محمد شامی نے ٹیسٹ کرکٹ کو کہا الوداع، 13 سالہ شاندار سفر کا اختتام

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 07-11-2026
محمد شامی نے ٹیسٹ کرکٹ کو کہا الوداع، 13 سالہ شاندار سفر کا اختتام
محمد شامی نے ٹیسٹ کرکٹ کو کہا الوداع، 13 سالہ شاندار سفر کا اختتام

 



 امروہہ (اتر پردیش): ہندوستان کے اسٹار فاسٹ بولر محمد شامی نے جمعہ کو ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی کھیل کے سب سے طویل فارمیٹ میں ان کا 13 سالہ سفر اختتام پذیر ہوگیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شامی نے جس دن ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھا تھا، اسی تاریخ یعنی 6 نومبر کو اس فارمیٹ سے الوداع کہنے کا فیصلہ کیا۔محمد شامی نے ہندوستان کی جانب سے 64 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 122 اننگز میں 27.71 کی اوسط سے 229 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا بہترین بولنگ ریکارڈ 56 رن دے کر 6 وکٹیں رہا۔ اس دوران انہوں نے 12 مرتبہ ایک اننگز میں چار وکٹیں اور چھ مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔

شامی نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ آسٹریلیا کے خلاف آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2021-23 کے فائنل میں کھیلا تھا۔ اس مقابلے میں انہوں نے پہلی اننگز میں 122 رن دے کر دو اور دوسری اننگز میں 39 رن دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ ہندوستان کو اس میچ میں 209 رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

چھوٹے گاؤں سے ہندوستانی کرکٹ تک کا سفر

انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک جذباتی ویڈیو پیغام میں محمد شامی نے اپنے 13 سالہ کرکٹ سفر میں ساتھ دینے والے والدین، اہل خانہ، دوستوں، ساتھی کھلاڑیوں اور دیگر افراد کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایک چھوٹے سے گاؤں سے اپنے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران انہیں کئی مشکلات، چوٹوں اور اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ ہر مرتبہ ہندوستان کی نمائندگی کے جذبے کے ساتھ میدان میں واپس آئے۔

شامی نے اپنے کوچز، ٹرینرز، فزیوتھراپسٹ اور کرکٹ شائقین کا بھی شکریہ ادا کیا، جن کی محبت اور حوصلہ افزائی نے انہیں آگے بڑھنے کی طاقت دی۔

انہوں نے کہا، ’’میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہوں، جس نے مجھے میری توقعات سے کہیں زیادہ نوازا۔ اس کے بعد اپنے والدین، خاندان، دوستوں اور ان تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے میرے اس سفر میں کسی نہ کسی طرح حصہ لیا۔ یہ 13 سال کا بہت طویل سفر رہا ہے۔ ایک چھوٹے سے گاؤں سے آنے کے بعد میں نے سخت محنت کی اور زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے۔‘‘

6 نومبر کی تاریخ سے جڑی جذباتی یاد

ویڈیو میں شامی اپنے ہاتھوں میں ٹیسٹ کیپ نمبر 279 اور سرخ چمڑے کی گیند لیے نظر آئے۔ انہوں نے بتایا کہ 6 نومبر ان کے لیے ہمیشہ خاص دن رہے گا، کیونکہ 13 سال قبل اسی تاریخ کو انہیں ہندوستان کی ٹیسٹ کیپ ملی تھی۔

انہوں نے کہا، ’’آج 6 نومبر ہے اور 13 سال پہلے اسی دن یہ دو چیزیں میرے ہاتھوں میں آئی تھیں۔ بہت سی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد مجھے ٹیسٹ کیپ نمبر 279 ملی۔ ان 13 برسوں میں اس کیپ اور اس گیند نے مجھے محمد شامی بنایا۔ اس دوران میں کئی بار لڑکھڑایا، زخمی ہوا اور تکلیفیں برداشت کیں، لیکن ہندوستانی ٹیم کے بیج کے لیے ہر مرتبہ دوبارہ کھڑا ہوا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ محمد شامی نے 2013 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کولکاتا میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔ اپنے پہلے ہی میچ میں انہوں نے پہلی اننگز میں 71 رن دے کر چار اور دوسری اننگز میں 47 رن دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی شاندار بولنگ کی بدولت ہندوستان نے یہ مقابلہ ایک اننگز اور 51 رن سے جیتا تھا۔

محدود اوورز کی کرکٹ میں کھیلتے رہیں گے شامی

ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے شامی نے واضح کیا کہ وہ محدود اوورز کی کرکٹ کھیلنا جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق وہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی حصہ لیتے رہیں گے۔ فٹنس برقرار رکھنے کے لیے ضرورت پڑنے پر وہ گھریلو کرکٹ کھیلنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’آج میں اپنے 13 سالہ ٹیسٹ سفر کو یہیں ختم کر رہا ہوں۔ میں نے اسی دن اپنا ڈیبیو کیا تھا اور آج ہی ریٹائرمنٹ لے رہا ہوں۔ ریڈ بال کرکٹ کو الوداع کہہ رہا ہوں، لیکن وائٹ بال کرکٹ کھیلتا رہوں گا، چاہے وہ آئی پی ایل ہو یا ڈومیسٹک میچ۔ جہاں تک بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کا تعلق ہے، میرا سفر اب ختم ہو رہا ہے۔‘‘

انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر امید ظاہر کی کہ ان کے علاقے اور ملک سے مزید باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئیں گے اور ہندوستان کی خدمت کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے سب کو دیوالی کی مبارک باد بھی دی۔

’’ٹیسٹ کرکٹ میری زندگی کا خاص حصہ رہی‘‘

انسٹاگرام پوسٹ کے ساتھ اپنے پیغام میں شامی نے کہا کہ ہندوستان کی ٹیسٹ جرسی پہننا ان کا خواب تھا۔ ان کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ محض کھیل کا ایک فارمیٹ نہیں بلکہ ان کی زندگی کا ایک نہایت اہم حصہ رہی ہے۔

انہوں نے لکھا، ’’میں سفید جرسی کو الوداع کہہ رہا ہوں، لیکن اس سے وابستہ یادوں کو کبھی نہیں۔ جب پہلی مرتبہ ہندوستان کی ٹیسٹ جرسی پہنی تھی تو میرا صرف ایک خواب تھا کہ اپنے ملک کے لیے کچھ خاص کروں۔ اس کے بعد ہر وکٹ، ہر جدوجہد، ہر چوٹ اور ہر واپسی نے مجھے کچھ نہ کچھ سکھایا۔ آج بھاری دل اور بے شمار خوبصورت یادوں کے ساتھ میں نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

شامی نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں، کوچز، خاندان، مداحوں، بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) اور کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال (سی اے بی) کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں نے ان کی صلاحیتوں پر بھروسا کیا، انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے اور ان کے کرکٹ سفر میں اہم کردار ادا کیا۔

اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے کہا، ’’ممکن ہے کہ میدان میں میری آخری ٹیسٹ گیند پھینکی جا چکی ہو، لیکن ہندوستان کے لیے کھیلنے کا فخر ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہے گا۔ شکریہ، ٹیسٹ کرکٹ۔‘‘