نئی دہلی، : ہندوستان کی معروف ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا اور مہیش بھوپتی آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن (اے آئی ٹی اے) کی جنرل باڈی کے لیے منتخب ہوگئے ہیں۔ دونوں سابق کھلاڑیوں کو نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں (ایس او ایم) کے نمائندوں کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہے۔ اس انتخاب کے ساتھ ہی انہیں ملک کی قومی ٹینس فیڈریشن کے انتظامی ڈھانچے میں نمائندگی مل گئی ہے۔
اب تمام نظریں اے آئی ٹی اے کی ایگزیکٹو کمیٹی کے انتخابات پر مرکوز ہیں جو جمعرات کو منعقد ہوں گے۔ دونوں سابق کھلاڑی اس اہم فیصلہ ساز کمیٹی میں بھی نمائندگی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
اے آئی ٹی اے کے ترمیم شدہ آئین کے مطابق جنرل باڈی میں نمایاں کارکردگی کے حامل کھلاڑیوں کے 4 نمائندے شامل ہوں گے جن میں 2 مرد اور 2 خواتین ہوں گی۔ ان میں سے ایک مرد اور ایک خاتون نمائندے کو 15 رکنی ایگزیکٹو کمیٹی میں بھی شامل کیا جائے گا۔
یہ انتخابی عمل ملک کی قومی کھیلوں کی فیڈریشنوں کے انتظامی نظام میں سابق کھلاڑیوں کی نمائندگی بڑھانے کے لیے کی جانے والی وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد نیشنل اسپورٹس گورننس ایکٹ اور نیشنل اسپورٹس باڈیز رولز 2026 کے تحت کھلاڑیوں کو کھیلوں کے انتظامی معاملات میں زیادہ مؤثر کردار فراہم کرنا ہے۔
ایس او ایم کی نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 26 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ مردوں کے زمرے میں 18 جبکہ خواتین کے زمرے میں 8 امیدواروں نے درخواست دی تھی۔ درخواست دینے والوں میں ہندوستان کے سابق کھلاڑیوں اور ڈیوس کپ کے نمائندوں کے علاوہ 2 مرتبہ کے گرینڈ سلیم چیمپئن روہن بوپنا، سابق ڈیوس کپ کپتان آنند امرت راج اور گورو نیٹیکر بھی شامل تھے۔
مہیش بھوپتی سابق عالمی نمبر ایک ڈبلز کھلاڑی رہ چکے ہیں اور ہندوستان کے کامیاب ترین ٹینس کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں مجموعی طور پر 12 گرینڈ سلیم خطاب جیتے جن میں مردوں کے ڈبلز میں 4 اور مکسڈ ڈبلز میں 8 خطاب شامل ہیں۔ لیئنڈر پیس کے ساتھ ان کی جوڑی بھی عالمی ٹینس میں خاصی کامیاب رہی اور دونوں نے متعدد گرینڈ سلیم خطاب اپنے نام کیے۔
ثانیہ مرزا نے 2015 میں خواتین کے ڈبلز میں عالمی نمبر ایک کا مقام حاصل کیا تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں 6 گرینڈ سلیم خطاب جیتے جن میں خواتین کے ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز کے 3، 3 خطاب شامل ہیں۔ انہوں نے فروری 2023 میں پیشہ ورانہ ٹینس سے سبکدوشی اختیار کی تھی۔
اے آئی ٹی اے کے انتخابات 27 نومبر کو ہونے والے ہیں۔ سابق کھلاڑیوں کو تنظیم کے انتظامی ڈھانچے میں شامل کیے جانے سے ہندوستانی ٹینس کے معاملات میں کھلاڑیوں کی آواز اور نمائندگی کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔