عرفان پٹھان کی انشول کمبوج کو عالمی کپ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل کرنے کی وکالت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 05-11-2026
عرفان پٹھان کی  انشول کمبوج کو عالمی کپ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل کرنے کی وکالت
عرفان پٹھان کی انشول کمبوج کو عالمی کپ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل کرنے کی وکالت

 



ممبئی:ہندوستان کے سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں انشول کمبوج کی شاندار گیند بازی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ اسی طرح عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے تو انتخاب کاروں کو 2027 کے آئی سی سی کرکٹ عالمی کپ کے ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست میں ان کے نام پر غور کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں سازگار سوئنگ اور سیم کی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کمبوج نے پہلے ون ڈے میں 10 اوورز میں صرف 22 رن دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی 46 گیندیں ایسی تھیں جن پر کوئی رن نہیں بنا۔ چنئی سپر کنگز کے اس کھلاڑی نے بین الاقوامی کرکٹ کے ابتدائی مشکل تجربات کے بعد شاندار واپسی کی اور ایسی کارکردگی دکھائی جس سے 2027 کے عالمی کپ سے قبل ٹیم کے گیند بازی کے شعبے میں ان کی جگہ مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس عالمی کپ کی مشترکہ میزبانی جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کریں گے۔

عرفان پٹھان نے کمبوج کی صلاحیتوں کو سراہا

کرک انفو کی ایک ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے عرفان پٹھان نے کہا کہ انشول کو ٹیسٹ کرکٹ میں اتارنے سے پہلے طویل فضائی سفر کی تھکن سے سنبھلنے کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے تھا۔ گزشتہ سال ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا آغاز متاثر کن نہیں رہا تھا۔ انہوں نے زخمی کھلاڑی کی جگہ ٹیم میں شامل ہونے کے بعد 18 اوورز میں 89 رن دے کر صرف ایک وکٹ حاصل کیتھی۔

عرفان پٹھان نے نئی اور پرانی گیند سے گیند بازی کرنے کے ساتھ آخری اوورز میں کمبوج کی مہارت کی بھی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انشول کے پاس ایک مکمل گیند باز بننے کی صلاحیت موجود ہے اور مستقبل میں وہ ترقی کی سیڑھیاں چڑھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انشول مستقبل میں یقیناً اہم گیند بازوں میں شامل ہوں گے۔ ٹیسٹ میچ میں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت حالات کو سمجھنا ضروری ہے۔ طویل سفر کے بعد کسی گیند باز کے لیے نئے ماحول اور آب و ہوا سے ہم آہنگ ہونا اور جسمانی تھکن سے نکل کر میدان میں اترنا آسان نہیں ہوتا۔ اس وقت انشول کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے سے پہلے مزید وقت درکار تھا۔

عرفان پٹھان نے مزید کہا کہ انہیں انشول کی وہ صلاحیت پسند ہے جس کے تحت وہ نئی گیند سے بھی اچھی گیند بازی کر سکتے ہیں اور آخری اوورز میں بھی مؤثر رہتے ہیں۔ چنئی سپر کنگز کی جانب سے کھیلتے ہوئے انہوں نے اپنی اس مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ وکٹ کے دوسری جانب سے گیند بازی کرتے ہوئے باہر کی طرف یارکر بھی کرا سکتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے میں انہوں نے پرانی گیند سے بھی اچھی کارکردگی دکھائی۔ان کے مطابق انشول کے پاس نئی اور پرانی دونوں گیندوں سے مؤثر گیند بازی کرنے کی صلاحیت ہے اور وہ گیند کو سوئنگ بھی کرا سکتے ہیں۔ اگر وہ اسی طرح کھیلتے رہے تو انتخاب کاروں کو عالمی کپ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں ان کے نام پر غور کرنا پڑے گا۔

خراب آغاز کے بعد کمبوج کی شاندار واپسی

قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل نیوزی لینڈ کے خلاف نہیں بلکہ ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے انشول کمبوج کو خاصا پریشان کیا تھا۔ نیو چندی گڑھ میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں ویسٹ انڈیز کے کپتان شائی ہوپ نے ان کے خلاف جارحانہ بلے بازی کی تھی۔ اپنے پہلے ون ڈے میچ میں کمبوج نے 9 اوورز میں 82 رن دیے تھے۔ ان میں سے 31 گیندوں پر شائی ہوپ نے 42 رن بنائے اور انہیں 6 چوکے بھی لگائے۔ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں میں اپنے ابتدائی میچوں کے دوران کمبوج ان توقعات پر پورا نہیں اتر سکے تھے جو آئی پی ایل اور گھریلو کرکٹ میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر قائم ہوئی تھیں۔ تاہم آکلینڈ میں ان کی حالیہ کارکردگی نے ان کی صلاحیتوں کا ایک نیا پہلو سامنے رکھا ہے۔

ہندوستان نے نیوزی لینڈ کو شکست دی

دھ کو آکلینڈ میں پانچ میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں بارش سے متاثرہ مقابلے میں ہندوستان نے نیوزی لینڈ کو شکست دے دی۔ اس میچ میں وراٹ کوہلی کی شاندار 74 رن کی اننگز اور ارشدیپ سنگھ اور انشول کمبوج کی مؤثر گیند بازی نمایاں رہی۔ارشدیپ سنگھ نے 4 وکٹیں حاصل کرکے ہندوستانی گیند بازی کی قیادت کی جبکہ گرنور برار نے 9.2 اوورز میں 44 رن دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ انشول کمبوج نے 10 اوورز میں 22 رن دے کر 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس طرح ہندوستانی گیند بازوں نے نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم کو 185 رن پر سمیٹ دیا۔جواب میں وراٹ کوہلی نے 51 گیندوں پر 13 چوکوں کی مدد سے 74 رن بنائے اور ٹیم کو ہدف کے قریب پہنچا دیا۔ بارش کے باعث ہندوستان کو 32 اوورز میں 143 رن کا نظرثانی شدہ ہدف ملا تھا جسے ٹیم نے آسانی سے حاصل کر لیا۔