نئی دہلی: بھارتی رائفل شوٹر رودرانکش پاٹل اور تلوتما سین نے ایشین گیمز 2026 میں تمغے جیتنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ رودرانکش پاٹل نے واضح کیا کہ اب ان کا اگلا ہدف 2028 لاس اینجلس اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنا ہے۔
جاپان کے آیچی ناگویا میں جاری ایشین گیمز میں رودرانکش پاٹل اور تلوتما سین ان بھارتی کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے نشانہ بازی میں تمغے حاصل کیے ہیں۔ نشانہ بازی کے مقابلے ابھی جاری ہیں اور اب تک یہ بھارت کے لیے ایشین گیمز کے کامیاب ترین کھیلوں میں شامل رہی ہے۔ نشانہ بازوں نے بھارت کے مجموعی 37 تمغوں میں 11 تمغوں کا اضافہ کیا ہے جن میں ایک طلائی چھ چاندی اور چار کانسی کے تمغے شامل ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے رودرانکش پاٹل نے کہا کہ انہیں یہاں بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان نے بھی ان کے سفر میں بھرپور تعاون کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نشانہ بازی ملک کے اہم کھیلوں میں شامل ہے اور اب ان کا بنیادی مقصد اگلے اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنا ہے۔ انہوں نے ایشین گیمز میں شریک باقی بھارتی کھلاڑیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مزید طلائی تمغے حاصل کریں گے۔
ایشین گیمز میں رودرانکش پاٹل نے مردوں کے 10 میٹر ایئر رائفل ٹیم مقابلے میں پارتھ مانے اور ہمانشو ڈھلوں کے ساتھ چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایشوریا پرتاپ سنگھ تومر اور نیرج کمار کے ساتھ مردوں کے 50 میٹر رائفل تھری پوزیشن ٹیم مقابلے میں بھی چاندی کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے مردوں کے 10 میٹر ایئر رائفل انفرادی مقابلے میں کانسی کا تمغہ بھی حاصل کیا اور یوں وہ رواں ایشین گیمز کے کامیاب ترین بھارتی کھلاڑیوں میں شامل ہوگئے ہیں۔اس سے قبل رودرانکش پاٹل نے 2022 میں ہانگژو میں منعقدہ ایشین گیمز میں مردوں کے 10 میٹر ایئر رائفل ٹیم مقابلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔
تلوتما سین نے بھی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پہلے ہی ایشین گیمز میں تمغہ جیت کر بہت خوش ہیں۔ انہوں نے اپنی کامیابی اپنے والدین اور کوچ کے نام کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھر واپس جاکر اپنے خاندان کے ساتھ اس کامیابی کا جشن منائیں گی۔تلوتما سین نے ایشی چوکسی اور ودراشا ونود کے ساتھ خواتین کے 50 میٹر رائفل تھری پوزیشن ٹیم مقابلے میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ تاہم وہ انفرادی مقابلے میں تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
خواتین کے 50 میٹر رائفل تھری پوزیشن مقابلے میں تلوتما سین کی ساتھی ایشی چوکسی نے کہا کہ یہ ٹیم کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے اور انہیں اس بات پر بہت خوشی ہے کہ ٹیم نے پوڈیم پر جگہ بنائی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا چاندی کے تمغوں کا سلسلہ جاری ہے اور چاندی کا تمغہ بھی بڑی کامیابی ہے جس پر سب کو فخر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں بھارت کھیلوں کے میدان میں ایک اہم طاقت بن کر ابھرا ہے اور نشانہ بازی نے ملک کے تمغوں میں نمایاں حصہ ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیم کا حصہ ہونا ان کے لیے باعث فخر ہے۔اس سے قبل ایشی چوکسی نے 2022 کے ایشین گیمز میں خواتین کے 10 میٹر ایئر رائفل اور خواتین کے 50 میٹر رائفل تھری پوزیشن ٹیم مقابلوں میں بھی چاندی کے تمغے حاصل کیے تھے۔
ودراشا ونود نے بھی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایشین گیمز میں تمغہ جیت کر بہت خوش ہیں۔ یہ ان کا پہلا ایشین گیمز تھا اور انہوں نے کہا کہ وہ کسی خاص توقع کے بغیر صرف اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے پر توجہ دے رہی تھیں۔ تاہم اب وہ دو تمغوں کے ساتھ واپس لوٹ رہی ہیں اور انہیں اس پر بے حد فخر ہے۔ انہوں نے اپنا تمغہ اپنے کوچ منوج سر کے نام کیا۔ودراشا ونود نے اس سے قبل ایلانیویل والاریوان اور سونم ماسکر کے ساتھ خواتین کے 10 میٹر ایئر رائفل ٹیم مقابلے میں بھی چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔