29 سالہ سرفراز خان نے آخری مرتبہ 2024 میں وانکھیڑے اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ہندوستان کی نمائندگی کی تھی۔ اس سال اگست میں سری لنکا کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے زخمی سائی سدرشن کی جگہ انہیں دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا تاہم انہیں حتمی الیون میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔
سرفراز کو نیوزی لینڈ کے خلاف 3 چار روزہ میچوں کی سیریز کے لیے انڈیا اے ٹیم میں جگہ ملنے کی امید تھی۔ یہ مقابلے ہندوستان کی سینئر ٹیم کی آئندہ ٹیسٹ سیریز کی تیاری کا حصہ ہیں لیکن سلیکٹروں نے انہیں منتخب نہیں کیا۔انتخاب کے بارے میں پوچھے جانے پر سرفراز نے کہا کہ جب بھی کسی ٹیم کا اعلان ہوتا ہے تو انہیں انتخاب کی امید رہتی ہے لیکن یہ فیصلہ سلیکٹروں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ انہیں منتخب کرتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کام کرکٹ کھیلنا ہے۔
ممبئی کے اس بلے باز نے یہ بھی بتایا کہ انہیں سننے میں آیا ہے کہ سلیکٹرز انہیں بنیادی طور پر ہندوستانی حالات میں ہونے والے میچوں کے لیے زیر غور رکھ رہے ہیں۔ان کے مطابق سلیکٹرز نے براہ راست ان سے یہ بات نہیں کہی لیکن ہندوستانی ٹیم کے ساتھ حالیہ دورے کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ سلیکٹرز انہیں ہندوستانی پچوں کے لیے زیادہ موزوں سمجھتے ہیں۔
تاہم سرفراز نے بیرون ملک ہندوستان اے کی جانب سے اپنی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے اس تاثر پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ اور انگلینڈ میں بھی انہوں نے رنز بنائے ہیں۔ ان کے خیال میں صرف ہندوستانی حالات میں کھیلنے والا بلے باز سمجھنا درست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب کوئی کھلاڑی واپسی کرتا ہے اور ہندوستان میں مشکل پچ پر کھیلتا ہے تو اس کے لیے کارکردگی دکھانا آسان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایسی پچوں پر 30 سے 50 رنز بھی اہم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک بھی رنز بنائے ہیں اور ان کا کام صرف کرکٹ کھیلنا ہے۔
سرفراز نے ہندوستان سے باہر ہندوستان اے کے لیے 7 فرسٹ کلاس میچوں میں 300 رنز بنائے ہیں۔ ان کی اوسط 50 رہی ہے اور اس دوران انہوں نے 3 نصف سنچریاں بھی اسکور کی ہیں۔
دوسری جانب جاری رنجی ٹرافی سیزن میں ممبئی کے لیے ان کی کارکردگی مسلسل اچھی رہی ہے۔ ابتدائی 3 اننگز میں انہوں نے 1 اور 154 اور 40 رنز بنائے تھے۔ پیر کو ریلوے کے خلاف انہوں نے 55 رنز کی اننگز کھیلی جس کے بعد رواں سیزن میں ان کی اوسط 62.50 ہوگئی ہے۔سرفراز نے اعتراف کیا کہ ہر سیزن میں گھریلو کرکٹ میں واپس آکر نئے سرے سے محنت شروع کرنا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی اسی تربیتی معمول پر عمل کرتے ہیں جس نے انہیں کرکٹ میں آگے بڑھنے میں مدد دی۔
انہوں نے کہا کہ ہر سیزن میں رنز بنانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ اپنے والد کے ساتھ ابتدائی دنوں میں جس طرح محنت کرتے تھے آج بھی اسی انداز میں مشق کرتے ہیں۔ آف سیزن میں بھی وہ آرام کرنے کے بجائے مسلسل پریکٹس کرتے ہیں۔سرفراز کے مطابق جب انہوں نے 10 سے 11 سال پہلے رنجی ٹرافی کھیلنا شروع کی تھی تب بھی ان کا یہی معمول تھا۔ اگر کوئی ان سے ملنا چاہتا ہے تو اسے ان کے گھر جانے کی ضرورت نہیں بلکہ صبح 6 بجے آزاد میدان یا کراس میدان میں وہ مل سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال دوبارہ محنت شروع کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کبھی کامیابی ملتی ہے اور کبھی نہیں لیکن یہی ان کا کام ہے۔مشکل وقت میں حوصلہ برقرار رکھنے کا سہرا سرفراز نے اپنے والد کو دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے لیے کھیلنے کا بچپن کا خواب پورا ہونے کے باوجود کرکٹ کے لیے ان کا جذبہ کم نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی اصل تحریک کرکٹ کھیلنا ہے۔ جہاں بھی موقع ملے گا وہ کھیلیں گے۔ چاہے رنجی ٹرافی ہو یا مشتاق علی ٹرافی یا وجے ہزارے ٹرافی یا آئی پی ایل یا ہندوستانی ٹیم۔ اگر انڈیا اے کی جانب سے بھی بلایا گیا تو وہ کھیلنے کے لیے جائیں گے۔سرفراز نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے گزشتہ سال اپنا وزن 97 کلوگرام سے کم کرکے 77 کلوگرام کرلیا تھا۔ اس طرح انہوں نے 20 کلوگرام وزن کم کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ فٹنس بہتر بنانے کا یہ فیصلہ انہوں نے خود کیا تھا اور ٹیم انتظامیہ کی جانب سے انہیں وزن کم کرنے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کسی نے انہیں وزن کم کرنے کے لیے نہیں کہا تھا لیکن سوشل میڈیا اور لوگوں سے ملنے والے مشوروں کے بعد انہوں نے اس پر کام کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پہلے ان کا وزن ضرورت سے زیادہ تھا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔2024 میں گھریلو کرکٹ میں شاندار کارکردگی کے بعد ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے سرفراز نے کہا کہ وہ انتخاب کے معاملات کے بارے میں زیادہ نہیں سوچ رہے ہیں۔ وہ جہاں بھی موقع ملتا ہے کھیلتے رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہندوستانی ٹیم کی جانب سے دوبارہ بلایا گیا تو وہ ضرور جائیں گے ورنہ گھریلو کرکٹ میں اپنی کارکردگی جاری رکھیں گے۔