غیر معمولی حالات کے باعث سعودی عرب میں ایشین کپ فٹ بال ملتوی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-11-2026
غیر معمولی حالات کے باعث سعودی عرب میں ایشین کپ فٹ بال ملتوی
غیر معمولی حالات کے باعث سعودی عرب میں ایشین کپ فٹ بال ملتوی

 



ایشین فٹ بال کنفیڈریشن نے خطے کی کشیدہ صورت حال، سفری مشکلات اور انتظامی رکاوٹوں کے پیش نظر 2027 کے ایشین کپ کی تاریخوں میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ ٹورنامنٹ اب جنوری کے بجائے 23 دسمبر 2027 سے 21 جنوری 2028 تک منعقد ہوگا۔ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے منگل کو اعلان کیا کہ سعودی عرب میں ہونے والا 2027 ایشین کپ فٹ بال ٹورنامنٹ خطے میں پیدا ہونے والے ’غیر معمولی حالات‘ کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ مقابلے 7 جنوری سے 5 فروری 2027 تک منعقد ہونے تھے۔

حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد ملک میں کھیلوں کے کئی بڑے مقابلے منسوخ یا ملتوی کیے جا چکے ہیں۔ اسی پس منظر میں ایشین کپ کے انعقاد اور اس کے مقررہ شیڈول پر بھی سوالات اٹھنے لگے تھے۔اے ایف سی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایشین کپ کی آرگنائزنگ کمیٹی نے خطے کی صورت حال میں ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر معمولی مشکلات کا جائزہ لینے کے بعد ٹورنامنٹ کی تاریخیں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان مشکلات میں سفری دشواریاں اور انتظامی و نقل و حمل سے متعلق مسائل بھی شامل ہیں۔

کنفیڈریشن کے مطابق مقابلوں کی نئی تاریخوں کو حتمی منظوری کے لیے عالمی فٹ بال تنظیم فیفا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔نئے شیڈول کے مطابق ایشین کپ 23 دسمبر 2027 سے شروع ہو کر 21 جنوری 2028 تک جاری رہے گا۔ ٹورنامنٹ کے تمام مقابلے سعودی عرب کے تین شہروں ریاض، جدہ اور الخبر میں کھیلے جانے ہیں۔ یہ ایک ماہ تک جاری رہنے والا ایشیا کا اہم ترین فٹ بال مقابلہ ہے جس میں براعظم کی قومی ٹیمیں شرکت کریں گی۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ ٹورنامنٹ کے مستقبل کے حوالے سے خدشات سامنے آنے کے باوجود سعودی عرب کے مقامی منتظمین نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مقابلے طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد ہوں گے۔ تاہم خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر اب شیڈول میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اے ایف سی نے بتایا کہ ٹورنامنٹ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ سعودی حکام اور کنفیڈریشن کے درمیان تفصیلی مذاکرات اور مسلسل مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ موجودہ غیر معمولی حالات میں اصل شیڈول کے مطابق مقابلوں کا انعقاد مشکل ہو گیا تھا۔ ایسے میں شریک ٹیموں، کھلاڑیوں، عہدیداروں، تماشائیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخوں میں تبدیلی ناگزیر تھی۔