عاطف احمد۔ واشیم
دھوئیں کے گہرے بادل۔ بھڑکتی ہوئی آگ اور اس سے محض چند قدم کے فاصلے پر سیکڑوں بیمار مریض۔ واشیم ضلع کے کارنجا لاڈ کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے بالکل قریب نصب بجلی کے ڈی پی باکس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ صورتحال ایسی تھی کہ چند لمحوں کی تاخیر بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی تھی۔واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ آگ شدت اختیار کر رہی تھی اور اس بات کا خدشہ بڑھ رہا تھا کہ بجلی کے ڈی پی میں زبردست دھماکہ ہوسکتا ہے جس سے اسپتال میں داخل سیکڑوں مریضوں کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اچانک ڈی پی میں بھڑک اٹھی آگ
نوتن کالونی کے ترنگا چوک کے قریب سب ڈسٹرکٹ اسپتال سے متصل بجلی کے ڈی پی سے اچانک چنگاریاں نکلنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں زبردست آگ بھڑک اٹھی۔اسپتال کے عین قریب ہونے کی وجہ سے واقعے نے مریضوں کے اہل خانہ اور ڈاکٹروں میں تشویش پیدا کردی۔ اسی دوران ’ایس اے ایس‘ یعنی سرو دھرم آپتکالین سنستھا کے کنٹرول روم کو اس حادثے کی اطلاع ملی۔ یہ ادارہ ’ایک سیکنڈ ایک کال۔ نئی زندگی‘ کے اصول پر کام کرتا ہے۔آگ کو دیکھتے ہی مثالی استاد امیش مہیکر نے بغیر کسی تاخیر کے ادارے کے سربراہ شیام ساوائی کو فون کیا۔ صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے شیام ساوائی فوراً اپنی گاڑی لے کر جائے حادثہ کی طرف روانہ ہوگئے۔
کھانا چھوڑ کر ثاقب شیخ آگ بجھانے پہنچے
مہاوترن کے لائن مین ثاقب غنی شیخ نے ہنگامی صورتحال میں اپنی ذمہ داری کے تئیں غیر معمولی فرض شناسی کا مظاہرہ کیا۔شام کا وقت تھا اور ثاقب گھر پر کھانا کھانے بیٹھے تھے۔ وہ ابھی نوالہ منہ تک لے جانے ہی والے تھے کہ ان کے موبائل پر شیام ساوائی کا فون آیا۔اسپتال کے قریب آگ لگنے اور مریضوں کی زندگی خطرے میں ہونے کی اطلاع ملتے ہی ثاقب نے ہاتھ میں موجود نوالہ وہیں چھوڑ دیا اور فوراً جائے حادثہ کی طرف روانہ ہوگئے۔وہاں پہنچتے ہی انہوں نے سب سے پہلے پورے علاقے کی بجلی کی سپلائی بند کردی۔ ان کی اس فوری کارروائی سے ممکنہ برقی دھماکہ ٹل گیا اور اسپتال میں موجود سیکڑوں مریضوں کی جان بچانے میں مدد ملی۔
ثاقب نے واقعے کے بارے میں بتایا کہ وہ شام کو کھانا کھانے بیٹھے تھے کہ شیام ساوائی کا فون آیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے قریب موجود ڈی پی میں آگ لگ گئی ہے۔ مریضوں کی زندگی خطرے میں ہونے کا علم ہوتے ہی وہ فوراً وہاں پہنچے اور سب سے پہلے علاقے کی بجلی کی سپلائی منقطع کی۔ اس کے بعد انہوں نے شیام ساوائی اور ان کی ٹیم کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں مکمل تعاون کیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرنا اور ضرورت کے وقت لوگوں کی مدد کے لیے پہنچ جانا ہی خدا کی حقیقی عبادت ہے۔ ان کا مذہب بھی یہی سکھاتا ہے کہ انسان کو اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کرنی چاہیے۔ بحران کے وقت بغیر کسی امتیاز کے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ لوگوں کی جان بچانے کے لیے اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرنے میں انہیں حقیقی اطمینان ملتا ہے۔

سماجی ہم آہنگی کی زندہ مثال
کارنجا شہر میں آج بھائی چارے اور تحفظ کا جو ماحول نظر آتا ہے اس میں شیام ساوائی کا اہم کردار ہے۔ مہاتما گاندھی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ساوائی نے ’ایس اے ایس‘ کے ذریعے شہر میں مدد اور خدمت کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔حادثہ ہو۔ آگ لگنے کا واقعہ ہو یا کوئی اور آفت۔ شیام ساوائی اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی ان کی ٹیم ہر وقت مدد کے لیے تیار رہتی ہے۔ ملک کے بعض حصوں میں نفرت کے ماحول کے درمیان کارنجا میں قائم یہ بھائی چارہ اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ انسانیت اور باہمی محبت آج بھی زندہ ہے۔شیام ساوائی نے بتایا کہ امیش مہیکر کا فون آتے ہی وہ اسپتال پہنچ گئے تھے۔
آگ انتہائی خطرناک شکل اختیار کرچکی تھی۔ انہوں نے فوراً لائن مین ثاقب کو فون کیا۔ ثاقب کھانا چھوڑ کر فوراً پہنچے اور بجلی کی لائن بند کردی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سیکڑوں مریضوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی۔ ایس اے ایس کے ساتھیوں کے ساتھ روگی کلیان سمیتی کے سنتوش گھونگڑے اور اسپتال کے متھن ٹھاکر سمیت دیگر افراد نے بھی اپنی جان کی پروا کیے بغیر مدد کی۔ سب کی اجتماعی کوششوں سے کارنجا میں ایک بڑے سانحے کو ٹالنے میں کامیابی ملی۔
سب نے مل کر ریسکیو آپریشن انجام دیا
اس ریسکیو آپریشن میں ہر شخص نے اپنی استطاعت کے مطابق مدد کی۔ آگ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے روگی کلیان سمیتی کے رکن سنتوش گھونگڑے نے میونسپل کونسل فائر بریگیڈ کے افسر شبھم زوپالے سے رابطہ کیا۔اسپتال کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ متھن ٹھاکر اور شیام ساوائی نے ابتدائی مرحلے میں ہی اسپتال میں موجود فائر ایکسٹنگوشر کی مدد سے آگ کی شدت کم کرنے کی کوشش کی۔کچھ ہی دیر بعد فائر بریگیڈ کی گاڑی موقع پر پہنچ گئی اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے بہادری کے ساتھ آگ پر مکمل قابو پالیا۔
اس پورے آپریشن میں سماجی کارکن شام گھوڈیشور۔ کپل مہاجن۔ ساون کولہے اور ویبھو روڈے نے بھی اپنی جان کی پروا کیے بغیر اہم تعاون کیا۔کارنجا لاڈ جیسے چھوٹے شہر نے پورے ملک کو ایک بڑا سبق دیا ہے۔ انسانیت اور محبت کی طاقت نفرت کی سیاست سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ کارنجا کے ان لوگوں نے اپنے عمل سے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ مشکل وقت میں مذہب اور برادری سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کی مدد کرنا ہی حقیقی انسانیت ہے۔