.gif)
احمد خان
امتیاز علی کی نئی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ تقسیم ہند کے اس دیرپا المیے کو ایک بار پھر پردۂ سیمیں پر لے آئی ہے جس نے برصغیر کی تاریخ کے سب سے خونیں اور فیصلہ کن ابواب میں جگہ بنائی۔ 1947 کی تقسیم نے صرف ایک ملک کو دو حصوں میں نہیں بانٹا بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا۔ لاکھوں خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ رشتے بچھڑ گئے۔ محبتیں سرحدوں کے درمیان تقسیم ہوگئیں اور بے شمار لوگوں نے فسادات اور ہجرت کے دوران اپنے پیاروں کو کھو دیا۔تقسیم کا یہ المیہ وقت گزرنے کے باوجود اجتماعی یادداشت سے محو نہیں ہوسکا۔ ادب کے ساتھ ساتھ ہندوستانی سنیما نے بھی اس سانحے کے مختلف پہلوؤں کو موضوع بنایا۔ ب
عض فلموں نے ہجرت کے کرب اور بچھڑنے کا دکھ بیان کیا تو بعض نے فرقہ وارانہ نفرت کے تباہ کن اثرات کو سامنے رکھا۔ کئی فلموں میں ان لوگوں کی کہانیاں بھی دکھائی گئیں جو اپنا وطن چھوڑنے کے بجائے اسی سرزمین پر رہ گئے اور نئی صورت حال میں اپنی شناخت اور وفاداری ثابت کرنے کے مسائل سے دوچار ہوئے۔’دھرم پتر‘۔ ’گرم ہوا‘۔ ’تماس‘۔ ’1947 ارتھ‘۔ ’ٹرین ٹو پاکستان‘۔ ’ہے رام‘۔ ’غدر‘۔ ’بھاگ ملکھا بھاگ‘۔ ’جوبلی‘ اور ’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ جیسی فلموں اور سیریز نے تقسیم کے مختلف انسانی اور سیاسی پہلوؤں کو اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔ ان تخلیقات میں کہیں محبت اور انسانیت دکھائی دیتی ہے تو کہیں خوف اور نفرت۔ کہیں ہجرت کا دکھ ہے تو کہیں بچھڑے ہوئے وطن کی یاد۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند آج بھی سنیما کے لیے ایک اہم اور حساس موضوع بنی ہوئی ہے۔

تقسیم ہند برصغیر کی تاریخ کا ایسا گہرا زخم ہے جو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود مکمل طور پر مندمل نہیں ہوسکا۔ 1947ء میں ہندوستان اور پاکستان کے قیام کے ساتھ ہونے والی تقسیم نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کیا اور بڑے پیمانے پر ہجرت کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ تشدد اور انسانی المیوں کو جنم دیا۔اگرچہ تقسیم کا براہ راست تجربہ کرنے والی نسل اب تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے لیکن اس سانحے کے اثرات آج بھی ہندوستان اور پاکستان کے سماج میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ سنیما نے بھی اس تاریخی واقعے کو مختلف زاویوں سے پیش کیا ہے۔ بعض فلموں نے تقسیم کے متاثرین کے دکھ اور بے گھری کو موضوع بنایا تو بعض نے مذہبی منافرت کے خطرات اور ہندو مسلم اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔حالیہ عرصے میں امتیاز علی کی فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ نے بھی تقسیم کے دیرپا زخموں کو موضوع بنایا ہے۔ فلم میں ایک پوتا اپنے بیمار دادا کے ماضی سے جڑی یادوں تک پہنچتا ہے۔ دادا ذہنی طور پر اپنی جوانی کے اس دور میں واپس چلے جاتے ہیں جب تقسیم نہیں ہوئی تھی اور وہ اپنے وطن اور اپنی پہلی محبت سے جدا نہیں ہوئے تھے۔تقسیم کے المیے کو پیش کرنے والی نمایاں فلموں اور ڈراموں میں درج ذیل شامل ہیں۔

دھرم پتر۔ 1961ء
یش چوپڑا کی بطور ہدایت کار پہلی فلم ’’دھرم پتر‘‘ تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے مذہبی تعصب اور ہندو مسلم اتحاد کے موضوع پر ایک اہم فلم ہے۔ فلم میں اس دور کے ہندو انتہا پسندانہ تعصبات کو دکھایا گیا ہے۔فلم کا مرکزی کردار ایک ایسے نوجوان کا ہے جو مسلمانوں کے خلاف شدید تعصب رکھتا ہے لیکن بعد میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اپنی پیدائش مسلمان خاندان میں ہوئی تھی۔فلم کی سب سے نمایاں خصوصیات میں ساحر لدھیانوی کے نغمے بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر وہ پیغام جس میں مذہب سے بالاتر ہوکر انسان بننے کی تلقین کی گئی ہے۔ تقسیم کے زخم تازہ ہونے کے زمانے میں اس طرح کی فلم بنانا اپنے آپ میں ایک جرات مندانہ قدم تھا۔
.webp)
گرم ہوا۔ 1973ء
’’گرم ہوا‘‘ تقسیم ہند کے موضوع پر ہندوستانی سنیما کی اہم ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ عصمت چغتائی کی ایک غیر مطبوعہ کہانی سے متاثر تھی جبکہ اس کا اسکرین پلے کیفى اعظمی اور شما زیدی نے تحریر کیا تھا۔فلم میں بلراج ساہنی نے ایک عمر رسیدہ مسلمان خاندان کے سربراہ کا کردار ادا کیا ہے جو تقسیم کے بعد آگرہ چھوڑ کر پاکستان جانے کے بجائے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کرتا ہے۔لیکن وطن میں رہنے کا یہ فیصلہ آسان ثابت نہیں ہوتا۔ دوستوں اور پڑوسیوں کا رویہ بدل جاتا ہے۔ معاشی مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور خاندان کو مسلسل یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ شاید ان کا تعلق اب اس سرزمین سے نہیں رہا۔’’گرم ہوا‘‘ ان لوگوں کی داستان ہے جنہوں نے تقسیم کے بعد بھی اپنے وطن کو چھوڑنے سے انکار کیا اور پھر بدلتے ہوئے سماجی اور سیاسی ماحول میں اپنی شناخت اور بقا کی جنگ لڑی۔
تماشا۔ 1988ء
بھیشم ساہنی کے ناول پر مبنی ’’تماس‘‘ کو گووند نہلانی نے ہدایت کاری کے ذریعے ٹیلی ویژن کے ایک یادگار ڈرامے میں تبدیل کیا۔اس میں تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات اور ان حالات کو پیش کیا گیا ہے جن میں سیاسی اور مذہبی مفادات رکھنے والے عناصر عام لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتے ہیں۔فلم اور ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ نفرت کا سیاسی استعمال کس طرح عام انسانوں کو تشدد کا شکار بنا دیتا ہے۔ اوم پوری۔ امریش پوری۔ دیپا ساہی۔ اے کے ہنگل۔ پنکج کپور اور سعید جعفری سمیت کئی معروف فن کاروں نے اس میں اہم کردار ادا کیے۔’’تماس‘‘ ہندوستانی ٹیلی ویژن پر بننے والی ان تخلیقات میں شامل ہے جو تقسیم کے انسانی المیے کو انتہائی سنجیدہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔
1947 ارتھ۔ 1998ء
دیپا مہتا کی فلم ’’1947 ارتھ‘‘ تقسیم کے نفسیاتی اور انسانی اثرات کی ایک انتہائی مؤثر تصویر پیش کرتی ہے۔فلم لاہور کے پس منظر میں ایک ایسے نوجوان دل نواز کی کہانی بیان کرتی ہے جو ابتدا میں اپنے ہندو اور سکھ دوستوں کے ساتھ محبت اور ہم آہنگی سے زندگی گزارتا ہے۔ لیکن حالات بدلنے کے ساتھ اس کی شخصیت بھی تبدیل ہونے لگتی ہے۔خوف۔ محرومی۔ محبت میں ناکامی اور اپنے خاندان کو فرقہ وارانہ تشدد میں کھونے کا صدمہ اسے ایک سخت اور بے رحم انسان میں تبدیل کردیتا ہے۔فلم یہ سوال اٹھاتی ہے کہ ایک عام اور خوش مزاج انسان کو حالات کس طرح نفرت اور تشدد کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ عامر خان اور نندیتا داس کی اداکاری نے فلم کے انسانی پہلو کو مزید مؤثر بنایا۔

ٹرین ٹو پاکستان۔ 1998ء
خوشونت سنگھ کے معروف ناول پر بننے والی ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ ایک ایسے فرضی پنجابی گاؤں کی کہانی ہے جو نئی بننے والی ہندوستان پاکستان سرحد کے قریب واقع ہے۔گاؤں میں ہندو۔ سکھ اور مسلمان ایک ساتھ زندگی گزارتے ہیں لیکن تقسیم کے بعد حالات تیزی سے تبدیل ہوجاتے ہیں۔پاکستان سے ایک ٹرین گاؤں پہنچتی ہے جس میں ہلاک کیے گئے سکھوں اور ہندوؤں کی لاشیں موجود ہوتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد گاؤں کا ماحول نفرت اور انتقام سے بھر جاتا ہے۔اسی دوران مسلمانوں کو پاکستان منتقل کرنے والی ایک اور ٹرین روانہ ہونے والی ہوتی ہے اور بعض انتہا پسند عناصر اس ٹرین میں سوار مسلمانوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔فلم میں محبت۔ خوف۔ انتقام اور انسانیت کے درمیان کشمکش کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ہی رام۔ 2000ء
کمل ہاسن کی ہدایت کاری میں بننے والی ’’ہی رام‘‘ تقسیم کے دوران ہونے والے تشدد اور اس کے انسانی نفسیات پر پڑنے والے اثرات کو ایک مختلف زاویے سے پیش کرتی ہے۔فلم کا مرکزی کردار ساکیت رام بنیادی طور پر ایک عام اور شریف انسان ہے لیکن تقسیم کے دوران اپنی بیوی کو کھونے کے بعد اس کے اندر انتقام اور غصے کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ہندو انتہا پسند عناصر اس کے غم اور غصے کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے مہاتما گاندھی کے قتل کے منصوبے کا حصہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔فلم میں شاہ رخ خان نے ساکیت رام کے پٹھان دوست کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ کردار بالآخر اسے دوبارہ انسانیت کی طرف لوٹنے میں مدد دیتا ہے۔
غدر۔ ایک پریم کتھا۔ 2001ء
’’غدر۔ ایک پریم کتھا‘‘ تقسیم کے پس منظر میں بننے والی ایک مقبول فلم ہے جس میں ایک محبت کی کہانی کو تاریخی ہنگامے کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔فلم میں تارا سنگھ نامی ٹرک ڈرائیور اور پاکستانی لڑکی سکینہ کی محبت کی داستان بیان کی گئی ہے۔ تقسیم کے تشدد کے دوران سکینہ اپنے خاندان سے جدا ہوجاتی ہے اور تارا سنگھ اس کا سہارا بنتا ہے۔فلم میں ایک طرف جذباتی محبت کی کہانی ہے تو دوسری طرف تقسیم کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔اگرچہ فلم میں ایکشن اور جذباتی مناظر نمایاں ہیں لیکن اس کے مرکز میں ایک ایسی محبت ہے جو مذہب اور سرحد کی تقسیم سے بالاتر دکھائی گئی ہے۔
بھاگ ملکھا بھاگ۔ 2013ء
’’بھاگ ملکھا بھاگ‘‘ براہ راست تقسیم کی مکمل کہانی نہیں بلکہ معروف ایتھلیٹ ملکھا سنگھ کی زندگی پر بننے والی فلم ہے۔ تاہم تقسیم فلم کے مرکزی کردار کی زندگی میں ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ملکھا سنگھ بچپن میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران اپنے والدین سے محروم ہوجاتے ہیں اور ایک پناہ گزین کی حیثیت سے ہندوستان پہنچتے ہیں۔مہاجر کیمپ میں گزرا ہوا بچپن اور تقسیم کی یادیں ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ بعد میں یہی صدمات ان کی زندگی اور کھیل کے سفر میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔فرحان اختر نے ملکھا سنگھ کا کردار ادا کیا ہے اور فلم ایک ایسے شخص کی جدوجہد دکھاتی ہے جو اپنے ماضی کے زخموں پر قابو پاکر عالمی سطح پر اپنی شناخت بناتا ہے۔
جوبلی۔ 2023ء
وکرمادتیہ موٹوانے کی ویب سیریز ’’جوبلی‘‘ آزادی کے بعد ہندوستان میں فلمی اسٹوڈیو کے دور کے عروج اور زوال کی کہانی بیان کرتی ہے۔کہانی کا آغاز 1947ء سے ہوتا ہے اور تقسیم اس کے کرداروں کی زندگیوں کو مختلف انداز میں متاثر کرتی ہے۔بنو د کو تشدد کے ماحول میں اداکاری کے میدان میں داخل ہونے کا موقع ملتا ہے جبکہ جے اپنے گھر سے محروم ہوکر خاندان کے ساتھ مہاجر کیمپ پہنچتا ہے۔ وہ فلمی دنیا میں قدم رکھنے کا خواب دیکھتا ہے۔اسی طرح سمترا کماری کی زندگی بھی تقسیم کے ہنگامے سے متاثر ہوتی ہے اور اس کی محبت ایک بار پھر ادھوری رہ جاتی ہے۔سیریز میں تقسیم کا براہ راست تشدد زیادہ دیر تک مرکزی موضوع نہیں رہتا لیکن اس کے اثرات کرداروں کی زندگی میں مسلسل موجود رہتے ہیں۔
فریڈم ایٹ مڈنائٹ۔ 2024ء
’’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘‘ تقسیم اور ہندوستان کی آزادی کے سیاسی پس منظر پر مبنی ایک اہم سیریز ہے۔ یہ ڈومینیک لاپیئر اور لیری کولنز کی معروف کتاب پر مبنی ہے۔سیریز میں ہندوستان کی آزادی سے قبل کے سیاسی حالات اور اقتدار کی منتقلی کے دوران پیش آنے والے واقعات کو پیش کیا گیا ہے۔جناح کی سیاست۔ جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل کے درمیان اختلافات۔ مہاتما گاندھی کی بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے کی کوششیں اور تقسیم کے فیصلے تک پہنچنے والے سیاسی حالات اس کی کہانی کا حصہ ہیں۔سیریز میں تقسیم کو صرف عوامی تشدد کے طور پر نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سیاسی عمل کے طور پر بھی دیکھا گیا ہے۔ مختلف کرداروں کے ذریعے اس دور کے سیاسی فیصلوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تقسیم ہند پر بننے والی فلموں اور ڈراموں کی یہ فہرست اس بات کی عکاس ہے کہ 1947ء کا سانحہ ہندوستانی سنیما کے لیے مسلسل اہم موضوع رہا ہے۔ مختلف فلم سازوں نے اسے مختلف زاویوں سے پیش کیا ہے۔کسی فلم میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کا دکھ ہے۔ کسی میں مذہبی نفرت کے نتیجے میں بدل جانے والے انسان کی کہانی ہے۔ کہیں عورت کے کرب کو مرکز بنایا گیاہے اور کہیں ایسے خاندانوں کی داستان بیان کی گئی ہے جنہوں نے اپنا وطن چھوڑنے سے انکار کیا۔ان تخلیقات کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ وہ ایک تاریخی واقعے کو محفوظ کرتی ہیں بلکہ اس لیے بھی ہے کہ وہ یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ نفرت اور تشدد عام انسان کی زندگی کو کس حد تک تباہ کرسکتے ہیں۔تقسیم کے تقریباً 80 برس بعد بھی اس موضوع پر فلمیں اور ڈرامے بن رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1947ء کا زخم صرف تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ برصغیر کے اجتماعی حافظے کا ایسا حصہ ہے جس کی بازگشت آج بھی سنی جاسکتی ہے۔