کولکاتا۔ ہندوستانی فٹبال ٹیم کو برازیل کے خلاف 0۔4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم قومی ٹیم کے کوچ خالد جمیل نے اس شکست سے مایوس ہونے کے بجائے کھلاڑیوں کے لیے مزید بین الاقوامی میچوں کو ضروری قرار دیا ہے۔کولکاتا فٹبال کی تاریخی یادوں کا شہر ہے۔ 1977 میں پیلے نیو یارک کاسموس کے ساتھ یہاں پہنچے تھے اور ایڈن گارڈنز میں موہن بگان نے انہیں 2۔2 سے روک دیا تھا۔ ڈیاگو میراڈونا نے بھی کولکاتا کا 2 مرتبہ دورہ کیا جبکہ لیونل میسی نے 2011 میں سالٹ لیک اسٹیڈیم میں ارجنٹینا کے کپتان کی حیثیت سے اپنا پہلا میچ کھیلا تھا۔
ہفتہ کو برازیل کی ٹیم کسی نمائشی دورے کے لیے نہیں بلکہ ہندوستان کے خلاف میچ کھیلنے کولکاتا پہنچی تھی۔ 90 منٹ کے کھیل کے دوران ہندوستانی کھلاڑیوں کو برازیل کے عالمی معیار کے کھلاڑیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ونیسیئس جونیئر کو ہندوستانی دفاع نے مسلسل روکنے کی کوشش کی اور کئی مرتبہ وہ آف سائیڈ بھی قرار دیے گئے۔برازیل کی 4۔0 سے کامیابی کے بعد ونیسیئس جونیئر میدان میں موجود رہے۔ ہندوستانی ٹیم کے کئی کھلاڑی ان کے پاس پہنچے اور ان کے ساتھ تصاویر کھنچوائیں۔ منویر سنگھ بھی ان کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ تاہم یہ تصاویر ہندوستانی ٹیم کی میچ کے دوران کی گئی کوششوں کو کم نہیں کرتیں۔ میچ کے دوران ہندوستانی کھلاڑیوں نے برازیل کے خلاف دفاع کیا۔ دوڑ لگائی۔ مقابلہ کیا اور گول کرنے کی کوشش بھی کی۔
خالد جمیل کے لیے اس رات کی سب سے اہم یاد موبائل فون میں محفوظ تصویر نہیں بلکہ برازیل کے کوچ کارلو اینچیلوتی کی جانب سے ملنے والی حوصلہ افزائی تھی۔ میچ سے ایک دن قبل جمیل برازیل کی پریس کانفرنس میں موجود تھے جہاں اینچیلوتی نے ان سے ملاقات کی اور میچ کے بعد بات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔میچ کے بعد اینچیلوتی نے خالد جمیل سے کہا کہ ہندوستان نے بہت اچھا کھیلا اور اسے اسی کارکردگی کو مزید آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ جمیل کے لیے یہ ایک ایسے کوچ کی جانب سے اعتراف تھا جس کا شمار دنیا کے کامیاب ترین فٹبال کوچز میں ہوتا ہے۔
تاہم خالد جمیل نے اس تعریف کو شکست کے لیے تسلی نہیں بننے دیا۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں جب ان سے ہندوستان کی کارکردگی کو 10 میں سے نمبر دینے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ان کے پاس 0 پوائنٹس ہیں اور اگلا سوال کیا جائے۔خالد جمیل نے کہا کہ مضبوط ٹیم کے خلاف ایک غلطی بھی مہنگی پڑ سکتی ہے کیونکہ ایسی ٹیمیں موقع ملتے ہی گول کر دیتی ہیں۔ اس لیے کھلاڑیوں کو زیادہ توجہ مرکوز رکھنے اور ہر وقت چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کارلو اینچیلوتی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھے اور شریف انسان ہیں۔ ان کا انداز بہت سادہ ہے اور فنی اعتبار سے بھی ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ہندوستانی کپتان اور گول کیپر گُرپریت سنگھ سندھو کے بارے میں خالد جمیل نے کہا کہ شکست کے لیے انہیں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ گُرپریت ہندوستان کے بہترین گول کیپرز میں سے ایک ہیں اور کسی کھلاڑی کا فیصلہ صرف 2 میچوں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق دفاعی کھلاڑی بھی برازیلی حملہ آوروں کو بروقت روکنے میں کامیاب نہیں رہے اور مجموعی طور پر یہ پوری ٹیم کی غلطی تھی۔خالد جمیل نے کہا کہ ہندوستانی ٹیم کو اس تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ جتنا زیادہ کھیلا جائے گا اتنا ہی ک