ایران سے افغانستان تک: ایک سیاح کا 22 روزہ سفر، طالبان کی حراست سے رہائی تک

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 27-10-2026
ایران سے افغانستان تک: ایک  سیاح کا 22 روزہ سفر، طالبان کی حراست سے رہائی تک
ایران سے افغانستان تک: ایک سیاح کا 22 روزہ سفر، طالبان کی حراست سے رہائی تک

 



بھکتی چالک 

نَاشک کے آئی ٹی کنسلٹنٹ وشال چوہان نے اچانک افغانستان جانے کا فیصلہ کیا۔ قندھار میں طالبان نے پاکستانی جاسوس ہونے کے شبہے میں چار گھنٹے تک پوچھ گچھ کی، لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا۔مہاراشٹر کے شہر نَاشک سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ آئی ٹی کنسلٹنٹ اور سیاح وشال چوہان کا افغانستان کا سفر کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ ایران کے شہر مشہد پہنچنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ افغانستان کی سرحد قریب ہے۔ اسی خیال نے ان کے سفر کا رخ بدل دیا اور وہ آذربائیجان اور جارجیا جانے کے اپنے سابقہ منصوبے کو ترک کرکے افغانستان پہنچ گئے۔وشال چوہان نے افغانستان میں 22 دن گزارے۔ اس دوران انہوں نے وہاں کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں، مختلف علاقوں کا سفر کیا اور ملک کی سماجی صورت حال کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کی۔ تاہم ان کا یہ سفر محض سیاحت تک محدود نہیں رہا، بلکہ قندھار میں طالبان کی جانب سے پوچھ گچھ کے ایک غیر معمولی واقعے نے اسے یادگار بنا دیا۔

ایران سے افغانستان پہنچنے کا فیصلہ

وشال چوہان کے مطابق، ایران کے شہر مشہد میں قیام کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ افغانستان وہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اس کے بعد انہوں نے افغانستان جانے کا فیصلہ کیا اور ایران میں ہی اس سفر کے لیے ویزا حاصل کیا۔ یوں ان کا پہلے سے طے شدہ سفری منصوبہ بدل گیا اور وہ افغانستان کی جانب روانہ ہوگئے۔افغانستان پہنچنے کے بعد ان کی ملاقات ناظم بھائی نامی ایک شخص سے ہوئی، جنہوں نے ان کا خیرمقدم کیا اور مقامی ماحول کو سمجھنے میں ان کی مدد کی۔ وشال کے مطابق، اس ملاقات نے ان کے سفر کو آسان بنایا اور انہیں افغان معاشرے کے بارے میں براہ راست جاننے کا موقع ملا۔

قندھار میں طالبان نے چار گھنٹے تک پوچھ گچھ کی

وشال چوہان کے سفر کا سب سے غیر معمولی واقعہ قندھار کے بس اسٹینڈ پر پیش آیا، جہاں طالبان اہلکاروں نے انہیں پاکستانی جاسوس ہونے کے شبہے میں روک لیا۔ ان سے تقریباً چار گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔وشال کے مطابق، اس دوران انہیں اپنی شناخت اور افغانستان آنے کے مقصد کے بارے میں وضاحت دینی پڑی۔ بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ رہائی کے وقت انہیں ایک انگوٹھی اور عطر بھی تحفے میں دیا گیا۔اس واقعے نے ان کے سفر کو ایک نیا موڑ دیا۔ ایک طرف انہیں سخت پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا، تو دوسری جانب رہائی کے بعد ملنے والے تحائف نے ان کے لیے ایک غیر متوقع تجربے کی صورت اختیار کرلی۔

افغان عوام کے رویے کے بارے میں کیا کہتے ہیں وشال؟

وشال چوہان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام کے دوران انہیں متعدد مقامات پر مقامی لوگوں کی جانب سے اچھا برتاؤ دیکھنے کو ملا۔ ان کے بقول، افغان شہری بھارتیوں کے ساتھ احترام سے پیش آتے ہیں۔ انہوں نے طالبان اور پاکستان کے بارے میں بھی اپنے مشاہدات بیان کیے، تاہم یہ ان کے ذاتی تجربات اور آرا ہیں، جنہیں پورے افغان معاشرے یا کسی حکومت کے عمومی رویے کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔وشال نے افغانستان میں امن و امان، جرائم کی صورت حال اور روزمرہ زندگی کے بارے میں بھی اپنے تاثرات پیش کیے۔ ان کے مطابق، بعض علاقوں میں انہیں سماجی تحفظ اور جرائم میں کمی کے آثار محسوس ہوئے۔ تاہم ملک بھر کی صورت حال کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے وسیع اور آزاد ذرائع سے معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔

خواتین کے حقوق اور تعلیم پر پابندیاں

افغانستان میں خواتین کی صورت حال کے حوالے سے وشال کے مشاہدات بھی ان کے سفر کا اہم حصہ رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بعض شہری علاقوں میں ایسی خواتین کو دیکھا جو حجاب کے بغیر باہر موجود تھیں۔ تاہم انفرادی مشاہدات سے پورے ملک میں خواتین کی زندگی اور لباس کے بارے میں کوئی عمومی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب، افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندیاں ایک اہم مسئلہ ہیں۔ وشال نے بھی اس پہلو کا ذکر کیا۔ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق، تعلیم اور عوامی زندگی میں ان کی شرکت سے متعلق صورت حال کو سمجھنے کے لیے مقامی تجربات کے ساتھ مستند اور آزاد رپورٹوں کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

دور دراز علاقوں کا سفر اور مقامی زندگی کا مشاہدہ

اپنے 22 روزہ قیام کے دوران وشال چوہان نے افغانستان کے مختلف علاقوں کا سفر کیا۔ ان کے سفر میں مزار شریف کے قریب ایک دور افتادہ گاؤں کا دورہ بھی شامل تھا، جہاں انہیں مقامی زندگی، لوگوں کے رہن سہن اور کھانے پینے کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔ان کے مطابق، سفر کے دوران لوگوں سے ہونے والی ملاقاتوں نے افغانستان کے بارے میں ان کے تصورات کو متاثر کیا۔ ان کا تجربہ اس بات کی مثال ہے کہ کسی ملک کو سمجھنے کے لیے وہاں کے لوگوں سے براہ راست ملنا اور ان کی زندگی کو قریب سے دیکھنا اہم ہوسکتا ہے، اگرچہ محدود مدت کا سفر پورے ملک کی نمائندگی نہیں کرتا۔

سفر کے تجربات کتاب میں محفوظ

وشال چوہان نے افغانستان کے اپنے تجربات کو کتابی شکل بھی دی ہے، جس کا عنوان ’نَاشکّر اِن افغانستان‘ (Nashikkar in Afghanistan) بتایا گیا ہے۔ اس کتاب میں ان کے سفر، ملاقاتوں اور مشاہدات کو جگہ دی گئی ہے۔ عنوان کی درست املا اور کتاب کی اشاعت سے متعلق تفصیلات کی الگ سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔وشال کا یہ سفر اس لحاظ سے منفرد ہے کہ انہوں نے ایک اچانک فیصلے کے تحت افغانستان جانے کا ارادہ کیا اور وہاں 22 دن گزارے۔ قندھار میں طالبان کی حراست، مقامی لوگوں سے ملاقاتیں اور دور دراز علاقوں کے تجربات ان کے سفر کے نمایاں پہلو بن گئے۔ان کی کہانی ذاتی تجسس، سفر کے شوق اور نئے معاشروں کو قریب سے جاننے کی کوشش کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم افغانستان کی سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق سے متعلق صورت حال پر وسیع رائے قائم کرنے کے لیے کسی ایک سیاح کے تجربے کے ساتھ دیگر معتبر ذرائع کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔