ہند۔پاکستان مقابلہ ہمیشہ سنسنی خیز ہوتا ہے: سہیل تنویر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 07-10-2026
ہند۔پاکستان مقابلہ ہمیشہ سنسنی خیز ہوتا ہے: سہیل تنویر
ہند۔پاکستان مقابلہ ہمیشہ سنسنی خیز ہوتا ہے: سہیل تنویر

 



دبئی: پاکستان کے سابق فاسٹ بولر سہیل تنویر کا کہنا ہے کہ 2027 کے آئی سی سی مردوں کے ایک روزہ عالمی کپ میں ہونے والا ہند۔پاکستان مقابلہ ایک بار پھر دنیا بھر کے کرکٹ شائقین میں زبردست جوش و خروش پیدا کرے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ہائی وولٹیج مقابلے کا سب سے اہم پہلو معیاری کرکٹ ہونا چاہیے۔

آئندہ عالمی کپ میں ہند اور پاکستان کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے جس کے باعث کرکٹ کی سب سے بڑی حریف ٹیموں کے درمیان ایک اور انتہائی متوقع مقابلے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث اب دوطرفہ کرکٹ نہیں ہوتی اور ان کی ٹیمیں زیادہ تر آئی سی سی مقابلوں اور ایشیا کپ میں ہی ایک دوسرے کے مدمقابل آتی ہیں۔

سہیل تنویر نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہند۔پاکستان مقابلہ ہمیشہ ہی سنسنی خیز ہوتا ہے۔ پوری دنیا ان مقابلوں کا بے صبری سے انتظار کرتی ہے۔ بدقسمتی سے اب دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ سیریز نہیں ہوتیں۔ اس لیے انہیں آئی سی سی مقابلوں یا ایشیا کپ میں ہی ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

آئی سی سی مردوں کے کرکٹ عالمی کپ اور ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں ہند کا پاکستان کے خلاف باہمی مقابلوں میں ریکارڈ انتہائی مضبوط ہے جہاں ہند نے 16 مقابلوں میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پاکستان صرف ایک مرتبہ فتح حاصل کرسکا ہے۔ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان تازہ ترین مقابلے میں بھی ہند نے کامیابی حاصل کی تھی۔ 2026 کے ایشیائی کھیلوں کے جاپان میں ہونے والے فائنل میں ہند نے پاکستان کو 19 رنز سے شکست دے کر اپنے طلائی تمغے کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔

سہیل تنویر نے کہا کہ وہ بھی ہر کرکٹ شائق کی طرح اس مقابلے کا بے صبری سے انتظار کررہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ مقابلہ دلچسپ اور سخت مقابلے والا ہونا چاہیے۔ ایک کرکٹ شائق کی حیثیت سے ان کے لیے سب سے اہم چیز معیاری کرکٹ ہے۔ آخر میں جو بھی ٹیم کامیاب ہو جائے انہیں اس سے فرق نہیں پڑتا بشرطیکہ مقابلہ شاندار ہو۔

اپنے کرکٹ کیریئر کے دوران ہند۔پاکستان کے کئی مقابلوں میں حصہ لینے والے سہیل تنویر نے ان میچوں سے وابستہ دباؤ پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں جانب کے شائقین کی توقعات اکثر دیگر تمام چیزوں پر حاوی ہوجاتی ہیں۔سابق پاکستانی کرکٹر نے کہا کہ دونوں جانب عوام کی بے پناہ توقعات کا دباؤ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ دباؤ دونوں ٹیموں پر یکساں ہوتا ہے۔ ان کے دور کی بات کی جائے تو اس وقت دونوں ٹیموں کے درمیان ہونے والے مقابلے انتہائی سخت اور کانٹے کے ہوتے تھے اور ہر لمحہ سنسنی برقرار رہتی تھی۔

تاہم سہیل تنویر نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر ہند کے خلاف کھیلتے ہوئے اس شدت اور دباؤ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں کھیلنا انہیں پسند تھا اور وہ چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہند میں خاصی کرکٹ کھیلی ہے۔ وہ آئی پی ایل میں حصہ لے چکے ہیں۔ دو مرتبہ دوطرفہ دوروں کے لیے ہند آچکے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنا ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز بھی ہند ہی میں کیا تھا۔سہیل تنویر نے کہا کہ انہیں یہ سب بہت پسند تھا کیونکہ انہیں چیلنج کا سامنا کرنا اچھا لگتا ہے۔ ایڈن گارڈنز میں موجود پورا مجمع ان کے خلاف نعرے لگا رہا ہو اور مخالف ٹیم کی حمایت کررہا ہو تب بھی انہیں اس سخت ماحول میں کھیلنا بہت پسند تھا۔

ہند۔پاکستان مقابلوں سے وابستہ دباؤ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سہیل تنویر نے کہا کہ ایسے حالات میں ہر کھلاڑی کا ردعمل مختلف ہوتا ہے۔ تاہم دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں پر سب سے بڑا دباؤ کروڑوں شائقین کی اپنی ٹیم کو کامیاب دیکھنے کی مسلسل توقعات کا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دباؤ سے نمٹنے کا طریقہ ہر فرد کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ٹیموں پر سب سے بھاری دباؤ شائقین کی جانب سے اپنی ٹیم کو جیتتے دیکھنے کی مسلسل توقع کا ہوتا ہے۔

ہند اور پاکستان کے درمیان انتہائی متوقع گروپ مرحلے کا مقابلہ 10 اکتوبر کو جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔ دونوں ٹیموں کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے جہاں آسٹریلیا۔ افغانستان۔ زمبابوے اور کوالیفائر اے بھی شامل ہیں۔2027 کا آئی سی سی مردوں کا ایک روزہ عالمی کپ جنوبی افریقہ۔ نمیبیا اور زمبابوے مشترکہ طور پر منعقد کریں گے۔