم کا سامنا کرنا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج ہوتا تھا۔ انجمن کی ٹیم میں بہترین بلے باز اور نہایت مؤثر گیند باز موجود ہوتے تھے۔اس موقع پر انجمن اسلام کے صدر پدم شری ڈاکٹر ظہیر قاضی نے ادارے کی شاندار تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فخر کے ساتھ بتایا کہ حارث شیلڈ کرکٹ ٹورنامنٹ میں انجمن اسلام کے اسکولوں کی نمایاں کامیابیاں ادارے کے لیے باعثِ افتخار ہیں۔ اس ٹورنامنٹ کی 130 سالہ تاریخ میں انجمن کے اسکولوں نے سب سے زیادہ مرتبہ خطاب جیتا ہے۔