(رضیہ سلطان کے یومِ وفات کے موقعے پر خصوصی تحریر)
رشدہ شاہین (صحافی و محقق)
’’رضیہ سلطان ایک عظیم فرمانروا تھی۔ قدرت نے اسے عقل و دانش سے نوازا تھا۔ وہ ہمیشہ انصاف کے راستے پر چلتی رہی اور لطف و کرم کو اپنا شیوہ بنائے رکھا۔ اس نے سب کو نوازا اور اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کا خاص خیال رکھا۔ اس میں لشکر کشی اور حملہ کرنے کی صلاحیت بھی موجود تھی۔ مختصر یہ کہ اس میں وہ تمام خوبیاں پائی جاتی تھیں جو ایک بادشاہ میں ہونی چاہییں۔‘‘
یہ الفاظ 13ویں صدیکے فارسی مورخ قاضی منہاج سراج جوزجانی، معروف بہ منہاج السراج، نے اپنی تاریخی تصنیف طبقات ناصری میں رضیہ سلطان کا تعارف کراتے ہوئے استعمال کیے ہیں۔آج سے 821 سال قبل اسی روز دنیا سے رخصت ہونے والی رضیہ سلطان برصغیر کی پہلی مسلم خاتون حکمران اور دہلی کی پہلی اور آخری مسلم خاتون سلطان تھیں۔وہ ہندوستان میں خاندانِ غلاماں کے دوسرے سلطان، شمس الدین التمش، کی بڑی بیٹی اور پہلے سلطان قطب الدین ایبک کی نواسی تھیں۔رضیہ ایک غیر معمولی جذبے اور عزم کی مالک خاتون حکمران تھیں۔ انہیں کئی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن خوش قسمتی سے انہیں دلی کے عوام کی بھرپور حمایت بھی حاصل تھی۔ انہوں نے اپنی کم و بیش ساڑھے تین سال کی حکمرانی کے دوران انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنایا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
انہوں نے تجارت کو فروغ دیا، سڑکیں بنوائیں، درخت لگوائے اور کنویں کھدوائے۔ نئے مدرسے قائم کیے اور عوام کے لیے کتب خانے کھلوائے۔ انہیں خود بھی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا اور عربی، فارسی اور ترکی، کم از کم تین زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر ارادھنا سنگھ اپنے ایک تحقیقی مضمون میں لکھتی ہیں کہ رضیہ سلطان نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خاصا کام کیا اور کئی تعلیمی ادارے اور عوامی کتب خانے قائم کیے۔
وہ لکھتی ہیں، ’’ان کا طرزِ حکمرانی ابتدا ہی سے سیکولر تھا۔ ان اداروں کا نصاب اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ طلبہ سائنس اور ادب کے روایتی علمی سرمایے کے ساتھ ساتھ دوسری ثقافتوں کے علمی کاموں سے بھی روشناس ہو سکیں۔‘‘رضیہ سلطان کی حکمرانی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ انہوں نے اپنے عہد میں یہ ثابت کیا کہ حکمرانی کی صلاحیتیں کسی ایک جنس تک محدود نہیں۔ ان کی حکمرانی اس تصور کو بھی چیلنج کرتی ہے کہ مسلم معاشروں میں اقتدار اور قیادت پر صرف مردوں کا حق ہے۔ان کی مثال نے بعد کے ادوار میں نور جہاں، چاند بی بی، ممتاز محل، بیگم حضرت محل، حیات بخشی بیگم، جہاں آرا بیگم، روشن آرا بیگم، قدسیہ بیگم اور گلبدن بانو جیسی خواتین کے لیے بھی اقتدار اور حکومتی امور میں اپنا کردار ادا کرنے کی راہیں روشن کیں۔

اپنے والد کی مشیر
مظہر انصاری دہلوی اپنی کتاب ’’رضیہ سلطان‘‘ میں لکھتے ہیں، ’’التمش رضیہ کو بہت چاہتا تھا۔ ایک تو گیارہ لڑکوں میں یہ ایک لڑکی تھی دوسرے وہ التمش کی ساری اولاد میں سب سے زیادہ ذہین، عقل مند اور لائق بھی تھی۔‘‘انہوں نے لکھا ہے کہ رضیہ کے تمام بھائی کند ذہن، نکمے اور کھلنڈرے تھے۔ ’’وہ نہ پڑھنے لکھنے میں دلچسپی لیتے تھے اور نہ ہی سپاہیانہ مشقوں میں۔ اس کے برعکس، رضیہ ذہین، معاملہ فہم اور محنتی تھی۔ وہ دل لگا کر پڑھتی لکھتی اور ہر کام پوری توجہ اور محنت سے کرتی تھی۔‘‘مظہر انصاری رقم طراز ہیں کہ کوئی معاملہ ایسا نہ ہوتا جس میں بادشاہ اپنی لائق بیٹی سے صلاح مشورہ نہ کرتا۔ ’’جب کبھی اسے سلطنت کے انتظام کے سلسلے میں کوئی دشواری پیش آتی تو وہ رضیہ کو پاس بٹھا کر اپنی مشکل اس سے بیان کرتا اور پوچھتا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ رضیہ ہر بار مناسب مشورہ پیش کر دیتی۔‘‘
رضیہ کو ولی عہد نامزد کرنے کا اعلان
مظہر انصاری نے لکھا ہے کہ جب رضیہ جملہ علوم و فنون میں طاق ہو گئی تو شہنشاہ التمش نے اپنا یہ دستور بنا لیا تھا کہ جب کبھی پایہ تخت سے باہر جاتا تو حکومت کی باگ ڈور اپنی بیٹی کے حوالے کر جاتا۔تاریخ فرشتہ میں محمد قاسم فرشتہ نے رضیہ سلطان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان میں حکمرانی کی صلاحیتیں بدرجۂ اتم موجود تھیں۔ ’’عقل و فہم، حسنِ تدبیر اور سیاسی بصیرت کے لحاظ سے وہ اپنے زمانے کے بہترین مردوں کا مقابلہ کر سکتی تھیں۔ ان کی صلاحیتوں کو جانچنے والوں کو ان میں نسوانیت کے سوا کوئی ایسی خامی نظر نہیں آتی تھی جو انہیں بادشاہت کے جلیل القدر منصب تک پہنچنے سے روک سکتی۔‘‘
انہوں نے لکھا ہے کہ شہنشاہ التمش کے زمانے ہی سے رضیہ سلطنت کے انتظامی امور میں دلچسپی لیتی تھیں اور اس دور میں حکومت کے کئی اہم اور پیچیدہ مسائل پر ان کی رائے کو حتمی حیثیت حاصل تھی۔انہوں نے لکھا ہے، ’’التمش کو رضیہ کی فہم و فراست پر بے حد اعتماد تھا، اسی لیے وہ امورِ سلطنت میں ان کی شرکت کو پسند کرتا تھا۔ گوالیار کی فتح کے بعد التمش نے اپنے چند خاص امرا کی موجودگی میں رضیہ سلطان کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا اعلان کیا۔‘‘
مظہر انصاری کے مطابق، ’’جب التمش پایۂ تخت واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ رضیہ نے حکومت کا کام بڑی قابلیت سے چلایا ہے۔ التمش اس سے اتنا خوش ہوا کہ سلطنت کے بڑے بڑے امیروں کی موجودگی میں یہ اعلان کر دیا کہ میں رضیہ کو اپنا ولی عہد مقرر کرتا ہوں۔’’مگر ترکوں میں عورت کو بادشاہ بنانے کا دستور نہ تھا۔ اس کے علاوہ اُس وقت تک کسی بھی اسلامی سلطنت کا تاج کسی عورت کے سر پر نہ رکھا گیا تھا۔ اس بنا پر التمش کی یہ بات امیروں کی سمجھ نہ آئی۔ انہوں نے التمش سے اعتراض کے لہجے میں پوچھا کہ جب آپ کے ایک نہ دو گیارہ گیارہ بیٹے موجود ہیں تو پھر ایک عورت کو تخت و تاج کا وارث بنانے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘
منہاج السراج کے مطابق التمش نے امیروں کے اس اعتراض کو یہ کہہ کر رد کر دیا: ’’میرے بیٹے عیش و عشرت اور جوانی کی رنگ رلیوں میں مشغول ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی سلطنت چلانے کے قابل نہیں اور نہ ہی وہ اس کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں گے۔ میرے مرنے کے بعد تم لوگوں کو خود احساس ہو جائے گا کہ اس بیٹی سے بڑھ کر ولی عہد بننے کا حق دار کوئی نہ تھا۔‘‘

رضیہ کے بجائے رکن الدین کی تخت نشینی
بہرحال، اس بار التمش کو امیروں کے آگے جھکنا پڑا، کیونکہ یہ وہی لوگ تھے جو قطب الدین ایبک کے خاص معتمدین میں شامل تھے اور ان کی وفات کے بعد التمش کو تخت پر بٹھانے میں اہم کردار ادا کر چکے تھے۔ التمش نے بالآخر اپنے بیٹے رکن الدین فیروز کو ولی عہد مقرر کر دیا اور اسے امورِ سلطنت کی تربیت دینے لگا۔مئی 1236ء میں رکن الدین دلی کے تخت پر بیٹھے، لیکن چند ہی دنوں میں واضح ہو گیا کہ وہ حکومت چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے وہ شراب نوشی اور عیش و عشرت میں پڑ گئے اور سلطنت کی باگ ڈور اپنی ماں، ترکان شاہ، کے حوالے کر دی۔
منہاج السراج نے جہاں سلطان رکن الدین کے عیوب کا ذکر کیا ہے، وہیں ان کی فیاضی کو بھی بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ’’سلطان رکن الدین داد و دہش میں دوسرے حاتم تھے۔ جتنا مال انہوں نے لٹایا، جس کثرت سے خلعتیں تقسیم کیں اور جس فراوانی سے بخشش کی، اس کی مثال کسی بھی عہد میں کوئی بادشاہ پیش نہیں کر سکا۔‘‘رضیہ کی جانشینی کی مخالفت کرنے والے امیروں کا مؤقف تھا کہ عورت حکومت نہیں کر سکتی، مگر اب اقتدار بالواسطہ طور پر ایک عورت یعنی ترکان شاہ ہی کے ہاتھ میں تھا۔ مظہر انصاری کے مطابق، ’’کہا جاتا ہے کہ وہ ایک معمولی لونڈی تھی جو جوڑ توڑ کے ذریعے ملکہ بنی
اقتدار سنبھالنے کے بعد ترکان شاہ نے ان تمام لوگوں سے انتقام لینا شروع کر دیا جنہوں نے ماضی میں اس کی مبینہ تذلیل کی تھی۔ نتیجتاً، رکن الدین کی حکومت غیر مقبول ہوتی چلی گئی، جس سے رضیہ سلطان کے تخت نشین ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔مظہر انصاری لکھتے ہیں، ’’رکن الدین کی عیاشی اور ترکان شاہ کے مظالم سے امیر غریب، چھوٹے بڑے سب چیخ اٹھے۔ دربار کے بڑے بڑے امیر، صوبے دار، سردار اور رعایا سب ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ رفتہ رفتہ سبھی اس کے خلاف ہو گئے اور انہوں نے اسے تخت سے اتار دیا۔ رکن الدین نے ان سے جنگ کی مگر شکست کھائی اور قید ہوا۔‘‘اس طرح رکن الدین کی حکومت صرف چھ مہینے اور آٹھ دن ہی چل سکی۔
جب رضیہ تخت نشین ہوئیں
جب رضیہ 1236ء میں تخت نشین ہوئیں تو انہوں نے تخت پر بیٹھتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ترکان شاہ کو نظر بند کر دیا۔ مظہر انصاری کے مطابق، ’’رضیہ پردے میں رہتی تھی اور شاہی محل میں بیگمات کی طرح زندگی بسر کرتی تھی۔ اب تخت پر بیٹھنے کے بعد پردہ اٹھانے کی ضرورت پڑی تو اس نے بلا پس و پیش پردہ اٹھا دیا۔ اُس نے زنانہ لباس ترک کیا اور مردانہ لباس پہننے لگی۔ لباس کی تبدیلی رضیہ کا پہلا قدم تھا۔ اس نے دوسرا قدم یہ اٹھایا کہ التمش کے زمانے کے قوانین کو دوبارہ جاری کر دیا۔
’’التمش کا پہلا اصول یہ تھا کہ رعایا کے ساتھ انصاف کیا جائے اور اس کو بخشش سے بھی نوازا جائے۔ رضیہ نے بھی اسی اصول کو حکمرانی کی بنیاد بنایا۔ اس کا دروازہ فریادیوں اور انصاف طلب کرنے والوں کے لیے کھلا رہتا تھا اور دن ہو یا رات، وہ ہر وقت مظلوموں اور داد رسی چاہنے والوں کی فریاد سننے کے لیے تیار رہتی تھی۔’’رضیہ نے بہت جلد دنیا کو یہ بات منوا دی کہ وہ ہندوستان کے تخت پر بیٹھ کر حکومت کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ وہ سلطنت کے انتظامی کام کرنے کے علاوہ لڑائیوں میں بھی شریک ہوئی۔ گھوڑے پر سوار ہو کر فوج کی کمان کرتی اور مردوں کی طرح بہادری کے جوہر دکھاتی تھی۔ غرض اس نے عورت ہونے کے باوجود خود کو مردوں سے بہتر حکمران ثابت کر دیا۔‘‘

رضیہ سلطان کو اپنے دورِ حکومت میں یکے بعد دیگرے کئی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بااثر ترک امیروں کی مخالفت ان کے زوال کی اہم وجوہات میں شامل تھی۔ بالآخر 1240ء میں انہیں تخت سے بے دخل کر دیا گیا اور ان کے سوتیلے بھائی معز الدین بہرام شاہ کو دہلی کا سلطان بنا دیا گیا۔ اسی سال رضیہ سلطان ہریانہ کے موجودہ شہر کیتھل کے قریب ماری گئیں۔سفر نامہ ابن بطوطہ میں کیتھل کے مقام پر بہرام شاہ کی فوج کے ہاتھوں شکست کے بعد واقعات کا ذکر کچھ یوں درج ہے، ’’رضیہ میدانِ جنگ سے فرار ہو گئیں۔ تھکن، بھوک اور پیاس سے نڈھال ہو کر انہوں نے ایک زمیندار کو ہل چلاتے دیکھا اور اس سے کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ زمیندار نے انہیں روٹی کا ایک ٹکڑا دیا، جسے کھانے کے بعد وہ سو گئیں۔
’’اس وقت انہوں نے مردانہ لباس پہن رکھا تھا۔ زمیندار کی نظر ان کی قبا پر پڑی، جس پر جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ کوئی عورت ہے۔ اس نے رضیہ کو سوتے میں قتل کر دیا، ان کے کپڑے اور سامان اتار لیا اور گھوڑا لے کر فرار ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے رضیہ کی لاش کھیت میں دفن کر دی۔‘‘ابن بطوطہ لکھتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ کے علم میں آنے کے بعد رضیہ سلطان کی لاش کو قبر سے نکالا گیا، غسل اور کفن دیا گیا اور پھر اسی جگہ دوبارہ دفن کر دیا گیا۔ وہ لکھتے ہیں، ’’اس کی قبر پر ایک گنبد بنا دیا گیا۔ اب اس کی قبر زیارت گاہ ہے اور وہ دریائے جمنا کے کنارے، شہر (کیتھل) سے ساڑھے تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔‘‘