لزبن، پرتگال: پرتگال کے عظیم فٹ بال کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو نے جمعرات کو بین الاقوامی فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ اس کے ساتھ ہی قومی ٹیم کے ساتھ ان کا 23 سالہ شاندار سفر اختتام پذیر ہوگیا۔ اس دوران انہوں نے خود کو فٹ بال کی تاریخ کے کامیاب ترین کھلاڑیوں میں شامل کرلیا۔
کرسٹیانو رونالڈو نے اگست 2003 میں قازقستان کے خلاف متبادل کھلاڑی کی حیثیت سے اپنا بین الاقوامی ڈیبیو کیا تھا۔ انہوں نے انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کا اعلان کیا۔ اس پیغام میں انہوں نے پرتگال کی نمائندگی کے اپنے سفر کو یاد کرتے ہوئے اپنے ملک کی جانب سے کھیلنے کا موقع ملنے پر اظہارِ تشکر کیا۔
اپنے جذباتی الوداعی پیغام میں پرتگال کے کپتان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ قومی ٹیم کی مشہور نمبر 7 جرسی نئی نسل کے حوالے کردیں۔ انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کو ایسا سفر قرار دیا جس نے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
رونالڈو نے کہا کہ پرتگال کے عوام کے لیے اب وہ دن آگیا ہے جب انہیں قومی ٹیم کی نمبر 7 جرسی واپس کرنی ہے۔ یہ جرسی کبھی صرف ان کی ملکیت نہیں تھی بلکہ 23 سال تک اسے پہننے اور دنیا بھر کے میدانوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کا اعزاز اور ذمہ داری انہیں حاصل رہی۔ اب وقت آگیا ہے کہ یہ ذمہ داری آنے والی نسل کو سونپ دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا کیونکہ بعض فیصلے صرف ذہن سے نہیں بلکہ دل سے بھی کیے جاتے ہیں۔ اگست 2003 میں شروع ہونے والا یہ سفر ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل کر اختتام پذیر ہوگیا ہے۔
پرتگال کی جانب سے 234 میچوں میں 146 گول کرنے والے رونالڈو نے کہا کہ قومی ٹیم کے ساتھ ان کا سفر صرف گول، ریکارڈ اور ٹرافیوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں شائقین کے ساتھ قائم ہونے والا جذباتی رشتہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کی آخری حد تک جانے کی کوشش کرتے رہے تاکہ کامیابی حاصل کرسکیں، تاریخ رقم کرسکیں اور قومی ٹیم کے لیے اپنی بہترین کارکردگی پیش کرسکیں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ جب وہ قومی ٹیم کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کو یاد کرتے ہیں تو انہیں صرف میچ، گول، ریکارڈ اور ٹرافیاں نظر نہیں آتیں بلکہ ان کے سامنے وہ لوگ آتے ہیں جنہوں نے اس سفر میں ان کا ساتھ دیا۔ بیرون ملک رہنے والے پرتگالی شہریوں سے لے کر دنیا بھر کے ان لاکھوں شائقین تک جن سے وہ کبھی نہیں ملے لیکن جو ان کی زندگی کا حصہ بن گئے۔
رونالڈو نے کہا کہ فٹ بال محض ایک کھیل نہیں بلکہ لوگوں کے جذبات اور ان کے باہمی تعلق کا نام ہے۔
انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ خود سے زیادہ توقعات وابستہ رکھیں۔ ان کا مقصد جیتنا، بہتر کھلاڑی بننا اور پرتگال کے لیے نئی تاریخ رقم کرنا تھا۔ انہوں نے اس جرسی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کردیں۔
پرتگال کے اس عظیم کھلاڑی نے اپنے کیریئر کی یادگار فتوحات اور تکلیف دہ شکستوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایسے کئی لمحات آئے جب وہ اپنے ملک کے عوام کی توقعات پوری نہیں کرسکے لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور پرتگال کی نمائندگی پر ہمیشہ فخر محسوس کیا۔
انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ گول پرانے ہوجاتے ہیں، ٹرافیاں عجائب گھروں کی زینت بن جاتی ہیں اور ریکارڈ بھی ٹوٹ جاتے ہیں لیکن لوگوں کے دلوں میں حاصل ہونے والی جگہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اگر ان کے کسی گول نے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لائی یا کسی کو اپنے ملک پر فخر کرنے کا موقع دیا تو ان کے لیے یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
اپنے شاندار کیریئر میں رونالڈو نے متعدد انفرادی اعزازات بھی حاصل کیے۔ ان میں 5 بیلن ڈی اور ایوارڈ، ریکارڈ 3 یو ای ایف اے مینز پلیئر آف دی ایئر ایوارڈ اور 4 یورپی گولڈن بوٹ شامل ہیں۔
الوداعی پیغام میں رونالڈو نے پرتگال کے نوجوان فٹ بال کھلاڑیوں کو بڑے خواب دیکھنے، ثابت قدم رہنے اور اپنے ملک کے لیے نئی کامیابیاں حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بطور کپتان ان کا سفر پوری ٹیم کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ پرتگال کو ہمیشہ ایسے نوجوانوں کی ضرورت رہے گی جو بڑے خواب دیکھنے کی ہمت رکھتے ہوں اور کبھی ہار نہ مانیں۔ نئی نسل کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ وہ وہاں تک پہنچ سکتی ہے جہاں پہلے کوئی نہیں پہنچا۔ جو ملک نئے ہیروز پیدا کرتا رہتا ہے وہ کبھی اپنے اوپر یقین کرنا نہیں چھوڑتا۔
رونالڈو نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میدان میں ہر دوڑ، ہر خوشی کے لمحے، ہر اختلاف اور میچ سے پہلے کی خاموشی ان کے لیے یادگار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے ساتھیوں کا کپتان ہونے کا اعزاز حاصل رہا لیکن کوئی بھی کپتان تنہا نہیں چلتا۔ ان کے ساتھی ہمیشہ ان کی کہانی کا حصہ رہیں گے۔
انہوں نے گزشتہ 23 برسوں کے دوران ساتھ کام کرنے والے کوچز، ڈائریکٹرز، ڈاکٹروں، فزیوتھراپسٹس، کٹ منیجرز اور دیگر معاون عملے کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق ان میں سے بہت سے لوگ تصویروں میں نظر نہیں آتے لیکن ان کی محنت کے بغیر یہ یادگار لمحات ممکن نہیں تھے۔
رونالڈو نے اپنے خاندان کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا جس نے ان کے بین الاقوامی کیریئر کے دوران ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا اور ان کی مصروفیات اور قربانیوں کو سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس مقام تک پہنچ سکے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا خاندان ہمیشہ ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتا رہا۔
پرتگال کے قومی ترانے سے وابستہ جذبات کا ذکر کرتے ہوئے رونالڈو نے کہا کہ اس ترانے کے آغاز پر جب وہ میدان میں اپنے ساتھیوں اور تماشائیوں کی طرف دیکھتے تھے تو انہیں بچوں، ماؤں، باپوں اور بزرگوں سمیت ایسے ہزاروں افراد دکھائی دیتے تھے جو دور دراز سے اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے آتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان چند منٹوں کے دوران تمام اختلافات ختم ہوجاتے ہیں۔ نہ کوئی کلب رہتا ہے، نہ رنگ، نہ طبقہ اور نہ ہی پیشہ۔ صرف ایک جذبہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ ہے پرتگال۔ یہی احساس وہ اپنی باقی زندگی اپنے ساتھ رکھیں گے۔
اپنے الوداعی پیغام کے اختتام پر رونالڈو نے کہا کہ قومی ٹیم کے ساتھ میدان میں ان کا سفر آج ختم ہورہا ہے لیکن وہ فخر کے ساتھ رخصت ہورہے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے ملک کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بین الاقوامی فٹ بال سے کنارہ کشی کے باوجود وہ پرتگال کی ہر کامیابی پر خوشی مناتے رہیں گے اور ٹیم کی حمایت جاری رکھیں گے۔
رونالڈو نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی دنیا کا بہترین کھلاڑی بننے کے لیے محنت کرتے ہوئے گزاری لیکن آج انہیں احساس ہے کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی دنیا کے بہترین ملک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کرنا تھا۔
انہوں نے اپنے 23 سالہ سفر کے لیے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس خواب کو جینے کا موقع ملا جو مڈیرا میں ایک چھوٹے بچے کی حیثیت سے فٹ بال کے پیچھے دوڑتے ہوئے شروع ہوا تھا۔ نمبر 7 کی جرسی برقرار رہے گی لیکن اسے پہننے کا فخر ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا۔ پرتگال ہمیشہ ان کے دل کا حصہ رہے گا۔
قابل ذکر ہے کہ رونالڈو کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اکتوبر میں پرتگالی فٹ بال فیڈریشن نے ڈنمارک کے خلاف میچ سے قبل قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ سے چلے جانے پر ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 30 دن کی معطلی اور 255 یورو جرمانہ عائد کیا تھا۔
41 سالہ فارورڈ کھلاڑی کو قومی ٹیم کے کیمپ چھوڑنے کے معاملے میں تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ فیڈریشن نے پرتگال کے اس عظیم کھلاڑی کے خلاف باضابطہ کارروائی شروع کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا