ممبئی۔ ہندوستانی مکسڈ مارشل آرٹس کھلاڑی سوچیکا تاریال نے ایشین گیمز میں تاریخی کانسی کا تمغہ جیتنے کے بعد نوجوانوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی اور اپنے کھیل کے سفر کے بارے میں بات کی۔سوچیکا نے خواتین کے روایتی 60 کلوگرام زمرے میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے ایشین گیمز میں ہندوستان کے لیے مکسڈ مارشل آرٹس کا پہلا تمغہ جیتا۔ سیمی فائنل میں انہیں سنگاپور کی ٹیئو ہوئی ہون کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ممبئی ایئرپورٹ پہنچنے پر اے این آئی سے بات کرتے ہوئے سوچیکا نے کہا کہ یہ سفر شاندار رہا۔ ان کا مقصد اپنے ملک کے لیے تمغہ جیتنا تھا اور وہ اس میں کامیاب رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ پر لوگوں کو اپنے استقبال کے لیے دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہوئی اور مجموعی طور پر سب کچھ بہت اچھا رہا۔نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے سوچیکا نے انہیں کھیلوں کو اپنانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو کسی نہ کسی کھیل میں حصہ لینا چاہیے۔ وہ بھی ملک کے لیے تمغہ جیت کر ہندوستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
اپنے سفر کے بارے میں سوچیکا نے بتایا کہ مالی مشکلات کے باوجود انہیں اپنے خاندان اور بعد میں اپنے شوہر کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ وہ پڑھائی میں زیادہ اچھی نہیں تھیں جس کی وجہ سے ان کے خاندان کو لگا کہ وہ کھیلوں میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔سوچیکا نے کہا کہ ان کے خاندان نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔ ان کی کھیلوں میں دلچسپی بڑھتی گئی۔ مالی مشکلات بھی آئیں لیکن نہ ان کے خاندان نے اور نہ ہی ان کے شوہر نے انہیں کبھی ان مشکلات کا بوجھ محسوس ہونے دیا۔ سب نے ان پر یقین کیا اور انہیں اعتماد تھا کہ وہ کچھ حاصل کریں گی۔ سوچیکا نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے اس اعتماد پر پورا اتری ہیں اور ان کے لیے یہی سب سے زیادہ اہم ہے۔
سوچیکا کا کانسی کا تمغہ ہندوستانی مکسڈ مارشل آرٹس کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ ایشین گیمز 2026 میں مکسڈ مارشل آرٹس پہلی بار ایشین گیمز کا حصہ بنا ہے۔