نئی دہلی۔ ہندوستان کے سابق عظیم کرکٹر سنیل گواسکر نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میں روہت شرما کی 92 رنز کی اننگز پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ گواسکر نے روہت کے 92 رنز پر آؤٹ ہونے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جب روہت اپنے بین الاقوامی کیریئر کو الوداع کہیں تو ان کی ون ڈے سنچریوں کی تعداد ان کی عمر سے زیادہ ہو۔
روہت شرما اب تک ون ڈے کرکٹ میں 35 سنچریاں بنا چکے ہیں۔ گواسکر کے مطابق اگر روہت تیسرے ون ڈے میں سنچری بنا لیتے تو ان کی 36ویں سنچری ہوتی اور وہ اس خاص سنگ میل کے مزید قریب پہنچ جاتے۔گواسکر نے بتایا کہ اپنے آخری سال میں وہ بھی چاہتے تھے کہ ان کی ٹیسٹ سنچریوں کی تعداد ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت عمر کے برابر ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ 90 کی دہائی میں 3 مرتبہ آؤٹ ہوئے اور اگر ان میں سے سنچریاں بن جاتیں تو ان کی سنچریوں کی تعداد ان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 38 سال کے برابر ہوتی۔
گواسکر نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر چاہتے ہیں کہ جب روہت بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوں تو ان کی ون ڈے سنچریوں کی تعداد ان کی عمر سے زیادہ ہو۔ ان کے مطابق کسی کھلاڑی کی سنچریوں کی تعداد کا اس کی ریٹائرمنٹ کی عمر سے زیادہ ہونا اس کے شاندار کیریئر اور کئی برس تک برقرار رہنے والے اعلیٰ معیار کی علامت ہے۔ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ون ڈے میں کپتان شبمن گل صرف 1 رن بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ وراٹ کوہلی بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے۔ ایسے وقت میں روہت شرما نے ایک بار پھر ذمہ داری سنبھالی اور 85 گیندوں پر 92 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ ان کی اننگز میں 10 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔
روہت نے اس سے قبل دوسرے ون ڈے میں بھی سنچری بنائی تھی۔ ہندوستان نے 3 میچوں کی ون ڈے سیریز 2۔1 سے اپنے نام کی۔ تیسرے اور آخری میچ میں ویسٹ انڈیز نے کپتان شائی ہوپ کی ناقابل شکست 162 رنز کی اننگز کی بدولت 352 رنز کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا۔سنیل گواسکر نے روہت کی بیٹنگ کے انداز میں 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد آنے والی تبدیلی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق روہت اب اپنی وکٹ کی اہمیت کو پہلے سے زیادہ سمجھتے ہیں اور شروعات کو بڑی اننگز میں تبدیل کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔
گواسکر نے کہا کہ 2023 کے ورلڈ کپ میں روہت کپتان کی حیثیت سے بنائے گئے اپنے جارحانہ انداز کے مطابق پہلی ہی گیند سے تیزی سے کھیلتے تھے اور آؤٹ ہونے کے خطرے کی زیادہ پروا نہیں کرتے تھے۔ اب وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی وکٹ بہت قیمتی ہے۔گواسکر کے مطابق روہت صرف 30 یا 40 رنز بنانے والے بلے باز نہیں ہیں بلکہ وہ سنچری بنانے کی صلاحیت رکھنے والے کھلاڑی ہیں۔ اگر وہ 70 سے 80 گیندوں میں بڑی اننگز کھیلتے ہیں تو اس سے ہندوستان کی رن ریٹ بھی بہتر رہتی ہے اور انہیں سست بیٹنگ پر سوشل میڈیا میں ہونے والی تنقید سے بھی بچنے میں مدد ملتی ہے۔
روہت شرما حالیہ ون ڈے میچوں میں شاندار فارم میں ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف 3 میچوں کی سیریز میں انہوں نے 58.33 کی اوسط اور 98.31 کے اسٹرائیک ریٹ سے 175 رنز بنائے تھے۔ لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ون ڈے کو ان کی ممکنہ آخری بین الاقوامی پیشی قرار دیا جا رہا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی ٹی 20 انٹرنیشنل اور ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔روہت نے اس میچ میں 110 گیندوں پر 138 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر 17 چوکے اور 5 چھکے لگائے تھے۔ ہندوستان 388 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 27 رنز سے میچ ہار گیا تھا لیکن روہت نے اپنی میچ وننگ صلاحیت ایک بار پھر ثابت کی۔اس کے بعد روہت نے ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں بھی اپنی فارم برقرار رکھی اور 3 میچوں میں 225 رنز بنائے۔