نئی دہلی : آواز دی وائس
مسلمانوں کی ترقی کو صرف سیاسی نمائندگی کی بنیاد پر نہیں جانچا جا سکتا، بلکہ تعلیم، روزگار، کاروبار اور سماجی ترقی کے مجموعی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یو پی ایس سی سمیت مختلف مسابقتی امتحانات میں مسلمانوں کی کامیابیوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بھی نوجوانوں کا رجحان پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ قوموں کی ترقی کا اصل راستہ تعلیم، ہنر، محنت اور کردار سے ہو کر گزرتا ہے۔
آواز دی وائس کے مقبول پوڈ کاسٹ "دین اور دنیا" میں میزبان ثاقب سلیم نے معروف سماجی کارکن اور علامہ رفیق ٹرسٹ کے سربراہ مقصود احمد سے تعلیم، روزگار، سیاست، معاشی ترقی، سماجی خدمت اور دین و دنیا کے تعلق پر تفصیلی گفتگو کی۔اس انٹرویو میں مقصود احمد نے مسلمانوں سے متعلق رائج کئی تصورات پر اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے دین اور دنیا کے تعلق پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام پوری زندگی کی رہنمائی کرتا ہے اور خدمتِ انسانیت، دیانت، انصاف اور علم کا حصول ہی اس کی حقیقی روح ہے۔
پیش ہیں بات چیت کے اقتباسات
دین اور دنیا
ثاقب سلیم ۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں مسلمانوں کو حکومت نے نظر انداز کیا ہے، ان کی سرکاری ملازمتوں، تعلیمی اداروں، کاروبار اور مجموعی نمائندگی میں مسلسل کمی آئی ہے۔ چونکہ آپ زمینی سطح پر کام کرتے ہیں، اس لیے آپ کا مشاہدہ کیا کہتا ہے؟ کیا واقعی حالات ایسے ہی ہیں؟
مقصود احمد: میرے نزدیک یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد مسلمانوں کے لیے تمام راستے بند ہوگئے یا ان کی ترقی رک گئی۔ یہ ایک ایسا تاثر ہے جو مسلسل پیش کیا جاتا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کی مکمل تائید نہیں کرتے۔اگر ہم سب سے پہلے یو پی ایس سی کے نتائج کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ 2014 سے پہلے بھی مسلمان کامیاب ہوتے تھے، لیکن اس کے بعد کامیاب امیدواروں کی تعداد میں مجموعی اضافہ ہوا۔ مختلف برسوں میں یہ تعداد بڑھتے بڑھتے 50 سے زیادہ تک پہنچی۔ یقیناً اس کامیابی کا کریڈٹ صرف کسی ایک حکومت کو نہیں دیا جا سکتا۔ اس میں والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، کوچنگ مراکز اور خود طلبہ کی محنت بھی شامل ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکاری اعداد و شمار یہ نہیں بتاتے کہ مسلمانوں کی نمائندگی مسلسل کم ہوتی گئی ہے۔
ثاقب سلیم: تعلیم کے حوالے سے بھی ایک عام تاثر یہ ہے کہ مسلم تعلیمی اداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟
مقصود احمد:اگر ہم مسلم اقلیتی یونیورسٹیوں کا جائزہ لیں تو ایک وقت تھا جب صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا زیادہ ذکر ہوتا تھا، لیکن آج ملک میں مسلم اقلیتی یونیورسٹیوں کی تعداد تقریباً 23 تک پہنچ چکی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ان سب کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو دیا جائے۔ ہوسکتا ہے زمین سابقہ حکومتوں نے دی ہو، منصوبے پہلے بنے ہوں یا مالی منظوری پہلے ملی ہو، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان اداروں کی باضابطہ منظوری اور شناخت بعد کے ادوار میں مکمل ہوئی۔ اس لیے تصویر کا صرف ایک رخ دیکھنا مناسب نہیں۔

ثاقب سلیم:ایک طرف آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلم اقلیتی تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان اداروں کی خود مختاری ختم کرنے یا انہیں سرکاری کنٹرول میں لینے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اقلیتی حیثیت کا معاملہ بھی کئی برسوں سے زیر بحث ہے، جبکہ دوسرے اداروں کے بارے میں بھی ایسی آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ آپ اس صورتحال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
مقصود احمد:میرے خیال میں ہر حکومت کے ساتھ کچھ ایسے عناصر بھی ہوتے ہیں جو اپنے مفادات کے مطابق ماحول بناتے ہیں۔ حکومت کا موقف اپنی جگہ ہو سکتا ہے، لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مختلف اداروں میں غیر ضروری تنازعات پیدا کرکے حکومت کو بھی بدنام کرتے ہیں اور ملک کے ترقیاتی سفر کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔جہاں تک اقلیتی اداروں کا تعلق ہے، میں نہیں سمجھتا کہ ہر مسلم ادارے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ملک میں کئی ایسے مسلم تعلیمی ادارے ہیں جہاں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوتی۔ البتہ جہاں انتظامیہ اور بعض بااثر حلقوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو جائیں، وہاں مسائل ضرور سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہر معاملے کو صرف مذہبی زاویے سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔
ثاقب سلیم:تعلیم کے بعد اگر سیاست کی بات کریں تو یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ آج پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلمانوں کی نمائندگی پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے، خصوصاً حکمراں جماعت میں کوئی مسلم وزیر بھی موجود نہیں۔ کیا آپ اسے تشویش کی بات سمجھتے ہیں؟مقصود احمد:یہ حقیقت ہے کہ اس وقت مرکزی حکومت میں کوئی مسلم وزیر نہیں ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن میرے نزدیک اصل سوال صرف نمائندگی کا نہیں بلکہ کردار کا ہے۔اگر کوئی شخص صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر وزیر بن جائے، لیکن اپنی برادری کے تعلیمی اداروں، طلبہ یا فلاحی منصوبوں کے لیے کوئی مؤثر کام نہ کرے تو ایسی نمائندگی سے عام آدمی کو کیا فائدہ ہوگا؟ہمیں صرف اس بات پر خوش نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی مسلمان کسی عہدے پر پہنچ گیا، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس نے اپنے منصب کو عوامی خدمت کے لیے کس حد تک استعمال کیا۔
ثاقب سلیم:تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ماضی کی مسلم قیادت بھی اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کر سکی؟
مقصود احمد:ایسا کہنا بھی درست نہیں ہوگا۔ ماضی میں بہت سے ایسے مسلم رہنما گزرے ہیں جنہوں نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ عبدالرحمن انتولے، سی کے جعفر شریف اور کئی دوسرے رہنما ایسے تھے جنہوں نے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا اور اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا۔البتہ کچھ ایسے لوگ بھی رہے جنہوں نے اپنے عہدے کا وہ فائدہ معاشرے کو نہیں پہنچایا جس کی ان سے توقع تھی۔ اس لیے پوری قیادت کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔

ثاقب سلیم:عبدالرحمن انتولے اور سی کے جعفر شریف جیسے رہنماؤں میں ایک بات مشترک تھی کہ انہوں نے اپنی سیاست کو صرف مذہبی شناخت تک محدود نہیں رکھا بلکہ ترقی، روزگار اور عوامی مسائل کو ترجیح دی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہی طرزِ سیاست زیادہ مؤثر ہے؟
مقصود احمد:بالکل۔ میرے نزدیک عوامی خدمت ہی اصل سیاست ہے۔دہلی کی سابق رکن اسمبلی تاجدار بیگم اس کی اچھی مثال تھیں۔ وہ ایسے حلقے سے مسلسل کامیاب ہوتی رہیں جہاں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی، لیکن عوام نے ان کی خدمت، کردار اور دیانت کی بنیاد پر انہیں منتخب کیا۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی مسلمان سیاست میں آئے تو اسے صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا نمائندہ بن کر کام کرنا چاہیے۔ تاہم جب مسلم تعلیمی ادارے یا اسکول اپنے ہی منتخب نمائندوں سے مدد مانگتے ہیں تو اکثر انہیں وہ تعاون نہیں ملتا جس کی توقع کی جاتی ہے۔ یہی وہ کمزوری ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ثاقب سلیم:اب گفتگو کا رخ معیشت کی طرف کرتے ہیں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کاروبار کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے اور انہیں معاشی طور پر آگے بڑھنے کے مواقع کم مل رہے ہیں۔ آپ چونکہ مختلف طبقات کے لوگوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں، اس لیے آپ کا مشاہدہ کیا کہتا ہے؟
مقصود احمد:میرا ذاتی مشاہدہ اس تاثر سے مختلف ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر مسلمان خوشحال ہے یا تمام مسائل ختم ہو چکے ہیں، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ مجموعی طور پر مسلمانوں کے کاروبار میں ترقی ہوئی ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 14 فیصد ہے، اس لیے فطری طور پر ان کے کاروبار بھی مجموعی آبادی کے تناسب سے کم ہوں گے، لیکن اس کے باوجود متعدد مسلم صنعت کاروں اور کاروباری اداروں نے گزشتہ برسوں میں قابل ذکر ترقی کی ہے۔دواسازی، جوتوں کی صنعت، فوڈ پروسیسنگ، ہوٹل انڈسٹری، برآمدات، زرعی کاروبار اور دیگر کئی شعبوں میں مسلم کاروباری اداروں کی ترقی رکی نہیں بلکہ آگے بڑھی ہے۔ یہی زمینی حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ثاقب سلیم:کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ بڑے مسلم صنعت کار صرف اس لیے کامیاب ہیں کہ وہ حکومت کے قریب ہیں یا سیاسی طور پر طاقتور ہیں۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں؟
مقصود احمد:میرے خیال میں کاروبار کو صرف سیاسی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہر بڑی کمپنی اپنے تجارتی مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔ اگر کوئی صنعت کار قانونی طور پر کسی سیاسی جماعت یا سماجی ادارے کو چندہ دیتا ہے تو اسے محض سیاسی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی کمپنی کی مصنوعات معیاری ہوں اور اس کی کاروباری حکمت عملی مضبوط ہو تو وہ ترقی کرتی ہے۔ یہی اصول مسلم صنعت کاروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
ثاقب سلیم:آپ نے کاروبار کی بات کی، لیکن عام مسلمان تو ملازمت پیشہ بھی ہوتا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں پہلے سے کم مواقع مل رہے ہیں۔ کیا آپ اس تاثر سے اتفاق کرتے ہیں؟
مقصود احمد:میں خود ایک استاد ہوں، اس لیے گزشتہ تین دہائیوں میں طلبہ کی پیش رفت کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔جب میں نے تدریس شروع کی تھی تو اگر ہمارے اسکول سے ایک طالب علم بھی ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کر لیتا تھا تو پورے ادارے میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی تھی۔ آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔ صرف ہمارے اسکول سے درجنوں طلبہ میڈیکل کالجوں میں داخلہ حاصل کر چکے ہیں۔ انجینئرنگ، نرسنگ، فارمیسی اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز میں بھی مسلمانوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔اسی طرح آئی آئی ٹی اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی مسلم طلبہ کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا رجحان پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے۔

ثاقب سلیم:آپ کے خیال میں اس تبدیلی کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
مقصود احمد:میرے نزدیک سب سے بڑی تبدیلی شعور کی ہے۔پہلے بہت سا وقت اور سرمایہ آپسی تنازعات، مقدمات اور غیر ضروری معاملات میں ضائع ہو جاتا تھا۔ اب والدین کی بڑی تعداد اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ بچوں کی تعلیم پر خرچ کر رہی ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمان نوجوان ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، سرکاری افسر اور کاروباری شخصیت کے طور پر پہلے سے زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ تمام مسائل ختم ہو گئے ہیں، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور یہی تبدیلی مستقبل میں مزید ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ثاقب سلیم:اب ذرا آپ کی سماجی خدمات کی طرف آتے ہیں۔ آپ نے کئی مرتبہ علامہ رفیق ٹرسٹ کا ذکر کیا۔ سب سے پہلے یہ بتائیے کہ اس ٹرسٹ کا نام علامہ رفیق کے نام پر کیوں رکھا گیا؟ وہ کون تھے اور آپ ان سے کس طرح متاثر ہوئے؟
مقصود احمد:یہ میری طالب علمی کے زمانے کی بات ہے۔ میں ایم ایس سی کا طالب علم تھا کہ ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ وہاں میری ملاقات ایک ایسی شخصیت سے ہوئی جنہوں نے میری زندگی کا رخ بدل دیا۔ وہ تھے علامہ رفیق صاحب۔پہلی ملاقات ہی میں ان کی سادگی، اخلاص اور بے تکلفی نے مجھے متاثر کیا۔ بعد میں جب میں نے ان کی زندگی کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ صرف ایک عالم دین نہیں بلکہ قومی سوچ رکھنے والے، بے لوث سماجی رہنما بھی تھے۔ انہوں نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ قومی مسائل پر بھی ہمیشہ متوازن موقف اختیار کیا۔مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ انہیں پارلیمنٹ کی رکنیت اور انتخاب لڑنے کی پیش کش بھی ہوئی، لیکن انہوں نے اقتدار یا منصب کے بجائے خدمت کو ترجیح دی۔ ان کی یہی بے نفسی اور اخلاص میرے لیے مشعل راہ بن گیا۔ اسی لیے جب میں نے ٹرسٹ قائم کیا تو اس کا نام انہی کے نام پر رکھنے کا فیصلہ کیا۔

ثاقب سلیم:علامہ رفیق ٹرسٹ بنیادی طور پر کس مقصد کے لیے قائم کیا گیا اور آج کن شعبوں میں کام کر رہا ہے؟
مقصود احمد:ہمارا بنیادی مقصد تعلیم کو عام کرنا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بچوں کو معیاری تعلیم آسانی سے میسر نہیں آتی۔ابتدا میں ہم نے چند تعلیمی منصوبوں پر کام کیا، لیکن بعد میں باقاعدہ ٹرسٹ قائم کیا، اسے قانونی طور پر رجسٹر کرایا اور پھر اپنے تعلیمی ادارے قائم کیے۔ آج ہمارا سب سے بڑا کام اسکولوں کے ذریعے معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ بچے مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر، استاد، افسر اور ذمہ دار شہری بن سکیں۔
ثاقب سلیم:اس وقت آپ کے تعلیمی اداروں کی کارکردگی کیسی ہے؟
مقصود احمد:الحمدللہ، ہمارے اسکولوں کے نتائج مسلسل حوصلہ افزا رہے ہیں۔ دسویں جماعت میں ہر سال نوے فیصد سے زیادہ کامیابی کا تناسب برقرار رہتا ہے اور متعدد طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک کے مختلف اداروں میں داخلہ حاصل کرتے ہیں۔ہمارا مقصد صرف امتحان میں کامیابی نہیں بلکہ بچوں میں اعتماد، کردار اور بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔
ثاقب سلیم:آپ تقریباً تین دہائیوں سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ اگر آج کے مسلمانوں کا موازنہ 1990 کی دہائی کے مسلمانوں سے کیا جائے تو آپ کو سب سے بڑی تبدیلی کیا نظر آتی ہے؟
مقصود احمد:میرے نزدیک سب سے بڑی تبدیلی سوچ میں آئی ہے۔پہلے لوگ اپنے وسائل کا بڑا حصہ غیر ضروری تنازعات، مقدمات اور آپسی اختلافات پر خرچ کر دیتے تھے، لیکن اب آہستہ آہستہ ترجیحات بدل رہی ہیں۔آج والدین کی بڑی تعداد اپنے بچوں کی تعلیم پر سرمایہ لگا رہی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اچھی یونیورسٹیوں میں جائیں، پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کریں اور معاشرے میں باعزت مقام حاصل کریں۔یہ تبدیلی اگر اسی رفتار سے جاری رہی تو آنے والے برسوں میں اس کے مزید مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
ثاقب سلیم:تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں میں مجموعی طور پر تعلیمی شعور پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے؟
مقصود احمد:جی ہاں، میں پورے اعتماد سے یہ کہہ سکتا ہوں۔آج عام مسلمان بھی یہ سمجھنے لگا ہے کہ قوموں کی ترقی صرف نعروں سے نہیں بلکہ تعلیم، ہنر، محنت اور کردار سے ہوتی ہے۔اسی لیے اب زیادہ خاندان اپنےبچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے یہی تبدیلی سب سے زیادہ امید افزا محسوس ہوتی ہے، کیونکہ جب تعلیم بڑھے گی تو معاشی، سماجی اور فکری ترقی بھی خود بخود آئے گی۔
ثاقب سلیم:مقصود صاحب، گفتگو کے اختتام سے پہلے ایک آخری سوال۔ آپ نے زندگی کا بڑا حصہ تعلیم اور سماجی خدمت کے لیے وقف کیا ہے۔ آپ کے خیال میں گزشتہ دو تین دہائیوں کے دوران مسلمانوں کے معیارِ زندگی میں مجموعی طور پر کیا تبدیلی آئی ہے؟ کیا معاشی اور سماجی حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں؟
مقصود احمد:میرے مشاہدے کے مطابق مسلمانوں کے معیارِ زندگی میں مجموعی طور پر بہتری آئی ہے۔ تعلیم کے میدان میں شعور بڑھا ہے، معاشی حالات میں بھی بہت سے خاندانوں نے ترقی کی ہے اور سماجی سطح پر بھی لوگوں کی سوچ پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہوئی ہے۔آج لوگ صرف اپنی برادری یا محدود دائرے تک نہیں سوچتے بلکہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل، اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ کامیابی پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ مجھے یہی تبدیلی سب سے زیادہ امید افزا محسوس ہوتی ہے۔
ثاقب سلیم:ہمارے پروگرام کا نام "دین اور دنیا" ہے۔ اسی مناسبت سے میں آپ سے جاننا چاہوں گا کہ آپ کی نظر میں دین اور دنیا کو ساتھ لے کر چلنے کا صحیح مفہوم کیا ہے؟
مقصود احمد:میرے نزدیک دین اور دنیا کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرنا درست نہیں ہے۔ اسلام انسان کی پوری زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔اگر ہم سنت کے مطابق کھانا کھاتے ہیں، صفائی کا خیال رکھتے ہیں، امانت داری سے کاروبار کرتے ہیں، انصاف قائم کرتے ہیں یا کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں تو یہ سب دین ہی کا حصہ ہے۔اگر ایک ڈاکٹر اپنے علم کے ذریعے کسی مریض کی جان بچاتا ہے، ایک استاد نئی نسل کی تربیت کرتا ہے یا ایک انجینئر معاشرے کے لیے بہتر سہولتیں فراہم کرتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے، کیونکہ اسلام خدمتِ انسانیت کو بہت بڑی نیکی قرار دیتا ہے۔اسی لیے میں دینی اور دنیاوی تعلیم میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔ میرے نزدیک ہر وہ علم جو انسان اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو، وہ قابلِ قدر ہے۔
ثاقب سلیم:آج معاشرے میں نفرت، اختلاف اور تقسیم کی باتیں بھی بہت ہوتی ہیں۔ آپ اس صورتحال کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
مقصود احمد:میرے خیال میں ہمارے بہت سے مسائل کی بنیادی وجہ معلومات کی کمی ہے۔ جب علم کم ہوتا ہے تو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہی غلط فہمیاں اختلافات کو جنم دیتی ہیں۔اسلام ہمیں عدل، دیانت، رحم، بھائی چارے اور خدمتِ خلق کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم ان تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کر دیں تو بہت سی نفرتیں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔مجھے یقین ہے کہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنے کی روایت آئندہ بھی قائم رہے گی۔ اختلافات ہر معاشرے میں ہوتے ہیں، لیکن انہیں مستقل دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے اور جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ تقسیم کرنے کی۔