فیڈریشن کے صدر اور سکریٹری کے درمیان اختلافات سے ہندوستانی باکسروں کی ترقی متاثر ہونے کے سوال پر وان ڈیر ورسٹ نے کہا کہ کھلاڑیوں کے مفادات ہمیشہ اولین ترجیح ہونے چاہئیں۔انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ باکسروں کے مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے۔ باکسنگ کے مفاد میں موجودہ حالات میں استحکام ضروری ہے۔ صدر اجے سنگھ اور خاص طور پر چیف ایگزیکٹیو آفیسر ارون ملک نے ہندوستانی باکسنگ کے لیے بہترین کام کیا ہے۔ انہوں نے بڑے دستے بین الاقوامی مقابلوں میں بھیجے اور ایسا ماحول تیار کیا جس میں باکسر اپنی صلاحیتوں کو کامیابی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دولت مشترکہ کھیلوں اور ایشیائی کھیلوں میں تاریخی میڈل حاصل کرنے کے بعد اب اس قیادت کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ لاس اینجلس اولمپکس میں 2 سال سے بھی کم وقت باقی ہے اور ایسے میں باکسروں کے لیے استحکام انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔اجے سنگھ کی قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کے بارے میں پوچھے جانے پر وان ڈیر ورسٹ نے فیڈریشن میں ان کی مالی سرمایہ کاری اور ہندوستانی باکسروں کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجے سنگھ ہندوستانی باکسنگ اور بی ایف آئی میں بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق صرف سینئر سطح پر ہی نہیں بلکہ نوجوان باکسروں نے بھی تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ہندوستان میں اس وقت باصلاحیت کھلاڑیوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور یہ صورت حال مستقبل کے لیے امید افزا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی باکسنگ میں صرف صدر اجے سنگھ کی جانب سے سرمایہ کاری کافی نہیں ہے بلکہ دوسرے لوگوں اور اداروں کو بھی آگے آنا چاہیے تاکہ اس کھیل کے لیے مزید مالی وسائل دستیاب ہو سکیں۔ انہوں نے کاروباری طبقے کو مشورہ دیا کہ اگر وہ ہندوستان میں کھیلوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو باکسنگ ایک بہترین شعبہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں ہندوستان کے لیے بڑے امکانات موجود ہیں۔
وان ڈیر ورسٹ نے ہندوستان میں نچلی سطح پر باکسنگ کے فروغ کے نظام میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے اپنے پہلے دورہ ہندوستان کو یاد کرتے ہوئے مقامی تربیتی مراکز میں نوجوان باکسروں کی محنت اور نظم و ضبط کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے جب وہ پہلی مرتبہ ہندوستان آئے تو یہاں کے باکسنگ جم دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔ نوجوان کھلاڑیوں میں جس قدر جذبہ محنت اور لگن دکھائی دیتی ہے وہ دوسرے کئی ممالک میں نظر نہیں آتی۔ سخت گرمی میں دن میں 2 مرتبہ تربیت حاصل کرنا اور مسلسل محنت کرنا ہندوستانی باکسنگ کی ایک منفرد خصوصیت ہے۔
ان کے مطابق ہندوستانی باکسنگ سے وابستہ تمام افراد اب اس کھیل کے روشن مستقبل کے امکانات کو سمجھ رہے ہیں اور باہمی تعاون سے اسے مزید بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔وان ڈیر ورسٹ نے لاس اینجلس اولمپکس میں ہندوستانی باکسروں سے بڑے میڈل کی امید بھی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کی محنت اور تربیت کا موجودہ نظام ہندوستان کو عالمی سطح پر نمایاں کامیابی دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔واضح رہے کہ بورس وان ڈیر ورسٹ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب باکسنگ فیڈریشن آف انڈیا کی قیادت اور انتظامی امور کو لے کر بحث جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستانی باکسنگ کی مسلسل ترقی کے لیے قیادت میں استحکام اور وسیع تر مالی تعاون ناگزیر ہے۔