اسرائیلی ترانے پر منفرد احتجاج،آئرش فٹ بالرز، سرجھکا لیے اور مصحافہ نہیں کیا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-09-2026
 اسرائیلی ترانے پر منفرد احتجاج،آئرش فٹ بالرز، سرجھکا لیے اور مصحافہ نہیں کیا
اسرائیلی ترانے پر منفرد احتجاج،آئرش فٹ بالرز، سرجھکا لیے اور مصحافہ نہیں کیا

 



ہنگری : ڈیبریسن میں آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان نیشنز لیگ کے مقابلے میں آئرش کھلاڑیوں نے غزہ میں جاری جنگ کے خلاف احتجاج کیا۔ آئرلینڈ نے یہ مقابلہ 3-0 سے جیتا تاہم میچ سے قبل اور دوران کھلاڑیوں کے احتجاجی انداز نے خاص توجہ حاصل کی۔جب تقریباً خالی سٹیڈیم میں اسرائیل کا قومی ترانہ بجایا گیا تو آئرلینڈ کے کھلاڑیوں نے اپنے سر جھکا لیے۔ دونوں ٹیموں نے میچ سے قبل روایتی مصافحہ بھی نہیں کیا اور ایک دوسرے کو روایتی طور پر جھنڈے بھی پیش نہیں کیے۔

آئرش کھلاڑیوں نے غزہ میں جاری جنگ کے خلاف اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں بھی باندھ رکھی تھیں۔ میچ کے 14ویں منٹ میں ٹروئے پیراٹ نے گول کرنے کے بعد ہاتھوں سے دل کا نشان بنایا۔ اس کے بعد 25ویں منٹ میں جیک موائلن نے آئرلینڈ کا تیسرا گول کیا اور اپنی جرسی پر موجود آئرش بیج اور سیاہ پٹی کو بوسہ دیا۔اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے آئرش کھلاڑیوں کے اقدامات پر تنقید کی۔ انہوں نے ایکس پر اپنی ایک طویل پوسٹ میں آئرلینڈ پر ’تاریخ کے غلط رخ پر‘ کھڑے ہونے کا الزام عائد کیا۔

گیڈون سار نے 1939 کی آئرش فٹ بال ٹیم کا حوالہ بھی دیا جس نے جرمنی کے شہر بریمن میں جرمنی کے خلاف میچ سے قبل نازی سلیوٹ کیا تھا۔ انہوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران آئرلینڈ کی غیر جانب داری اور اس وقت کے وزیراعظم ایمون ڈی ویلیرا کی جانب سے ایڈولف ہٹلر کی موت کے بعد ڈبلن میں جرمن نمائندے سے تعزیت کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔

میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

اس مقابلے کے انعقاد پر میچ سے چند روز قبل ہی سوالات اٹھنے لگے تھے۔ آئرش کھلاڑیوں پر میچ کے بائیکاٹ کا دباؤ بھی تھا تاہم ٹیم نے بھاری اکثریت سے مقابلے میں شرکت کے حق میں ووٹ دیا۔آئرلینڈ کے صرف ایک کھلاڑی گول کیپر گیون بیزونو نے میچ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’معصوم لوگوں کے قتل‘ کے باعث اس میچ میں یا 4 اکتوبر کو سربیا میں ہونے والے دوسرے مرحلے کے مقابلے میں شرکت کرنا ’غلط ہوگا‘۔آئرش فٹ بال فیڈریشن نے اس میچ کے لیے شائقین کے لیے کوئی ٹکٹ مختص نہیں کیا تھا۔ سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ای کو بھی مقابلہ بغیر تبصرے کے نشر کرنا تھا۔

فلسطینی ریاست کی حمایت

آئرلینڈ طویل عرصے سے فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھاتا رہا ہے۔ اس حمایت کو بعض مبصرین آئرلینڈ کے اپنے تاریخی نوآبادیاتی تجربے سے بھی جوڑتے ہیں۔ڈبلن نے 2024 میں اسپین اور ناروے کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ آئرش حکومت غزہ میں جاری جنگ کے معاملے پر اسرائیل پر متعدد مرتبہ تنقید بھی کر چکی ہے۔دوسری جانب اسرائیل غزہ میں اپنے اقدامات کو نسل کشی قرار دیے جانے کے الزام کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔