منصور الدین فریدی : نئی دہلی
طوائفیں جاسوس تھیں،کوٹھے خفیہ ملاقاتوں کے اڈے بلکہ پناہ گاہ بھی تھے،طوائفیں انقلابیوں کی مخبر تھیں،جو تحریکوں میں بھی شامل رہیں ۔ نہ صرف انقلابیوں کی حوصلہ افزائی کی بلکہ وردی پہن کر انگریزوں سے لڑیں ، یہی نہیں انقلابیوں کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو کوٹھوں کی کمائی جنگ آزادی کا ایندھن بھی بنی ۔ جس کا نتیجہ یہ رہا کہ کوٹھوں پر چھاپے پڑے ،طوائفوں پر جرمانہ عائد ہوا بلکہ جائدادیں ضبط ہوئیں۔ان کے کردار کو داغدار کیا گیا ۔انہیں جسم فروش بنا کر پیش کیا گیا ،جس نے طوائفوں اور کوٹھوں کی تہذیب کو مسخ کردیاگیا ۔۔۔۔ جی ہاں ! یہ ہندوستان کی جنگ آزادی کا ایک ایسا باب ہے جو توجہ کا مرکز نہ بن سکا ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جنگ آزادی میں طوائفوں کے کردار کو نہ بھلایا جاسکتا ہے نہ دفن کیا جاسکتا ہے ۔
دراصل جب بات ہوتی ہے جنگ آزادی کی ،آزادی کی جدوجہد میں قربانیوں کی ، تو عام طور پر ہم سب کے ذہن میں جو چہرے ابھرتے ہیں ،وہ بڑے مشہور سیاستدانوں یا انقلابیوں کے ہی ہوتے ہیں ۔ یہاں تک کہ مردوں کے غلبہ والے معاشرے کے سبب ان چہروں میں خواتین کی تعداد بھی کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم جنگ آزادی میں طوائفوں کے کردار کی بات کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا طبقہ ہے جسے تاریخ کے صفحات میں دفن کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ طوائفیں بھی سپاہیوں اور نوابوں اورعام لوگوں کی طرح آزادی کی جدوجہد کا حصہ تھیں۔ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ اور وسائل کو مختلف مواقع پر آزادی کی تحریک کے لیے استعمال کیا۔ مگر ان کی کہانیاں تاریخ کے صفحات میں بہت کم جگہ حاصل کرسکیں۔اہم بات یہ ہے کہ طوائفوں کا انقلابی کردار 1857 کی بغاوت سے پہلے سے شروع ہوا تھا اور آزادی تک جاری رہا'فوٹو ۔اے آئی


آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں ایسے کچھ ناموں پر جنہوں نے کوٹھوں سے انگریزوں کے تخت کو ہلا دیا ،انقلابیوں کو حوصلہ دیا اور سہارا دیا ۔
عزیزن بائی
اگر بات 1857 کی بغاوت سے شروع کرتے ہیں تو کئی ایسی خواتین نے اس میں اہم کردار ادا کیا جن کے ذکرتاریخ کے میں نسبتاً کم ملتا ہے۔ ایسا ہی ایک نام ہے عزیزن بائی کا ۔کانپور کے محاصرے کے دوران عزیزن بائی کا کردار اسی فراموش شدہ ہسٹری کی ایک اہم مثال ہے۔ اپنے زمانے کی نمایاں طوائفوں میں شمار ہونے والی عزیزن بائی نے سماجی اور سیاسی حلقوں میں خاصا اثر و رسوخ حاصل کر رکھا تھا۔ عزیزن بائی کا تعلق لکھنؤ سے بتایا جاتا ہے جہاں انہوں نے ایک طوائف کے گھر میں پرورش پائی۔ بعد میں وہ کانپور منتقل ہوگئیں۔ وہاں ان کے تعلقات ہندوستانی سپاہیوں سے قائم ہوئے۔ خاص طور پر دوسری کیولری سے وابستہ شمش الدین خان کے ساتھ ان کی قربت کا ذکر مختلف تاریخی روایات میں ملتا ہے۔ ان کا کوٹھا رفتہ رفتہ ان سپاہیوں اور بغاوت کے منصوبہ سازوں کی ملاقات کا ایک اہم مرکز بن گیا۔سر چارلس ایڈورڈ ٹریولیان کی تحریروں میں بھی عزیزن بائی کے بارے میں اہم تفصیلات ملتی ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق عزیزن بائی گھوڑے پر سوار ہوکر اپنے مداحوں اور ساتھیوں کے درمیان نظر آتی تھیں۔ وہ اپنی پسندیدہ فوجی دستے کی وردی پہنتی تھیں۔ ان کے پاس پستول ہوتے تھے اور سینے پر تمغے سجے رہتے تھے۔ اس انداز میں ان کا عوام کے سامنے آنا اس دور کی روایتی سماجی توقعات سے بالکل مختلف تھا۔
یاد رہے کہ 1857 کی بغاوت کے دوران کانپور میں برطانوی فوج کا محاصرہ ہوا تو عزیزن بائی ہندوستانی سپاہیوں کے ساتھ سرگرم دکھائی دیں۔بعض تاریخی حوالوں کے مطابق عزیزن بائی نے خواتین کا ایک گروہ بھی تشکیل دیا تھا۔ یہ خواتین محاذ پر موجود سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ زخمیوں کی دیکھ بھال کرتیں۔ انہیں دوائیں پہنچاتیں اور ضرورت کے وقت اسلحہ و گولہ بارود بھی فراہم کرتی تھیں۔ اس طرح خواتین کا یہ گروہ بغاوت کے دوران ایک معاون نیٹ ورک کے طور پر کام کرتا تھا۔
حسنا بائی
بنارس کی حسنا بائی بھی آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرنے والی فنکار خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔ انہیں بنارس کی ’چودھرائن‘ کہا جاتا تھا۔ وہ مہاتما گاندھی کے خیالات سے بہت متاثر تھیں۔ گاندھی جی کے ایک جلسے میں شرکت کے بعد انہوں نے ان کے پیغام پر لبیک کہا اور غیر ملکی سامان کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کھادی پہننا شروع کردی۔بعد میں حسنا بائی نے کاشی طوائف سبھا قائم کی۔ انہوں نے اپنی فنکارانہ حیثیت اور موسیقی کو قومی تحریک کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ وہ حب الوطنی کے گیت گاتی تھیں اور دیگر فنکاروں کو بھی آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی تھیں۔حسنا بائی کو 1900ء کی دہائی کے آغاز میں موسیقی کی روایت میں نئی روح پھونکنے اور فن کو قومی بیداری کا ذریعہ بنانے کے لیے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ آزادی کی تحریک میں فنکار خواتین نے بھی اپنی آواز اور اثر و رسوخ کو قومی مقصد کے لیے استعمال کیا۔
ودیادھر بائی
اسی طرح ودیادھر بائی نے بھی قومی تحریک میں حصہ لیا ۔ وہ بنارس انگ کی ٹھمری اور دادرا کی ماہر تصور کی جاتی تھیں ۔ جب مہاتما گاندھی نے بنارس کا دورہ کیا، توانہوں نے فنکاروں سے تحریکِ آزادی کی حمایت کی اپیل کی۔ ساتھ ہی تحریکِ آزادی کے لیے فنڈز جمع کرنے کی درخواست کی۔ اس کے جواب میں ودیادھر بائی نے بنارس کی دیگر طوائفوں کے ساتھ مل کر "اکھل بھارتیہ طوائف سنگھ" کی بنیاد رکھی اور تحریک کے لیے بڑا فنڈ اکٹھا کیا۔گاندھی جی کی ترغیب پر انہوں نے انگریز راج کے خلاف احتجاجی اور حب الوطنی پر مبنی گیت گانا شروع کیے۔ ان کا لکھا اور گایا ہوا ایک مشہور گیت یہ تھا:"چُن چُن کے پھول لے لو ارمان رہ نہ جائےیہ ہند کا باغیچہ گلزار رہ نہ جائے"


دھرمن بی بی
دھرمن بی بی کا ذکر اس تاریخ کا ایک اور دردناک باب ہے۔ وہ کنور سنگھ سے وابستہ تھیں اور 1857 کی بغاوت کے دوران ان کی مدد کرتی رہیں۔ روایت کے مطابق انہوں نے اپنے نومولود جڑواں بچوں کو چھوڑ کر اپنے شوہر اور آزادی کی جدوجہد کے ساتھ وفاداری کو ترجیح دی۔ کنور سنگھ کا نام آج بھی 1857 کی بغاوت کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتا ہے لیکن دھرمن بی بی کی قربانی کا ذکر بہت کم ملتا ہے۔حاملہ خاتون نے انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے ایک مندر میں پناہ لینے پر مجبور ہوئیں۔ برطانوی فوج ان کا تعاقب کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئی۔ اسی دوران انہیں زچگی کی تکلیف شروع ہوگئی۔بابو کنور سنگھ برطانوی فوجیوں کو روکنے کے لیے مقابلے پر چلے گئے۔ وہ آخری دم تک لڑتے رہے۔ دوسری طرف دھرمّن بی بی نے اپنے نومولود جڑواں بچوں کو اپنے ساتھ باندھا اور دہلی کی طرف روانہ ہوگئیں۔یہ داستان صرف ایک خاتون کی بہادری کی کہانی نہیں بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں ایسے کردار بھی موجود تھے جنہیں تاریخ کے مرکزی بیانیے نے تقریباً فراموش کردیا۔
گوہر جان
گوہر جان معروف ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ اور رقاصہ تھیں۔ وہ گراموفون کمپنی آف انڈیا کے 78 آر پی ایم ریکارڈ پر کے لیے گانا ریکارڈ کروانے والی پہلی ہندوستانی گلوکارہ ہیں۔ انھوں نے 'کلکتہ کی پہلی رقاصہ' کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔آزادی کی تحریک کے زمانے میں ان کا تعلق قومی سرگرمیوں سے بھی جوڑا جاتا ہے اور مہاتما گاندھی کی کتاب میں بھی ان کا ذکر ملتا ہے۔وہ اعظم گڑھ میں ایک آرمینیائی یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ یووارڈ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہیمنگز تھا۔والدین میں طلاق کے بعد، ان کی والدہ نے بنارس کا رخ کیا، اسلام قبول کیا اور اپنا نام 'ملکہ جان' جبکہ بیٹی کا نام 'گوہر جان' رکھا۔ انہوں نے گاندھی جی کو ایک تحریک کے لیے مالی مدد کی تھی
بیگم حضرت محل
دراصل 1857 کی بغاوت میں بیگم حضرت محل کا کردار بھی غیر معمولی تھا۔ ان کا اصل نام محمدی خانم (یا محمدی بیگم) تھا، وہ اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کی اہلیہ تھیں۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق وہ شادی سے قبل طوائفوں کے طبقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ واجد علی شاہ کی جلاوطنی کے بعد بیگم حضرت محل نے اودھ میں برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی قیادت سنبھالی۔بیگم حضرت محل نے صرف سیاسی قیادت ہی نہیں کی بلکہ برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید بھی کی۔ جب برطانوی حکومت نے اودھ کے الحاق اور اپنے وعدوں سے انحراف کیا تو انہوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کی قیادت میں لکھنؤ میں برطانوی اقتدار کو ایک عرصے کے لیے شدید چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔جب انگریزوں نے دوبارہ لکھنؤ پر قبضہ کر لیا، تو انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مزاحمت جاری رکھی۔نیپال میں پناہ: وہ انگریزوں کے ہاتھ آنے کے بجائے اپنے بیٹے اور وفاداروں کے ساتھ نیپال چلی گئیں، جہاں انہوں نے لاوطنی کی زندگی گزاری۔ 7 اپریل 1879ء کو نیپال کے دارالحکومت کاٹھمنڈو میں ان کا انتقال ہوا


طوائفوں نے کیا قیمت چکائی
طوائفوں کی یہ جدوجہد اس بات کی علامت ہے کہ طوائفوں کا تعلق صرف موسیقی اور رقص کی محفلوں تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ اپنے دور کے سیاسی اور سماجی معاملات میں بھی رائے اور وسائل کے ساتھ موجود تھیں۔مگر اس جنگ میں کامیابی کے بعد کسی کو کرسی ملی تو کسی کو خطاب مگر طوائفوں کے ہاتھ کیا آیا؟ یہ ایک اور المیہ ہے ۔ طوائفوں کی انقلابیوں کے ساتھ جنگ آزادی میں حصہ داری نے انگریزوں کو زخمی شیر بنادیا تھا ،برطانوی سامراج نے اپنے اندازمیں انتقام لینا شروع کیا ۔ان کی جائیدادیں ضبط کیں۔ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا اور ان پر بھاری جرمانے عائد کیے۔برطانوی حکومت نے شادی اور گود لینے سمیت مختلف معاملات سے متعلق سخت اور امتیازی قوانین نافذ کیے۔ ان قوانین نے طوائفوں کو رفتہ رفتہ بے اختیار کر دیا۔
برطانوی دور میں بحری جہازوں کے ذریعے برطانوی افسران اپنے اہل خانہ کو بھی اپنے تعیناتی کے مقامات پر لانے لگے۔ اس کے نتیجے میں یورپی اخلاقی تصورات کا اثر بڑھا اور طوائفوں کو محض ایسی جسم فروش خواتین کے طور پر پیش کیا جانے لگا جو گاتی اور ناچتی بھی تھیں۔ جیسے جیسے طوائف اور جسم فروش خواتین کے درمیان امتیاز ختم ہوتا گیا ویسے ویسے متعدد ’انسدادِ رقص‘ تحریکیں سامنے آئیں۔ برہمو سماج اور آریہ سماج نے ان تحریکوں کی قیادت کی جبکہ بعض انقلابی بھی ان میں شامل ہوئے۔ ان تحریکوں کا مطالبہ تھا کہ کوٹھوں کو بند کر دیا جائے۔ اس کارروائی کے بعد نوابوں نے بھی کوٹھوں کا بائیکاٹ شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں طوائفیں اپنی دولت اور سماجی حیثیت سے محروم ہوتی چلی گئیں۔

حد تو یہ ہوئی جب مہاتما گاندھی نے بھی اس پیشے کو ’سماجی بیماری‘ اور ’اخلاقی جذام‘ قرار دیا اور اس کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔آزادی کی جنگ میں اس طرح طوائفوں کی قربانیوں کا صلہ ملا،جائداد اور دولت تو گئی ساتھ ہی پیشے پر جسم فروشی کی مہر لگا دی گئی ۔جس کے بعد ہسٹری میں بھی ان کی قربانیوں کو بھلا دیا گیا ۔یہ ایک ٹریجڈی ہے ۔نہ صرف طوائفوں کی بلکہ ہسٹری کی بھی ۔