جامع مسجد میں یک ماں کی فریاد، مسلم نوجوانوں نے بیمار ہندو بچی کے علاج کے لیے اکٹھا کیا فنڈ

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 23-09-2026
جامع مسجد میں یک ماں کی فریاد، مسلم نوجوانوں نے بیمار ہندو بچی کے علاج کے لیے   اکٹھا کیا فنڈ
جامع مسجد میں یک ماں کی فریاد، مسلم نوجوانوں نے بیمار ہندو بچی کے علاج کے لیے اکٹھا کیا فنڈ

 



 نئی دہلی: دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد کا منظر معمول سے کچھ مختلف تھا۔ لوگ مسجد سے باہر نکل رہے تھے کہ ان کی توجہ ایک ماں اور اس کی معصوم بیٹی کی طرف مبذول ہوئی، جو علاج کے لیے مالی مدد کی امید میں وہاں موجود تھیں۔ بچی شدید بیماری میں مبتلا تھی اور اس کے علاج کے لیے خاندان کو بڑی رقم درکار تھی۔کچھ مسلم نوجوانوں نے خاندان کی مدد کے لیے لوگوں سے تعاون کی اپیل شروع کی۔ انہوں نے مسجد سے باہر آنے والے نمازیوں اور راہگیروں کو بچی کی بیماری اور اس کے علاج کی ضرورت کے بارے میں بتایا۔ لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق رقم دی، کچھ نے ماں کی حوصلہ افزائی کے لیے دعائیں کیں، جبکہ بعض نے علاج کے لیے تعاون کا یقین دلایا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ویڈیو میں سوشل میڈیا انفلونسر خلیفہ میں اس ہندو خاتون کے لیے مہم شروع کی ہے  ،جس کی ویڈیوز لاکھوں نہیں بلکہ ملینز میں دوڑ رہی ہیں- بتایا جاتا ہے کہ نو کروڑ میں سے اب تک ساڑھے چھ کروڑ روپے اکٹھے کیے جا چکے ہیں. یہ تمام دعوے فی الحال سوشل میڈیا پر جاری ہیں لیکن اصل ویڈیو جامع مسجد کی ہے جہاں اس خاتون کو اپنے بچی کے ساتھ نہایت بے بسی اور لاچاری کے ساتھ بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے جبکہ مسجد سے نکل رہے نمازی مختلف نوجوانوں کو مدد کے پیسے دے رہے ہیں

یہ محض ایک عام امدادی مہم نہیں تھی۔ ایک طرف ایک ماں اپنی بیمار بیٹی کے علاج کے لیے مدد کی منتظر تھی، تو دوسری طرف کچھ مسلم نوجوان اس کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بچی کا تعلق ایک ہندو خاندان سے تھا، جبکہ مدد کے لیے آگے آنے والے نوجوان مسلمان تھے۔ یوں جامع مسجد کے دروازے پر ایک ایسی انسانی کہانی سامنے آئی، جس میں ایک بیمار بچی کی زندگی مذہبی شناختوں سے زیادہ اہم دکھائی دی۔

یہ چھوٹی چھوٹی کوششیں اس مہم کی بنیاد بنیں۔ مسجد کے باہر موجود لوگوں کے لیے یہ صرف عطیہ دینے کا معاملہ نہیں تھا۔ ان کے سامنے ایک ماں تھی جو اپنی بچی کے علاج کے لیے مدد مانگ رہی تھی اور ایک معصوم بچی تھی، جس کی بیماری نے اس کی زندگی کو بستر تک محدود کر دیا تھا۔

وہ بچی کون ہے جس کے لیے یہ مہم شروع ہوئی؟

بچی ایس ایم اے ٹائپ 1 (Spinal Muscular Atrophy) نامی ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہے۔ یہ ایک جینیاتی بیماری ہے، جس کے باعث پٹھوں کی کمزوری بتدریج بڑھتی ہے۔ ماں کے مطابق، اس کی بیٹی زیادہ تر وقت بستر پر رہتی ہے اور یہاں تک کہ ایک گلاس پانی پینے کے لیے بھی اسے کسی کی مدد درکار ہوتی ہے۔

ماں کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی تکلیف دہ ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی عمر کے دوسرے بچوں کو کھیلتے، دوڑتے اور معمول کی زندگی گزارتے دیکھتی ہے، جبکہ اس کی اپنی بیٹی بیماری کے باعث بستر تک محدود ہے۔

خاندان کے مطابق، علاج کے لیے ایک مخصوص انجیکشن درکار ہے، جس کی قیمت 9 کروڑ روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ ایک عام خاندان کے لیے اتنی بڑی رقم جمع کرنا تقریباً ناممکن ہے، اسی لیے خاندان نے لوگوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔ طبی اور مالی تفصیلات خاندان اور متعلقہ فنڈ ریزنگ مہم کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں؛ علاج اور اس کی لاگت کی آزادانہ طبی تصدیق اس کہانی کے دائرے میں شامل نہیں ہے۔

ایک ماں کی فریاد: ’’میری بیٹی کو صرف علاج نہیں، ایک موقع چاہیے‘‘

بچی کی ماں کے لیے یہ مہم محض مالی ہدف سے زیادہ اپنی بیٹی کی زندگی کی امید ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس کی بیٹی اپنی عمر کے دوسرے بچوں کی طرح کھیل نہیں سکتی۔ بیماری نے اس کی روزمرہ زندگی کو بستر تک محدود کر دیا ہے اور ماں کو مسلسل یہ فکر رہتی ہے کہ اس کی بیٹی کو بروقت علاج کیسے ملے گا۔

اس کے الفاظ میں سب سے بڑا درد یہ خواہش ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو صحت مند اور دوسرے بچوں کی طرح زندگی گزارتے دیکھے، اور ایک بار پھر اسے محبت سے ’’ماں‘‘ پکارتے ہوئے سنے۔ اس کے لیے معمولی سے معمولی مدد بھی امید کی ایک نئی کرن ہے۔

علاج کی لاگت اور مہنگے انجیکشن کا دعویٰ

خاندان کا کہنا ہے کہ علاج کے لیے ایک انتہائی مہنگا انجیکشن درکار ہے، جس کی قیمت تقریباً 9 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

ایس ایم اے کے جدید علاج میں زوگنسما (Zolgensma) اور سپنرازا (Spinraza) جیسی ادویات شامل ہیں۔ زوگنسما بعض ایس ایم اے مریضوں کے لیے جین تھراپی ہے اور اس کی ایک خوراک کی فہرستی قیمت تقریباً 2.125 ملین امریکی ڈالر یعنی تقریباً 17 سے 18 کروڑ روپے ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کی مہنگی ترین ادویات میں شمار ہوتی ہے۔

سپنرازا بھی انتہائی مہنگی دوا ہے۔ امریکہ میں اس کے ایک انجیکشن کی قیمت 125,000 امریکی ڈالر یعنی تقریباً 1 کروڑ روپے ہے، جبکہ ایک سال کے علاج کی لاگت 750,000 امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایس ایم اے کے علاج کے اخراجات بہت زیادہ ہو سکتے ہیں، اگرچہ 9 کروڑ روپے کی مخصوص لاگت کا دعویٰ اس مضمون میں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے۔

نوجوان خلیفہ نے یہ مہم کیسے شروع کی؟

یہ مہم دراصل جامع مسجد سے نہیں بلکہ دہلی کے ایمس (AIIMS) کے باہر شروع ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا انفلوئنسر خلیفہ، جو ایک مسلم نوجوان ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقات بچی اور اس کی ماں سے ایمس کے باہر ہوئی۔

ماں اپنی بیٹی کے علاج کے لیے پریشان تھی اور اس کے پاس علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مالی وسائل نہیں تھے۔ جب خلیفہ نے بچی کی حالت اور علاج کے اخراجات کے بارے میں سنا تو انہوں نے لوگوں سے مدد کی اپیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے راہگیروں کو بچی کی بیماری اور علاج کی ضرورت کے بارے میں بتانا شروع کیا اور ان سے اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کرنے کی درخواست کی۔ ابتدا میں یہ ایک محدود کوشش تھی، لیکن جیسے جیسے زیادہ لوگوں کو بچی کی صورتحال کا علم ہوا، کچھ لوگوں نے سڑک پر ہی مالی مدد کرنا شروع کر دی۔

اس طرح ایک نوجوان کی ذاتی کوشش رفتہ رفتہ ایک عوامی امدادی مہم میں تبدیل ہوگئی۔

ایمس سے جامع مسجد تک: مدد کا سلسلہ

ایمس کے باہر شروع ہونے والی مہم کا دائرہ بڑھا تو خلیفہ اور دیگر نوجوان اسے جامع مسجد تک لے گئے۔ جمعہ کی نماز کے بعد مسجد سے باہر آنے والے بڑی تعداد میں نمازیوں کو اس اپیل کے بارے میں بتایا گیا۔نوجوانوں نے انہیں بچی کی بیماری، اس کے علاج کی ضرورت اور خاندان کی مالی مشکلات سے آگاہ کیا۔ اس مرحلے پر اسپتال کے باہر شروع ہونے والی کوشش ایک بڑے عوامی مقام تک پہنچ چکی تھی۔

کوئی سوال نہیں، مذہب مدد کی راہ میں حائل نہیں ہوا

اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مدد کی اپیل ایک ہندو خاندان کے لیے کی جا رہی تھی، جبکہ اس مہم کی قیادت مسلم نوجوان کر رہے تھے۔جامع مسجد کے باہر لوگوں کے سامنے ایک بیمار بچی اور اس کی پریشان ماں تھی، اور بنیادی مقصد بچی کے علاج میں مدد کرنا تھا۔ایسے حالات میں خاندان کی مذہبی شناخت کے بجائے اس کی ضرورت زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ مدد کے لیے آگے آنے والے لوگوں نے یہ دکھایا کہ انسانی ہمدردی کسی مخصوص مذہبی یا سماجی شناخت کی پابند نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جامع مسجد کے باہر کا یہ منظر بہت سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا۔

صرف فنڈ ریزنگ نہیں، امید کی ایک کوشش

بچی کے علاج کے لیے درکار رقم بہت زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ اس لیے یہ مہم ایک طویل سفر کا آغاز ہے۔ خاندان کے لیے ہر تعاون اہم ہے، کیونکہ علاج کا مطلب صرف طبی اخراجات پورے کرنا نہیں بلکہ اپنی بچی کی زندگی کی امید کو زندہ رکھنا بھی ہے۔خلیفہ اور ان کے ساتھی اسی امید کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چاہے ایمس کے باہر راہگیروں سے اپیل ہو یا جامع مسجد کے باہر نمازیوں سے تعاون کی درخواست، مقصد ایک ہی ہے: بچی کی فریاد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا۔

یہ تصاویر ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ مشکل وقت میں کسی کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھانا صرف مالی تعاون نہیں، بلکہ اسے یہ یقین دلانا بھی ہے کہ وہ اپنی آزمائش میں تنہا نہیں ہے۔