سڈنی: آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ کو خط لکھ کر پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور سابق کرکٹ کپتان عمران خان کی حراست پر انسانی ہمدردی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کرک انفو کے مطابق خط میں آسٹریلیا کی حکومت سے عمران خان کی حالت اور حراست سے متعلق خدشات اٹھانے کی اپیل کی گئی ہے۔خط پر ایلن بارڈر گریگ چیپل ایان چیپل بیلنڈا کلارک کم ہیوز مارک ٹیلر اور اسٹیو وا نے دستخط کیے ہیں۔ سابق کپتانوں نے واضح کیا کہ وہ یہ خط سفارت کاروں یا سیاسی شخصیات کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایسے سابق کپتانوں کی حیثیت سے لکھ رہے ہیں جو اس معاملے پر آواز اٹھانے کے لیے خود کو مجبور محسوس کرتے ہیں۔
خط میں سابق کپتانوں نے واضح کیا کہ وہ عمران خان کے خلاف قانونی یا سیاسی مقدمے کے حق یا مخالفت میں کوئی موقف اختیار نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ مکمل طور پر پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔ ان کی تشویش صرف زیر حراست کسی بھی شخص کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق ہے جسے انہوں نے سیاست سے قطع نظر بنیادی انسانی ہمدردی کا معاملہ قرار دیا۔یہ عمران خان کی حمایت میں عالمی سطح پر معروف سابق کرکٹ کھلاڑیوں کی جانب سے سامنے آنے والی تازہ ترین اپیل ہے۔
اس سے قبل 23 اگست کو دنیا کے 22 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کے طبی علاج میں بہتری کا مطالبہ کیا تھا۔ خط میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق نہیں ہیں۔سابق کپتانوں نے خط میں تین مطالبات پیش کیے تھے۔ پہلا یہ کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیے گئے طبی بورڈ کو عمران خان کے اپنے ڈاکٹروں کی شمولیت کے ساتھ ان کی صحت کا مکمل اور آزادانہ جائزہ لینے کی اجازت دی جائے۔ خاص طور پر ان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی اطلاعات کا جائزہ لیا جائے۔
دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ عدالت کی جانب سے بحال کیے گئے ہفتہ وار خاندانی ملاقاتوں کے حق کو بغیر کسی رکاوٹ یا انتظامی تاخیر کے برقرار رکھا جائے۔ تیسرے مطالبے میں کہا گیا تھا کہ طبی جائزے کے نتیجے میں جو بھی علاج تجویز کیا جائے اسے بلا تاخیر فراہم کیا جائے۔یہ خط فروری میں بھیجے گئے ایک خط کے بعد سامنے آیا ہے جس پر 14 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد پاکستان کے سابق عظیم کرکٹرز جاوید میانداد وسیم اکرم اور معین خان بھی عمران خان کے معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ آسٹریلیا کے موجودہ کپتان پیٹ کمنز نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔