ضرورت سے زیادہ مسجدوں کی تعمیر-" تَفْرِيْقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ " کی علامت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 16-08-2026
ضرورت سے زیادہ مسجدوں کی تعمیر-
ضرورت سے زیادہ مسجدوں کی تعمیر-" تَفْرِيْقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ " کی علامت

 



غلام نبی کشافی

آنچار صورہ سرینگر

     میں نے ایک واعظ کی  ویڈیو دیکھی ،جو ایک مسجد کی تعمیر کے حوالے سے لوگوں سے چندہ دینے کے بارے میں تھی،جس میں چندہ دینےکی ترغیب دیتے اور ثواب بانٹنے کے بارے میں بعض احادیث کا بھی سہارا لیاگیا تھا ، مگریہ منافقت ہوتی کہ ان احادیث کو نظر انداز کیاجائے، جن میں ضرورت سے مساجد بنانے کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی اور ان کو قیامت کی نشانی قرار دے دیا گیا ہے ۔لیکن بعد میں پتہ چلا اس محلہ اور بستی میں پہلے سے اغل بغل میں موجود کئی مسجدیں موجود ہیں ، جو پہلے سے بنی ہوئی ہیں ، جن میں مسلمان بلا تفریق نماز پڑھتے ہیں ، لیکن اب مسلک کی بنیاد پر الگ سے ایک اور نئی مسجد کی تعمیر ہو رہی ہے۔ اور اس طرح جو صدقات و خیرات غریبوں کا حق تھا ، وہ تعمیرات میں لگا دیا جاتا ہے ۔ چنانچہ اس سنگین مسئلہ ، جو افتراق امت کو بڑھاوا دے رہا ہے ، پر کافی غور و فکر کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ میں اپنی طرف سے ایک دینی ذمہ داری کے طور پر اس موضوع پر ایک مدلل مضمون قلمبند کردوں ۔ اور اب اللہ کی توفیق سے وہ مضمون تیار بھی ہوگیا ہے اور اس وقت وہ آپ کے سامنے ہے ۔

لیکن اس طرح کے مضامین آپ اس صورت میں لکھ سکتے ہیں اور نہ برداشت کرسکتے ہیں کہ جب آپ نے اپنے دین و ایمان کو کسی جماعت ، کسی تنظیم یا کسی فرقہ کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہو ۔ جبکہ حقائق کو جاننے اور سمجھنے کے لئے ان تمام قیود و بندشوں سے آزاد ہوکر غور و فکر کرنا ہوگا ۔ تب آپ حق کی تلاش میں منزل مقصود کو پہنچ سکتے ہیں ۔

اس لئے میری آپ سب سے گزارش ہے کہ آپ اس مضمون کو پہلے خود بھی غور سے پڑھیں اور پھر اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر بھی ضرور کریں ۔

علامہ اقبال (1877ء-1938ء) نے کیا خوب فرمایا ہے ؛

یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر

یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا

موجودہ دور میں جہاں کہیں بھی مسجد بنانی ہو ، خواہ اس کے اغل بغل میں کئی مسجدیں ہوتی ہوں ، تو اس کے باوجود جب فرقہ پرستی کی وجہ سے اپنے اپنے مسلک کی مسجدیں تعمیر کی جاتی ہیں ، تو اس کا اجر و ثواب بانٹنے کے لئے اس طرح کی احادیث کا سہارا لیکر لوگوں سے ایک طرح کا استحصال کیا جاتا ہے ۔

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ ۔

(جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ بُنْيَانِ الْمَسْجِدِ​ : رقم الحدیث318/صحیح)

سیدنا عثمان بن عفان بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : جس نے اللہ کی رضا کے لئے مسجد بنائی، تو اللہ اس کے لئے جنت میں اسی جیسا گھر بنائے گا ۔

عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ أَكْثَرْتُمْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ بَنَى مَسْجِدًا - قَالَ بُكَيْرٌ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ - بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الجَنَّةِ ۔

(صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ (بَابُ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا : رقم الحدیث 450/صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ : بَابُ فَضْلِ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا : رقم الحدیث533)

سیدنا عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی تعمیر (جدید ) کی ، تو اس وقت لوگ اس کے متعلق مختلف باتیں کرنے لگے۔ تب انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص مسجد بنائے اور اس کا مقصود محض اللہ کو راضی کرنا ہو تو اللہ اس کے لئے اس جیسا گھر میں بنا دیتا ہے۔

خاص کر ایسے موقع پر ایک حدیث کا ذکر بغیر کسی عربی متن اور صحیح حوالہ کے اگر کوئی شخص چڑھا کے گھونسلے کے برابر مسجد بنائے گا تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دے گا ۔ یہاں پر میں اس حدیث کو صحیح حوالہ کے ساتھ پیش کرتا ہوں ۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ ، أَوْ أَصْغَرَ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ .

( ابن ماجه : كتاب المساجد والجماعات : باب من بنى لله مسجدا : رقم الحديث 738/ صحيح)

سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لئے بنائی، تو اللہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔

اس حدیث میں لفظ " قطاۃ " آیا ہے، وہ ایک چڑیا ہے، جو گھروں میں اور پیڑوں پر گھونسلا بناتی ہے ، اور اس کا گھونسلا نہایت چھوٹا ہوتا ہے، اور یہ مبالغہ ہے مسجد کے چھوٹے ہونے میں، ورنہ گھونسلے کے برابر تو کوئی مسجد بنانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ، کیونکہ کم سے کم مسجد میں تین آدمیوں کے نماز پڑھنے کی جگہ ہوتی ہے، غرض یہ ہے کہ چھوٹی بڑی مسجد پر منحصر نہیں ، خالص نیت سے اگر کوئی نہایت مختصر مسجد بھی بنا دے ، تب بھی اللہ تعالی اس کو اجر دے گا، اور جنت میں اس کے لئے مکان بنایا جائے گا۔

لیکن‌ یہ تو مساجد کی تعمیر کا ایک پہلو ہے کہ جہاں مسجد نہ ہو ، وہاں پر نماز پنجگانہ کی جماعت کے لئے مسجد بنانا کتنا بڑا اجر و ثواب کا کام ہے ۔ لیکن دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی فرمائی کہ لوگ ضرورت سے زیادہ تعمیر مساجد پر فخر و مباہ کریں گے ۔ جیساکہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی ہر بستی اور ہر محلہ میں مسجدوں کا کوئی شمار نہیں ، ان کی تعمیر ، اور ان کی آرائش و زیبائش میں لوگ فخر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، چنانچہ احادیث میں مساجد کی کثرت کو علامت قیامت قرار دے گیا ہے ۔ جیساکہ اس سلسلہ میں یہ چند حدیثیں قابل غور ہیں ۔

عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ ۔

(سنن ابی داود : كِتَابُ الصَّلَاةِ : بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ : رقم الحدیث 449 /سنن ابن ماجه : كِتَابٌ الْمَسَاجِدُ وَالْجَمَاعَاتُ : بَابٌ تَشْيِيدُ الْمَسَاجِدِ : رقم الحدیث 737/ صحيح)

سیدنا انس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر و مباہات نہ کرنے لگیں گے ۔

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ ۔

سنن النسائی : كِتَابُ الْمَسَاجِدِ : باب الْمُبَاهَاةُ فِي الْمَسَاجِدِ : رقم الحدیث689 / صحيح)

سیدنا انس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ لوگ مساجد بنانے میں فخر و مباہات کریں گے ۔

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى.

(ابو داؤد : كِتَابُ الصَّلَاةِ : بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ : رقم الحديث 448/ صحیح )

سیدنا ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ مساجد کو بہت زیادہ پختہ تعمیر کروں . سیدنا ابن عباس نے کہا تم ان ( مساجد) کو ضرور مزین کرو گے جیساکہ کہ یہود اور نصاریٰ نے (اپنے عبادت خانے) مزین کئے ۔

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يوشكُ أنْ يَأْتِيَ على الناسِ زمانٌ، لا يَبْقى منَ الإسلامِ إلّا اسمُهُ، ولا يبْقى من القرآنِ إلّا رسمُهُ، مساجدُهم عامِرَةٌ؛ وهيَ خرابٌ من الهُدى، علماؤُهم شرُّ مَنْ تحتَ أديمِ السماءِ، من عندِهم تخرجُ الفتنةُ، وفيهم تعودُ ۔

( مشكاة المصابيح : كتاب العلم ، رقم الحديث 276 ، اسناده ضعيف )

سیدنا علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف کے نقوش باقی رہ جائیں گے ، ( اس وقت ) ان کی مسجدیں (بظاہر تو ) آباد ہوں گی ، مگر حقیقت میں ہدایت یافتہ لوگوں سے خالی ہوں گی ، ان کے مولوی لوگ آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدترین ہوں گے ، انہیں سے ( منبروں پر مناظرہ بازی کے ذریعہ دین میں ) فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا ۔

ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ جوں جوں قیامت کا وقت قریب آتا جائے گا تو لوگ نماز پنجگانہ کا اہتمام نہ کرنے کے مقابلے میں صرف مساجد کی تعمیر میں لگ جائیں گے ، اور نمازیوں سے خالی اور ویران ہوں گی ، اور ان کی مسجدیں اس قدر رنگ و روغن سے مزین اور ان کے ڈزائن اس قدر دلآویز ہوں گے کہ لوگ ان پر فخر و مباہات کرنے لگیں گے ۔ اور اس سے ان لوگوں کا مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی اور ان کی نیت خالصتاً اللہ کے لئے نہیں ہوگی بلکہ ان کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ بڑے فخر و مباہات کے ساتھ اپنے اس کار نامے کو دنیا کے سامنے پیش کرسکیں اور دنیا والے ان کی تعریف و بڑائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیں ، اور یہ کام صرف تنظیم کے دائرہ میں رہ کر کیا جاتا ہے ، تاکہ ہر محلہ اور ہر بستی میں گرفت مضبوط ہو ۔ باقی عبادت کا حال اس شعر سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے ۔

اب فقط عادتوں کی ورزش ہے

روح شامل نہیں عبادت میں

واضح رہے تاریخ اسلام میں ایک ناخوشگوار واقعہ مسجد ضرار کا پیش آنا تھا ، یہ واقعہ مدینہ منورہ میں پیش غزہ تبوک کے دوران 9 ہجری (630 عیسوی) میں پیش آیا تھا ، جب منافقین نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے مسجد قبا کے پہلو میں ایک اور مسجد بنائی تھی ، جس کا درپردہ مسلمانوں کے درمیان افتراق پیدا کرنا تھا ، اور مسجد محض اس مقصد کے لئے بنائی گئی تھی کہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانا تھا ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد کے بارے میں اطلاع دے دی گئی ، تو آپ نے اسے جنگ تبوک سے واپسی سے پہلے ہی گرا دینے اور جلانے کا حکم دے دیا تھا ۔

مسجد ضرار تاریخ اسلام کا ایک سبق آموز واقعہ تھا ، جس کے ذریعے منافقین اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے والوں کا چہرہ بے نقاب ہوگیا تھا ، کیونکہ منافقین کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر وہ کوشش کرتے ہیں ، جس کے ذریعہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کا شیرازہ بکھر جائے ، اور ان کا آپسی اتحاد ٹوٹ جائے ۔

اس واقعہ کی تشویشناک صورتحال اس قدر تھی کہ اللہ تعالی نے منافقین کی سازش خود ہی بے نقاب کر دی تھی ، اور اس کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے ۔

وَالَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّكُفْرًا وَّتَفْرِيْقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ مِنْ قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَـآ اِلَّا الْحُسْنٰى ۖ وَاللّـٰهُ يَشْهَدُ اِنَّـهُـمْ لَكَاذِبُوْنَ ۔ لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا ۚ لَّمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۚ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۚ وَاللّـٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ ۔ اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٝ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّـٰهِ وَرِضْوَانٍ خَيْـرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٝ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْـهَارَ بِهٖ فِىْ نَارِ جَهَنَّـمَ ۗ وَاللّـٰهُ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ ۔ لَا يَزَالُ بُنْيَانُـهُـمُ الَّـذِىْ بَنَوْا رِيْبَةً فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُـهُـمْ ۗ وَاللّـٰهُ عَلِيْـمٌ حَكِـيْـمٌ ۔

( التوبه : 107 تا 110)

ان آیات کا مولانا ابوالکلام آزاد نے اس طرح ترجمانی کی ہے ۔

" اور (منافقوں میں وہ لوگ بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے ایک مسجد بنا کر کھڑی کی کہ نقصان پہنچائیں، کفر کریں، مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور ان لوگوں کے لئے ایک کمین گاہ پیدا کر دیں ، جو اب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول سے لڑ چکے ہیں ۔ اور وہ ضرور قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہمارا مطلب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ بھلائی ہو ، لیکن اللہ کی گواہی یہ ہے کہ وہ اپنی قسموں میں جھوٹے ہیں۔ (اے پیغمبر) تم کبھی اس مسجد میں کھڑے نہ ہونا، اس بات کی کہ تم اس میں کھڑے ہو (اور بندگانِ الٰہی تمہارے پیچھے نماز پڑھیں) وہی مسجد حقدار ہے جس کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے (یعنی مسجد قبا اور مسجد نبوی)، اس میں ایسے لوگ (آتے) ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ پاک و صاف رہیں اور اللہ (بھی) پاک و صاف رہنے والوں ہی کو پسند کرتا ہے ۔ کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی (جو کبھی ہلنے والی نہیں)، یا وہ شخص جس نے ایک کھائی کے گرتے ہوئے کنارے پر اپنی بنیاد رکھی، پھر وہ مع اپنے مکین کے آتش دوزخ ( کے گڑھے ) میں جا گری ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ انہیں (کامیابی و سعادت کی) راہ نہیں دکھاتا جو ظلم کا شیوہ اختیار کرتے ہیں "

میں جب ان آیات کو پڑھ رہا تھا ، تو میں ان آیات کی تفسیر تلاش کرنے لگا ۔ خاص کر سورہ توبہ آیت نمبر 107 کے ایک فقرہ کی حقیقت جاننے کی کوشش کر رہا تھا ، آدھی شب تک درجنوں تفاسیر کو دیکھا ، لیکن اس کا جو تفسیری نوٹ مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا ہے ، وہ کسی اور مفسر نے نہیں لکھا ، اور وہ تمام تفاسیر پر بھاری نظر آرہا تھا ، اس لئے اس تفسیری نوٹ کے حوالے سے ان آیات کے بارے میں آج بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ مولانا ابوالکلام آزاد نے جو کچھ لکھا ہے ، اس کا اطلاق آج کے دور کے ان مسلمانوں پر کچھ زیادہ ہی نظر آ رہا ہے ، جو ضرورت سے زیادہ مساجد کی تعمیر کرتے ہیں ۔ جیساکہ مولانا ابوالکلام آزاد تحریر فرماتے ہیں ۔

"‌ وَّتَفْرِيْقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ " مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے- کیونکہ قبا کی تمام آبادی ایک ہی مسجد میں نماز پڑھتی تھی۔ اب بالکل اس کے پاس دوسری مسجد بنے گی تو جماعت بٹ جائے گی۔ کچھ لوگ پچھلی مسجد میں جائیں گے۔ کچھ نئی میں ۔ اور جب ایک جماعت نہ رہی تو مسلمانوں کے باہمی اجتماع و تعارف کا وہ مقصد بھی فوت ہو گیا جو قیام جماعت کے اہم ترین مقاصد میں سے ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ایک مسجد اگر موجود ہو تو بلا ضرورت دوسری مسجد اس کے قریب تعمیر کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ ایسا کرنا " تَفْرِيْقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ " ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ تمام ائمہ اسلام نے اتفاق کیا کہ ہر شہر میں جمعہ کی جماعت ایک ہی جگہ ہونی چاہئے۔ اور اگر آبادی اتنی زیادہ ہو جائے کہ ایک جگہ کافی نہ ہو تو پھر بقدر ضرورت ایک سے زیادہ مساجد میں جمعہ قائم کیا جائے۔ یہ نہیں کرنا چاہئے کہ بلا ضرورت بہت سی مسجدیں تعمیر کر دی جائیں اور ہر مسجد میں جمعہ شروع کر دیا جائے۔

افسوس ہے کہ مسلمانوں نے یہ صریح حکم قرآنی پس پشت ڈال دیا اور محض ریا کاری اور نام و نمود کے لئے یا کسی سابق مسجد اور اس کے مہتموں کو نقصان پہنچانے کے لئے بکثرت مسجدیں ہر شہر و قریہ میں تعمیر کر دیں اور روز بروز تعمیر کرتے جاتے ہیں۔ اگر ان کی تعمیر کے حالات و مقاصد کا جائزہ لیا جائے تو بڑی تعداد ٹھیک ٹھیک مسجد ضرار کی سی مسجدیں ثابت ہوں گی ، مگر کوئی نہیں جو اس فساد سے لوگوں کو رو کے ، بلکہ خود علماء و مشائخ اپنے شخصی انتفاع و ترفع کے لئے اس مفسدانہ فعل کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں اور اپنے معتقدوں کو تعمیر مسجد کے بے محل ثواب سنا سنا کر مزید ترغیبیں دیتے ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کی تفریق و انتشار کا ایک بڑا باعث مسجدوں کا وجود بھی ہو گیا ہے۔ ایک ہی محلہ میں چار چار پانچ پانچ جگہ جماعتیں ہوتی ہیں۔ ایک ہی رقبہ میں بلا ضرورت ایک سے زیادہ جگہ جمعہ پڑھا جاتا ہے۔ پھر صرف اتنے ہی پر قدم افساد نہیں رکا بلکہ عیدین کی جماعتیں بھی مسجدوں میں ہونے لگی ہیں ، حالانکہ ایسا کرنا صریح سنت مستمرہ کے خلاف ہے اور اجتماع عیدین کا مقصد عظیم ضائع کر دینا ہے "

( ترجمان القرآن : ج 2 ، ص 197)

اس تفسیری نوٹ کو ایک بار نہیں ، دو بار نہیں ، دسیوں بار پڑھنے کی ضرورت ہے ، کیونکہ اس کے ایک ایک لفظ میں ملت مسلمہ کے بارے میں درد و کرب کا اظہار ٹپکتا ہے ، لیکن افسوس کہ آج اس طرح کی صحیح حقائق پر مبنی تحریروں کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جاتی ہے ، ہر کوئی من مانی کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔

علامہ اقبال نے بہت صحیح فرمایا ہے ؛

مسجدتو بنادی شب بھرمیں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

سورہ توبہ کی انہی مذکورہ بالا آیات ، جن میں مسجد ضرار کا ذکر آیا ہے ، کے اندیشہ کے پیش نظر سیدنا عمر بن خطاب کے عہد خلافت میں جب بہت سے فتوحات ہوئیں اور کئی شہروں کو فتح کیا گیا ، تو سیدنا عمر بن خطاب نے حکومت کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری کر دیا تھا ، جسے بعض مفسرین نے سورہ توبہ میں مسجد ضرار کی آیات کی تفسیر میں نقل کیا ہے ، مثال کے طور پر مشہور مفسر قرآن علامہ زمخشری (1075ء - 1143ء) اور ملا احمد جیون ( 1637ء ۔ 1718ء) نے اپنی تفسیروں میں ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے ۔

عَنْ عَطَاءٍ: لَمَّا فَتَحَ اللهُ الأَمْصَارَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَبْنُوا الْمَسَاجِدَ، وَأَنْ لَا يُتَّخَذَ فِي مَدِينَةٍ مَسْجِدَانِ يُضَارُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ.

( تفسیر الکشاف : ج 2 : ص 295/ التفسيرات الأحمدية : ص 452)

حضرت عطاء سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب کے دور خلافت میں اللہ تعالی نے بہت سے شہروں کو فتح کرائے ، تو انہوں نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان شہروں میں مسجدیں تعمیر کرو ، اور یہ بھی فرمایا کہ کسی ایک علاقہ میں دو مسجدیں تعمیر نہ کرنا ، جس میں ایک ( مسجد) دوسری ( مسجد) کے لئے ضرر کا سبب بنے ۔

اس اہم حکم نامہ میں " مَسْجِدَانِ يُضَارُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ " کے فقرہ میں قرآن سے ایک لفظ " يُضَارُّ " ماخوذ ہے ، یعنی جس میں پہلے سے موجود مسجد کے ہوتے ہوئے اس کے لئے دوسری مسجد " مسجد ضرار " کا فتنہ کھڑا کر سکتی ہے ، اس لئے سیدنا عمر بن خطاب نے کسی محلہ میں دو مسجدیں تعمیر کرنے سے منع کیا تھا ۔ اس حکم نامہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب ابھی مسالک اربعہ وجود میں بھی نہیں آئے تھے ، اور ان شہروں میں مسجدیں بھی نہیں تھیں ، تب سیدنا عمر بن خطاب نے ایک مسجد کے ہوتے ہوئے دوسری مسجد تعمیر کرنے سے سختی سے منع کیا تھا ، اور فرمایا تھا کہ اس سے ایک مسجد کے ہوتے ہوئے دوسری مسجد کو ضرر اور نقصان پہنچ سکتا ہے ، تو کیا آج اس خدشہ کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے ؟ یا اس سنت خلیفہ راشد کے خلاف کرنا جائز ہوگا ؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

لیکن بدقسمتی سے موجودہ دور میں جہاں ایک طرف قرآن و حدیث اور منہج سلف کو مقدم رکھنے کی بات کی جاتی ہے ۔ تو وہاں دوسری طرف تعمیر مساجد کے تعلق سے شرعی حکم جاننے کے بارے میں سورہ توبہ کی مسجد ضرار والی آیات اور مندرجہ بالا احادیث کو یا تو یکسر چھپا دیا جاتا ہے ، اور یا پھر ان کو جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ کہیں اس طرح کی آیات و احادیث بیان کرکے ان کی خود کی اصلیت ظاہر نہ ہوجائے ، اور ان کو ایک مسجد کے ہوتے ہوئے دوسری مسجد بنانے میں شریعت اسلامی درمیان میں رکاوٹ بن کر کھڑی نہ ہوجائے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر آج بھی ایک مسجد کے ہوتے ہوئے دوسری محض مسلک کی بنیاد پر بن رہی ہو ، اور محلے کے مسلمان تقسیم ہوگئے ، کچھ پرانی میں چلے گئے اور کچھ نئی مسجد میں چلے گئے اور مسلمانوں کا شیرازہ بکھر جائے تو اس سے فتنہ ، تفرقہ اور فساد کا ماحول بن جاتا ہے ، تو یہ سارا معاملہ ضرار کے دائرہ میں آتا ہے اور اللہ تعالی کے نزدیک ناپسندیدہ بلکہ مردود قرار پاتا ہے۔

کسی درد مند شاعر بہت خوب کہا ہے:

اسلام کی خوشی کوئی پامال کر گیا

دریائے انبساط چڑھا تھا اتر گیا

شیرازهٔ سکون و تمنا بکھر گیا

وہ دن گزر گئے وہ زمانہ بدل گیا

یا الٰہی ہو ! امام وقت کا جلدی ظہور

قافلہ اسلام کا بے تاج و بے سر ہو گیا