نئی دہلی: جمنا پار کرانے کے لیے کسانوں نے دریا میں اتارے ٹریکٹر، قیام، پانی اور پارکنگ کے لیے زمینیں فراہم کیں؛ تین روزہ اجتماع میں باہمی تعاون اور مذہبی رواداری کے مناظر نمایاں رہے
ہریانہ کے پانی پت ضلع کے رانا ماجرا میں منعقدہ تین روزہ تبلیغی اجتماع نے ہندو مسلم اتحاد، باہمی محبت اور سماجی ہم آہنگی کی ایک قابلِ ذکر مثال پیش کی۔ 31 اکتوبر سے 2 نومبر 2026 تک جاری رہنے والے اس اجتماع میں ملک کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس دوران مقامی ہندو برادری نے جس تعاون اور فراخ دلی کا مظاہرہ کیا، اس نے مذہبی رواداری اور باہمی احترام کی ایک خوب صورت تصویر پیش کی۔
اجتماع میں آنے والے شرکاء کو رہائش، آمد و رفت اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مقامی لوگوں نے اہم کردار ادا کیا۔ خاص طور پر جمنا ندی عبور کرنے والے شرکاء کی مدد کے لیے کسانوں اور مقامی باشندوں کی کوششیں توجہ کا مرکز بنیں۔ ان واقعات نے یہ ظاہر کیا کہ مذہبی شناخت سے بالاتر ہو کر انسانیت اور باہمی تعاون کے جذبے کو کس طرح عملی شکل دی جا سکتی ہے
جمنا ندی پار کرانے کے لیے کسانوں نے ٹریکٹر پیش کیے
اتر پردیش کی جانب سے آنے والے ہزاروں شرکاء کے لیے جمنا ندی عبور کرنا ایک بڑا مسئلہ تھا۔ طویل راستہ اختیار کرنے سے بچنے اور آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے رانا ماجرا اور آس پاس کے دیہات کے مقامی ہندو کسانوں نے اپنے ٹریکٹر دریا میں اتارے اور شرکاء کو دوسری جانب پہنچانے میں مدد کی۔
رپورٹس کے مطابق، کسانوں نے کئی گھنٹوں تک یہ خدمت انجام دی اور اس کے لیے کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کی اس کوشش سے اجتماع میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں کو دریا عبور کرنے میں سہولت ملی۔ مقامی کسانوں کا یہ تعاون اجتماع کے دوران ہندو مسلم بھائی چارے کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔
مہمانوں کے قیام اور سہولیات کے لیے زمینیں فراہم کیں
اجتماع میں شریک افراد کی بڑی تعداد کے پیش نظر رہائش، پینے کے پانی اور گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام ایک اہم ضرورت تھی۔ اس موقع پر مقامی ہندو خاندانوں اور زمینداروں نے اپنی زمینیں اور خالی جگہیں شرکاء کے استعمال کے لیے فراہم کیں۔
رپورٹس کے مطابق، بعض مقامی باشندوں نے یہ جگہیں بلا معاوضہ فراہم کیں تاکہ دور دراز سے آنے والے مہمانوں کو قیام اور دیگر سہولیات کے سلسلے میں دشواری پیش نہ آئے۔ اس تعاون نے اجتماع کے انتظامات کو آسان بنانے میں مدد دی اور مقامی آبادی کی مہمان نوازی کو بھی نمایاں کیا
Panipat Haryana Ijtema. Moment during dua when Maulana Saad Sahab participated. It is being reported that around 25 lakh (2.5 million) Muslims took part. -No Slogans, -No Provoking, -No Hate Mongering, This is what Islam teaches us. https://t.co/vRh4zHwBuW
— هارون خان (@iamharunkhan) November 4, 2026
نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مقامی نوجوانوں کا تعاون
اجتماع میں بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد کے باعث ٹریفک،پارکنگ اور دیگر انتظامی امور کو سنبھالنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس دوران مقامی ہندو نوجوانوں نے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوششوں میں حصہ لیا۔مقامی باشندوں کی اس شمولیت سے اجتماع کے انتظامات میں سہولت پیدا ہوئی۔ اس طرح مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک بڑے عوامی اجتماع کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
مذہبی شناخت سے بالاتر ہو کر انسانیت کا رشتہ
پانی پت کا یہ اجتماع صرف مذہبی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس دوران سامنے آنے والے باہمی تعاون کے واقعات نے سماجی ہم آہنگی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ کسانوں کا ٹریکٹر لے کر دریا میں اترنا، مقامی خاندانوں کا اپنی زمینیں مہمانوں کے لیے فراہم کرنا اور نوجوانوں کا انتظامی امور میں ہاتھ بٹانا ایسے اقدامات تھے جنہوں نے مذہبی شناخت سے بالاتر ہو کر انسانیت اور مہمان نوازی کے جذبے کو نمایاں کیا۔
یہ مناظر اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ ہندوستان کے دیہی معاشرے میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان باہمی تعاون اور مشترکہ زندگی کی روایت آج بھی موجود ہے۔ پانی پت کے اس اجتماع میں مقامی لوگوں کی شرکت اور تعاون نے گنگا جمنی تہذیب، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کا ایک مثبت پیغام پیش کیا
مولانا سعد کا امن اور محبت کا پیغام
اجتماع کے اہم مقرر دہلی کی نظام الدین مرکز مسجد کے مولانا محمد سعد کاندھلوی تھے۔ ان کے خطاب میں امن، انسانیت، باہمی احترام اور رواداری جیسے موضوعات پر زور دیا گیا۔رپورٹس کے مطابق، انہوں نے معاشرے میں نفرت سے گریز کرنے اور اختلافات کا جواب محبت، سمجھ داری اور امن کے ساتھ دینے کا پیغام دیا۔ ان کا یہ پیغام اجتماع کے دوران مقامی آبادی کی جانب سے پیش کیے گئے عملی تعاون کے تناظر میں بھی اہمیت اختیار کر گیا
اپنے خطاب میں مولانا سعد نے لوگوں سے پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرنے اور نیکی کے راستے پر چلنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور نفرت کا جواب محبت اور باہمی سمجھ بوجھ کے ساتھ امن کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی تنازعے کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کریں۔
تین روزہ اجتماع کے لیے تقریباً 180 ایکڑ اراضی پر انتظامات کیے گئے تھے۔ اس میں 60 ایکڑ رقبے پر بڑے بڑے خیمے نصب کیے گئے تھے جہاں شرکا کے قیام اور دیگر ضروریات کا انتظام تھا۔ اجتماع میں آنے والوں کے لیے پینے کے صاف پانی اور طہارت خانوں کے علاوہ کھانے پینے اور رہائش کی سہولتیں بھی فراہم کی گئی تھیں۔
Panipat Haryana Ijtema. Moment during dua when Maulana Saad Sahab participated. It is being reported that around 25 lakh (2.5 million) Muslims took part. -No Slogans, -No Provoking, -No Hate Mongering, This is what Islam teaches us. https://t.co/vRh4zHwBuW
— هارون خان (@iamharunkhan) November 4, 2026
شرکا کی غیر معمولی تعداد کے پیش نظر پولیس اور مقامی انتظامیہ نے اجتماع گاہ اور اس کے اطراف میں حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ اجتماع کی ایک اہم خصوصیت مقامی ہندو برادری کا تعاون بھی رہا۔ مقامی ہندو بھائیوں نے شرکا کی مدد کرنے کے ساتھ رضاکارانہ خدمات انجام دیں اور انتظامات میں ہاتھ بٹایا۔ اس طرح مذہبی اجتماع کے دوران ہندو مسلم بھائی چارے اور باہمی تعاون کی ایک خوبصورت مثال بھی دیکھنے کو ملی۔2 نومبر کو اجتماعی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہونے والے اس اجتماع میں ملک کے مختلف علاقوں اور بیرون ملک سے آئے عقیدت مندوں نے شرکت کی۔