زیبا نسیم : ممبئی
روشنی کہیں یا نور ۔۔۔ ہرمذہب میں اس کی خاص اہمیت ہے ، اس کا تعلق روحانیت سے ہوتا ہے ، ایک بڑا پیغام ہوتا ہے ۔ کسی کے لیے اشارہ ہوتا ہے اور کسی کے لیے ہدایت ۔ آپ جانتے ہیں کہ آج دنیا میں تقریباً 4300 مذاہب رائج ہیں؟ دنیا کے بیشتر مذاہب میں روشنی اور چراغ یا موم بتیاں روشن کرنے کو خاص معنویت حاصل ہے۔ صدیوں سے مختلف مذہبی روایات میں روشنی کو کسی عقیدے کی علامت، روحانی رہنمائی کے وسیلے اور مذہبی تاریخ کی یاد تازہ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کہیں روشنی کو خدا کی محبت اور ہدایت کی علامت سمجھا جاتا ہے تو کہیں اسے علم، احترام، پاکیزگی اور روحانی بیداری کا استعارہ قرار دیا جاتا ہے۔

ہندو مذہب
عوامی روایات کے مطابق دیوالی کا تعلق ہندو مذہب کی دو اہم رزمیہ داستانوں رامائن اور مہابھارت سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ شمالی ہندوستان میں مشہور روایت ہے کہ بھگوان رام اپنی اہلیہ سیتا اور بھائی لکشمن کے ساتھ 14 سالہ جلاوطنی مکمل کرنے اور راون کو شکست دینے کے بعد ایودھیا واپس لوٹے تھے۔ ان کی واپسی کی خوشی میں لوگوں نے چراغاں کیا اور جشن منایا۔ اسی مناسبت سے دیوالی منانے کی روایت مقبول ہوئی۔ مہابھارت سے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ پانڈو بھائیوں نے اسی دن اپنی 13 سالہ جلاوطنی ختم کی تھی۔
جنوبی ہندوستان میں دیوالی کا تعلق بھگوان کرشن اور ان کی اہلیہ ستیہ بھاما کے ہاتھوں عفریت نرکاسر کے خاتمے سے جوڑا جاتا ہے۔ اس واقعے کی یاد میں دیوالی سے ایک دن پہلے نرک چتردشی منائی جاتی ہے۔ وشنو پران اور ہری ونش میں بھی نرک چتردشی کا ذکر ملتا ہے۔دیوالی کے چوتھے دن کو بلی پرتپدا کہا جاتا ہے۔ یہ دن بھگوان وشنو کے وامن اوتار کے ہاتھوں راجا بلی کو زیر زمین بھیجنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ کیرالہ میں اسے بلی راجیہ کے نام سے بھی منایا جاتا ہے۔ اس سے متعلق ایک روایت کے مطابق اسی دن وشنو کی اہلیہ لکشمی نے راجا بلی کو ایک دن کے لیے آزاد کردیا تھا تاکہ وہ زمین پر واپس آکر اپنی رعایا سے مل سکیں۔ اس موقع پر ان کی رعایا نے خوشی کا اظہار کیا اور جشن منایا۔
ایک دوسری روایت یہ بھی ہے کہ راجا بلی نے اسی دن تخت و تاج سنبھالا تھا۔پدم پران کے مطابق دیوالی کے پہلے دن یعنی دھن تیرس کو دیوی لکشمی کی پیدائش سے منسوب کیا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ سمندر منتھن یعنی سمندر کو متھنے کے دوران لکشمی کا ظہور ہوا تھا۔ دیوالی کے تیسرے دن کو لکشمی پوجا کا دن قرار دیا جاتا ہے۔ عقیدے کے مطابق اسی دن لکشمی نے بھگوان وشنو سے شادی کی تھی۔

عیسائیت: حضرت عیسیٰؑ روشنی کی علامت
عیسائیت میں روشنی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اسے حضرت عیسیٰ مسیحؑ کی ذات کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے خود کو ’’دنیا کی روشنی‘‘ قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ روشنی کو خدا کی محبت اور اس کے کلام کی روحانی رہنمائی کے استعارے کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔عیسائی مذہبی رسومات میں موم بتیوں کا استعمال عام ہے تاہم مختلف فرقوں میں ان کے استعمال کے طریقے مختلف ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسٹر کے موقع پر اور بپتسمہ کی مذہبی رسم کے دوران خصوصی شمع روشن کی جاتی ہے جسے پاسکل کینڈل کہا جاتا ہے۔
یہ شمع انسان کی زندگی میں خدا کی روشنی کو قبول کرنے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔گرجا گھروں اور عبادت گاہوں کی قربان گاہوں کو بھی موم بتیوں سے سجایا جاتا ہے۔ یہ شمعیں نہ صرف تقدس کی علامت ہیں بلکہ ابتدائی صدیوں کے ان عیسائیوں کی یاد بھی دلاتی ہیں جنہیں مذہبی ظلم و ستم کا سامنا تھا اور وہ خفیہ مقامات پر عبادت اور مذہبی اجتماعات منعقد کرتے تھے۔عیسائی مذہبی روایات میں موم بتیوں کا استعمال راکھ اور کھجور کی شاخوں کو برکت دینے، نئے گرجا گھروں اور قبرستانوں کی تقدیس، نئے مقرر ہونے والے پادریوں کی پہلی مذہبی عبادت اور توبہ کے سوا دیگر تمام مذہبی شعائر میں بھی کیا جاتا ہے۔


یہودیت: روشنی حقیقت اور روحانیت کا استعارہ
یہودی مذہب میں روشنی کو حقیقت اور کائنات کے تصور سے وابستہ ایک بنیادی استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہودی صحیفے تنخ میں جسمانی روشنی کی تخلیق سے پہلے خدا کی جانب سے معنوی اور روحانی روشنی کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے یہودیت میں روشنی کو غیر معمولی روحانی اہمیت حاصل ہے یہودیوں کے ہفتہ وار مقدس دن شبّات کے موقع پر موم بتیاں روشن کرنے کی خصوصی روایت ہے۔ ہر جمعہ کو غروب آفتاب سے کچھ پہلے یہودی گھرانوں میں شبّات کی شمعیں روشن کی جاتی ہیں اور ان پر دعائیں پڑھی جاتی ہیں۔
یہ شمعیں اس مقدس دن کے تقدس کی علامت ہونے کے ساتھ گھروں میں سکون، خاموشی اور غور و فکر کا ماحول پیدا کرتی ہیں۔اسی طرح ہفتہ کی رات اندھیرا چھانے کے بعد حوَدلّہ کی مخصوص بٹی ہوئی موم بتی روشن کی جاتی ہے۔ اس رسم کے ذریعے شبّات کے اختتام کا اعلان کیا جاتا ہے اور دعا کی جاتی ہے کہ ہفتہ بھر اس مقدس دن کی روحانیت اور برکتیں برقرار رہیں۔یہودی مذہب میں حنوکا کے تہوار کے موقع پر بھی روشنیوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
یہ تہوار دوسری صدی قبل مسیح میں مکابی خاندان کے ہاتھوں یروشلم کے ہیکل کی دوبارہ تقدیس اور تیل کے اس معجزے کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کے بارے میں روایت ہے کہ ایک دن کے لیے دستیاب تیل آٹھ دن تک جلتا رہا تھا۔اس معجزے کی یاد میں مینورہ یا حنوکیہ نامی مخصوص شمعدان روشن کیا جاتا ہے اور اسے گھروں کی کھڑکیوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ تہوار کی روشنی اور خوشی دوسروں تک بھی پہنچ سکے۔
